Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #18 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10K Views

توکل کی اہمیت احادیث کی روشنی میں

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

توکل کی اہمیت احادیث کی روشنی میں

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

توکل کی اہمیت احادیث کی روشنی میں

حدیث :(۱)حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ،وہ فرما تے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:” اگر تم اللہ پر کما حقہ توکل کرو تووہ تمھیں اس پرندے کے مثل رزق عطا کرے گا جو صبح خالی پیٹ جاتا ہے اور شام کو شکم سیر ہوکر واپس ہوتا ہے“۔( المسند لاحمد بن حنبل :۳۰/۱،الزھد : ۱۸، الترمذی :رقم الحدیث:۲۳۴۴) حدیث :(۲)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ !میں نے تیرے لیے اپنا سر تسلیم خم کیا، تجھ پر ایمان لایا ، تجھ پر توکل ا ور بھروسہ کیا ، تیری بارگاہ عالی میں رجوع کیا، تجھ سے تیری رضا کی خاطرمخاصمہ کیا ، تیری عزت و جلال کی پناہ لی، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو ایسا حی ہے کہ تیرے لیے بقا ہے جب کہ تمام جن و انس فنا ہو جائیں گے“۔(احمد:۳۰۲/۱، المسلم:۴/۲۰۸۶) حدیث :(۳)امام اوزاعی علیہ الرحمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے:” اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے محبوب و پسندیدہ اعمال ، تجھ پر سچا بھروسہ اور تجھ سے حسن ظن کی توفیق مانگتا ہوں“۔(التاریخ الکبیر:۲۵۲/۱) حدیث :(۴)حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ ! مجھے ان لوگوں میں سے بنا دےجنھوں نے تجھ پر توکل کیا اور تو ان کا کارساز رہا، تجھ سے ہدایت طلب کی تو تو نے ہدایت عطا فرمائی، بھروسہ اور مدد کےطالب ہوئے تو تونے ان کی امداد فرمائی“۔(اللسان ۸۷/۳۸۶/۲) حدیث :(۵)حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا: ”توکل علی اللہ ایمان کا جامع ہے“۔(الحلیۃ لابی نعیم:۲۷۴/۴شعب الایمان:ق ۲۳۰/۱) حدیث :(۶)حضرت ابن قسیم سے روایت ہے، انھوں نے فرمایاکہ میں ابن شبرمہ کے پاس آیا تھا کہ ایک شخص نے کہا: کیا میں تمھیں ایک ایسی حدیث نہ سناؤں جو میرے پاس نبی کریم ﷺ سے پہنچی ہے ، ابن شبرمہ نے کہا : بیان کریں، آپ نے بہت کم ہی حدیث حسن بیان کی ہے، انھوں نے کہا: چارچیزیں ایسی ہیں جنھیں اللہ صرف اپنے محبوب بندوں کو عطا فرماتا ہے ، ابن شبرمہ نے کہا : وہ کیا ہیں؟ انھوں نے کہا: (۱) خاموشی یہ اول العبادات ہے، (۲)اللہ عز وجل پر توکل کرنا، (۳)تواضع و انکساری سے پیش آنا، (۴)اور دنیا سے بے رغبتی ظاہر کرنا۔ ﴿(الکبیر للطبرانی:۲۲۹/۱،المجروحین لابن حبان:۱۹۶/۲) حدیث :(۷)حضرت عمرو بن حسان سے روایت ہے اور اسی روایت کوموسیٰ نے محاربی سے سنا ، انھوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”اے لوگو ! اللہ عز و جل پر توکل کرو، اس پر بھروسہ کرو، کیوں کہ وہ اپنے ماسوا سے تمھارے لیے کافی ہے“ ۔ ﴿(الجرح و التعدیل :۱۰۵/۶) حدیث :(۸)حضرت یحییٰ بن کثیر سے روایت ہے، انھوں نے کہاکہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا: ”اے میرے بیٹے! دنیا ایک گہرا سمندر ہے جس میں بہت سے لوگ غرق ہو چکے ہیں ، اگر تم چاہتے ہو کہ تمھاری کشتی اس میں سلا مت رہے تو اللہ عزوجل پر ایمان لاؤ ، اسے بندگئیِ خدا کے عمل سے ستھرا کرلو اور اس کی بادبانی توکل علی اللہ پر رکھویقینا تم کامیاب ہو جاؤگے“۔(التہذیب:۳۶۹/۶) حدیث :(۹)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جسے یہ بات پسندہو کہ وہ لوگوں میں قوی تر ہو تو چاہیے کہ اللہ عزوجل پر توکل کرے۔(التہذیب :۷/۳۰۶/۶/الحاکم:۲۷۰/۴) حدیث :(۱۰)حضرت معاویہ بن قرہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن کے کچھ افراد سے ملے اور پوچھا : تم کون لوگ ہو ؟ انھوں نے جوابا کہا: ”ہم متوکلین ہیں “۔ آپ نے فرمایا: ”بلکہ تم انحصار کرنے والےہو (لوگوں کےسازوسامان پر) یقینا متوکل تو وہ ہے جو زمین پر دانہ ڈال کر اللہ عزوجل پر توکل کرتا ہے“۔(الجرح و التعدیل :۳۸۶/۶)

توکل کی اہمیت احادیث کی روشنی میں

حدیث :(۱۱)حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں آیا اور دریافت کیا : یا رسول اللہ ﷺ! کیا میں اونٹنی کو باندھ دوں اور توکل کروں یا چھوڑ کر؟ آپ نے فرمایا :” اسے باندھ کر توکل کرو“۔(الجامع للترمذی:رقم الحدیث :۲۵۱۷،الحلیۃ لابی نعیم :۳۹۰/۸ ) حدیث :(۱۲)حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عبد اللہ بن سلام اور سلمان کی ملاقات ہوئی تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ”اگر تم مجھ سے پہلے انتقال کرجاؤتو مجھ سے ملاقات کرکے خبر دینا کہ تم اپنے رب سے کس حال میں ملے اور اگر میں پہلے مرجاؤں تو میں خبر دوں گا ، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : کیا مردے، زندوں سے ملتے ہیں؟ جواب دیا: ہاں ، جنت میں ان کی ارواح جہاں کا ارادہ کرتی ہیں پہنچ جاتی ہیں۔ کہتے ہیں:ان میں ایک کی وفات ہوئی تو وہ اس سے خواب میں ملا اور کہا: ”توکل کر اور خوش رہ کہ میں نے متوکل کے مثل کبھی نہیں دیکھا“۔(الشعب للبیہقی،۱؍رقم الحدیث ۲۳۵بطریق عبداللہ بن صالح،کاتب اللیث ،بروایت یحییٰ بن سعید) حدیث :(۱۳) حضرت خلید عصری کی اہلیہ نے روایت کی ہے کہ میں نے خلید کو کہتے ہوئے سنا : کوئی بندہ جسے حاجت پیش آئے پھر وہ اللہ عزوجل پر توکل کرتے ہوئے قرض لے اور اسے اپنے اہل و عیال پر بغیر اسراف کے خرچ کرے ، پھرقرض ادا کیے بغیر اسے موت آجائے تواللہ تعالیٰ اپنےملائکہ سے فرماتا ہے: ”میرے اس بندے کو ایک حاجت پیش آئی اور اس نے مجھ پر توکل ا ور بھروسہ کرتے ہوئے قرض لیا پھر اپنےاہل پر بغیر اسراف کے خرچ کیا ۔ میں تمھیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس کا دَین ادا کردیا اورمیں نے اس کو اس کے حق سے راضی کرلیا“۔ (زوائد الزواہد/۳۷/۳۳۶ المیزان للذھبی:۳۹۳/۴) حدیث :(۱۴)حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: ”عزت اور مال داری طلب ِتوکل میں سرگرداں رہتے ہیں۔ جب یہ دونوں اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں تو اقامت اختیار کر لیتے ہیں“۔(الحلیۃ لابی نعیم :۶/۳۰۵/۶) حدیث :(۱۵)فیض بن اسحاق سے روایت ہے،انھوں نے کہا کہ میں نے فضیل بن عیاض سے کہا: کیاتم مجھے توکل کے بارے میں بتاسکتے ہو؟ تو انھوں نے کہا: آہ ! یہ کیسے ہو سکتا ہےکہ تم اس پر توکل کرو جب کہ تمھیں دو امروں کا اختیار ہوتا ہے کہ تم اس کے فیصلے کوپسندکرویاناپسند، تمھارا کیا حال ہوگا جب تم گھر میں داخل ہو کر اپنی زوجہ کو اندھی، دختر کو اپاہج اور تم خود فالج سے شکار ہو جاؤ تم اس وقت اس کے فیصلے سے کیسے راضی ہوگے؟ میں نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ میں صبر نہ کرسکوں گا، انھوں نے کہا: تم کیسے صبر نہ کرسکو گے، جب کہ تمھارے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ تم عافیت و مصیبت میں اس کی رضا پر راضی رہو ، اس پر بے صبری کا مظاہرہ نہ کروجو تم سے روک دیا گیااور اس پر خوش رہوجو تمھیں عطا کیا جائے۔ انھوں نے کہا: پھر ایک شخص کا ذکرکیا( اللہ اسے بلندی عطا فرمائے) اس نے کہا: بےشک میں سجدے میں یہ کہنا پسند کرتا ہوں: اے اللہ! میں نے تجھ پر توکل کیا۔( تاریخ بغداد للخطیب:۳۱/۴۳۲/۷ ) حدیث :(۱۶)حضرت عون بن عبد اللہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ایک شخص عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آزمائش کے دور میں مصر کے ایک باغ میں رنجیدہ خاطر بیٹھا تھا ، اس کے ہاتھ میں ایک چیز تھی جس سے وہ زمین کو کرید رہا تھا، اچانک اس نے سر اٹھایا تو اس کے سامنے پھاوڑا والا موجود تھا ۔اس نے کہا: اے شخص! تجھے کیا ہوا کہ رنجیدہ ہے؟ (راوی کہتے ہیں گویا اسے حقیر سمجھتے ہوئے اس نے کہا تھا) اس نے جواب دیا :کچھ نہیں. پھاوڑا والے نے کہا: کیا دنیا کے لیے رنجیدہ ہے؟ بےشک دنیا تو موجود برتنے کی چیز ہے جس سے نیک و بد کھاتے ہیں اور آخرت ایک وقت صادق ہے جہاں ایسے بادشاہ کا فیصلہ نافذ ہوگا جو حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے والا ہے ، یہاں تک کہ ا س کے لیے کچھ جوڑ کا ذکر کیا جیسے گوشت کے جوڑ۔ جس نے ذرا بھی خطا کی حق سے خطا کی ، یہ بات سن کر اچھی لگی، اس نے کہا: پھر مسلمان اس میں کیوں مبتلا ہیں؟ انھوں نے کہا: اللہ مسلمانوں کی بھلائی کی فکر کی وجہ سےتمہیں نجات عطا فرمائے گا، اس شخص کے بارے میں پوچھو جس نے اللہ سے سوال کیا تو نہیں ملا ، اس کی بارگاہ میں دعا کی تو قبول نہیں ہوئی، اس پر توکل کیا تو اس کے لیے کافی نہ ہوا، اس پر بھروسہ کیا تو نجات نہ پائی۔ تو اس نے کہا: میں نے دعا کو غنیمت سمجھا۔ اے اللہ! میری حفاظت فرما اورمجھ سے دوسروں کی حفاظت فرما ۔ پھر فتنہ اس کے لیے ظاہر ہو گیااور اس کی وجہ سے کوئی دوسرا فتنہ میں مبتلا نہیں ہوا۔(الحلیۃ لابی نعیم :۲۴۴/۴) حدیث :(۱۷)حضرت عباد بن منصور سے روایت ہے، انھوں نے کہا: حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے توکل کے بارے میں سوال ہوا تو انھوں نے کہا: توکل،اللہ رب العزت کی رضا سے راضی رہنے کانام ہے۔(التہذیب:۵/۱۰۳۔۱۰۵۔) حدیث :(۱۸)حضرت عبد الجلیل سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا : بےشک بندے کا توکل یہ ہے کہ وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھے۔(المیزان للذہبی: ۲/ ۵۳۵۔) حدیث :(۱۹)حضرت مغیرہ بن عباد سے روایت ہے کہ ایک راہب سے متوکل کے بارے میں پوچھا گیا ، اُس راہب نے جواب دیا : ”متوکل وہ ہے جو ہر محبوب و مکروہ شی پر اللہ عزوجل کے فیصلہ سے راضی رہے“۔

توکل کی اہمیت احادیث کی روشنی میں

حدیث :(۲۰)حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جوشخص یہ پڑھے: ”بِسْمِ اللہِ ،تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللّٰہِ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ“ ” اللہ کے نام سے شروع ، میں نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا ، اس کے سوا کوئی اور طاقت وقوت والا نہیں “تو اس سے اس وقت کہا جائےگا:تیرے لیے اللہ کافی ہے اور تو شیطان کے مکرو فریب سے دور رکھا گیا ۔( ابو داؤد:۵۰۹۵، ترمذی:۳۴۲۶۔) حدیث:( ۲۱ )حضرت عبداللہ بن ضمرہ سے روایت ہے کہ حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جب انسان گھر سے نکلتے وقت کہہ لے: ”بِسْمِ اللہِ ،تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللّٰہِ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ“ تو فرشتہ کہتا ہے : تجھے ہدایت دی گئی، تیری حفاظت کی گئی اور تجھے دشمن (شیطان) کے شر سے محفوظ رکھا گیا۔ حضرت کعب نے فرمایاکہ پھر شیاطین آکر کہتے ہیں : ایسے بندے سے کس چیز کی خواہش رکھتے ہو جسے ہدایت دی گئی اور محفوظ و مامون رکھا گیا۔ (الحلیۃ لابی نعیم: ۵/ ۳۸۹،مصنف عبد الرزاق:۳۱۔) حدیث:( ۲۲ )حضرت مجاہدرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: انسان کو مسجد سے نکلنے کے وقت یہ کہنا چاہیے: ”بِسْمِ اللہِ ،تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللّٰہِ ، اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا خَرَجْتُ اِلَیْہِ“ ”اللہ کے نام سے شروع کیا ، اس پر توکل کیا ، اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتاہوں ان برائیوں سے جن کی طرف میں نکلا“۔ حدیث:( ۲۳ )حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ اپنے حجرۂ اقدس سے یہ پڑھتے ہوئے نکلتے: بِسْمِ اللہِ ، وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ، اَلتُّکْلَانُ عَلٰی اللّٰہِ“ ترجمہ :” اللہ کے نام سے شروع ، اس کے سوا کسی کو طاقت و قوت نہیں اور اسی پر بھروسہ ہے“۔ حدیث:( ۲۴)حضرت سفیان ثوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے : اِنَّہٗ لَیْسَ لَہٗ سُلْطٰنٌ عَلَی الَّذِینَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ۔ (النحل: ۹۹) ترجمہ :بے شک شیطان کا ان پر کوئی قابو نہیں جو ایمان لائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ شیطان کا ان پر کوئی قابو نہیں کہ ایسے گناہ پر آمادہ کرے جس کی بخشش و معافی نہ ہو . (ابن جریر:۱۴/ ۱۱۷، الحلیۃ لابی نعیم:۷/ ۷۶۔) توکل کی اہمیت قراٰن و احادیث کی روشنی میں توکل کی اہمیت احادیث کہ روشنی میں

Kutubahu & Verified by:

<h2>توکل کی اہمیت احادیث کی روشنی میں</h2> حدیث :(۱)حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ،وہ فرما تے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:” اگر تم اللہ پر کما حقہ توکل کرو تووہ تمھیں اس پرندے کے مثل رزق عطا کرے گا جو صبح خالی پیٹ جاتا ہے اور شام کو شکم سیر ہوکر واپس ہوتا ہے“۔( المسند لاحمد بن حنبل :۳۰/۱،الزھد : ۱۸، الترمذی :رقم الحدیث:۲۳۴۴) حدیث :(۲)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ !میں نے تیرے لیے اپنا سر تسلیم خم کیا، تجھ پر ایمان لایا ، تجھ پر توکل ا ور بھروسہ کیا ، تیری بارگاہ عالی میں رجوع کیا، تجھ سے تیری رضا کی خاطرمخاصمہ کیا ، تیری عزت و جلال کی پناہ لی، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو ایسا حی ہے کہ تیرے لیے بقا ہے جب کہ تمام جن و انس فنا ہو جائیں گے“۔(احمد:۳۰۲/۱، المسلم:۴/۲۰۸۶) حدیث :(۳)امام اوزاعی علیہ الرحمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے:” اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے محبوب و پسندیدہ اعمال ، تجھ پر سچا بھروسہ اور تجھ سے حسن ظن کی توفیق مانگتا ہوں“۔(التاریخ الکبیر:۲۵۲/۱) حدیث :(۴)حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ ! مجھے ان لوگوں میں سے بنا دےجنھوں نے تجھ پر توکل کیا اور تو ان کا کارساز رہا، تجھ سے ہدایت طلب کی تو تو نے ہدایت عطا فرمائی، بھروسہ اور مدد کےطالب ہوئے تو تونے ان کی امداد فرمائی“۔(اللسان ۸۷/۳۸۶/۲) حدیث :(۵)حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا: ”توکل علی اللہ ایمان کا جامع ہے“۔(الحلیۃ لابی نعیم:۲۷۴/۴شعب الایمان:ق ۲۳۰/۱) حدیث :(۶)حضرت ابن قسیم سے روایت ہے، انھوں نے فرمایاکہ میں ابن شبرمہ کے پاس آیا تھا کہ ایک شخص نے کہا: کیا میں تمھیں ایک ایسی حدیث نہ سناؤں جو میرے پاس نبی کریم ﷺ سے پہنچی ہے ، ابن شبرمہ نے کہا : بیان کریں، آپ نے بہت کم ہی حدیث حسن بیان کی ہے، انھوں نے کہا: چارچیزیں ایسی ہیں جنھیں اللہ صرف اپنے محبوب بندوں کو عطا فرماتا ہے ، ابن شبرمہ نے کہا : وہ کیا ہیں؟ انھوں نے کہا: (۱) خاموشی یہ اول العبادات ہے، (۲)اللہ عز وجل پر توکل کرنا، (۳)تواضع و انکساری سے پیش آنا، (۴)اور دنیا سے بے رغبتی ظاہر کرنا۔ ﴿(الکبیر للطبرانی:۲۲۹/۱،المجروحین لابن حبان:۱۹۶/۲) حدیث :(۷)حضرت عمرو بن حسان سے روایت ہے اور اسی روایت کوموسیٰ نے محاربی سے سنا ، انھوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”اے لوگو ! اللہ عز و جل پر توکل کرو، اس پر بھروسہ کرو، کیوں کہ وہ اپنے ماسوا سے تمھارے لیے کافی ہے“ ۔ ﴿(الجرح و التعدیل :۱۰۵/۶) حدیث :(۸)حضرت یحییٰ بن کثیر سے روایت ہے، انھوں نے کہاکہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا: ”اے میرے بیٹے! دنیا ایک گہرا سمندر ہے جس میں بہت سے لوگ غرق ہو چکے ہیں ، اگر تم چاہتے ہو کہ تمھاری کشتی اس میں سلا مت رہے تو اللہ عزوجل پر ایمان لاؤ ، اسے بندگئیِ خدا کے عمل سے ستھرا کرلو اور اس کی بادبانی توکل علی اللہ پر رکھویقینا تم کامیاب ہو جاؤگے“۔(التہذیب:۳۶۹/۶) حدیث :(۹)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جسے یہ بات پسندہو کہ وہ لوگوں میں قوی تر ہو تو چاہیے کہ اللہ عزوجل پر توکل کرے۔(التہذیب :۷/۳۰۶/۶/الحاکم:۲۷۰/۴) حدیث :(۱۰)حضرت معاویہ بن قرہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن کے کچھ افراد سے ملے اور پوچھا : تم کون لوگ ہو ؟ انھوں نے جوابا کہا: ”ہم متوکلین ہیں “۔ آپ نے فرمایا: ”بلکہ تم انحصار کرنے والےہو (لوگوں کےسازوسامان پر) یقینا متوکل تو وہ ہے جو زمین پر دانہ ڈال کر اللہ عزوجل پر توکل کرتا ہے“۔(الجرح و التعدیل :۳۸۶/۶) <h3>توکل کی اہمیت احادیث کی روشنی میں</h3> حدیث :(۱۱)حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں آیا اور دریافت کیا : یا رسول اللہ ﷺ! کیا میں اونٹنی کو باندھ دوں اور توکل کروں یا چھوڑ کر؟ آپ نے فرمایا :” اسے باندھ کر توکل کرو“۔(الجامع للترمذی:رقم الحدیث :۲۵۱۷،الحلیۃ لابی نعیم :۳۹۰/۸ ) حدیث :(۱۲)حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عبد اللہ بن سلام اور سلمان کی ملاقات ہوئی تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ”اگر تم مجھ سے پہلے انتقال کرجاؤتو مجھ سے ملاقات کرکے خبر دینا کہ تم اپنے رب سے کس حال میں ملے اور اگر میں پہلے مرجاؤں تو میں خبر دوں گا ، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : کیا مردے، زندوں سے ملتے ہیں؟ جواب دیا: ہاں ، جنت میں ان کی ارواح جہاں کا ارادہ کرتی ہیں پہنچ جاتی ہیں۔ کہتے ہیں:ان میں ایک کی وفات ہوئی تو وہ اس سے خواب میں ملا اور کہا: ”توکل کر اور خوش رہ کہ میں نے متوکل کے مثل کبھی نہیں دیکھا“۔(الشعب للبیہقی،۱؍رقم الحدیث ۲۳۵بطریق عبداللہ بن صالح،کاتب اللیث ،بروایت یحییٰ بن سعید) حدیث :(۱۳) حضرت خلید عصری کی اہلیہ نے روایت کی ہے کہ میں نے خلید کو کہتے ہوئے سنا : کوئی بندہ جسے حاجت پیش آئے پھر وہ اللہ عزوجل پر توکل کرتے ہوئے قرض لے اور اسے اپنے اہل و عیال پر بغیر اسراف کے خرچ کرے ، پھرقرض ادا کیے بغیر اسے موت آجائے تواللہ تعالیٰ اپنےملائکہ سے فرماتا ہے: ”میرے اس بندے کو ایک حاجت پیش آئی اور اس نے مجھ پر توکل ا ور بھروسہ کرتے ہوئے قرض لیا پھر اپنےاہل پر بغیر اسراف کے خرچ کیا ۔ میں تمھیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس کا دَین ادا کردیا اورمیں نے اس کو اس کے حق سے راضی کرلیا“۔ (زوائد الزواہد/۳۷/۳۳۶ المیزان للذھبی:۳۹۳/۴) حدیث :(۱۴)حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: ”عزت اور مال داری طلب ِتوکل میں سرگرداں رہتے ہیں۔ جب یہ دونوں اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں تو اقامت اختیار کر لیتے ہیں“۔(الحلیۃ لابی نعیم :۶/۳۰۵/۶) حدیث :(۱۵)فیض بن اسحاق سے روایت ہے،انھوں نے کہا کہ میں نے فضیل بن عیاض سے کہا: کیاتم مجھے توکل کے بارے میں بتاسکتے ہو؟ تو انھوں نے کہا: آہ ! یہ کیسے ہو سکتا ہےکہ تم اس پر توکل کرو جب کہ تمھیں دو امروں کا اختیار ہوتا ہے کہ تم اس کے فیصلے کوپسندکرویاناپسند، تمھارا کیا حال ہوگا جب تم گھر میں داخل ہو کر اپنی زوجہ کو اندھی، دختر کو اپاہج اور تم خود فالج سے شکار ہو جاؤ تم اس وقت اس کے فیصلے سے کیسے راضی ہوگے؟ میں نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ میں صبر نہ کرسکوں گا، انھوں نے کہا: تم کیسے صبر نہ کرسکو گے، جب کہ تمھارے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ تم عافیت و مصیبت میں اس کی رضا پر راضی رہو ، اس پر بے صبری کا مظاہرہ نہ کروجو تم سے روک دیا گیااور اس پر خوش رہوجو تمھیں عطا کیا جائے۔ انھوں نے کہا: پھر ایک شخص کا ذکرکیا( اللہ اسے بلندی عطا فرمائے) اس نے کہا: بےشک میں سجدے میں یہ کہنا پسند کرتا ہوں: اے اللہ! میں نے تجھ پر توکل کیا۔( تاریخ بغداد للخطیب:۳۱/۴۳۲/۷ ) حدیث :(۱۶)حضرت عون بن عبد اللہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ایک شخص عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آزمائش کے دور میں مصر کے ایک باغ میں رنجیدہ خاطر بیٹھا تھا ، اس کے ہاتھ میں ایک چیز تھی جس سے وہ زمین کو کرید رہا تھا، اچانک اس نے سر اٹھایا تو اس کے سامنے پھاوڑا والا موجود تھا ۔اس نے کہا: اے شخص! تجھے کیا ہوا کہ رنجیدہ ہے؟ (راوی کہتے ہیں گویا اسے حقیر سمجھتے ہوئے اس نے کہا تھا) اس نے جواب دیا :کچھ نہیں. پھاوڑا والے نے کہا: کیا دنیا کے لیے رنجیدہ ہے؟ بےشک دنیا تو موجود برتنے کی چیز ہے جس سے نیک و بد کھاتے ہیں اور آخرت ایک وقت صادق ہے جہاں ایسے بادشاہ کا فیصلہ نافذ ہوگا جو حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے والا ہے ، یہاں تک کہ ا س کے لیے کچھ جوڑ کا ذکر کیا جیسے گوشت کے جوڑ۔ جس نے ذرا بھی خطا کی حق سے خطا کی ، یہ بات سن کر اچھی لگی، اس نے کہا: پھر مسلمان اس میں کیوں مبتلا ہیں؟ انھوں نے کہا: اللہ مسلمانوں کی بھلائی کی فکر کی وجہ سےتمہیں نجات عطا فرمائے گا، اس شخص کے بارے میں پوچھو جس نے اللہ سے سوال کیا تو نہیں ملا ، اس کی بارگاہ میں دعا کی تو قبول نہیں ہوئی، اس پر توکل کیا تو اس کے لیے کافی نہ ہوا، اس پر بھروسہ کیا تو نجات نہ پائی۔ تو اس نے کہا: میں نے دعا کو غنیمت سمجھا۔ اے اللہ! میری حفاظت فرما اورمجھ سے دوسروں کی حفاظت فرما ۔ پھر فتنہ اس کے لیے ظاہر ہو گیااور اس کی وجہ سے کوئی دوسرا فتنہ میں مبتلا نہیں ہوا۔(الحلیۃ لابی نعیم :۲۴۴/۴) حدیث :(۱۷)حضرت عباد بن منصور سے روایت ہے، انھوں نے کہا: حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے توکل کے بارے میں سوال ہوا تو انھوں نے کہا: توکل،اللہ رب العزت کی رضا سے راضی رہنے کانام ہے۔(التہذیب:۵/۱۰۳۔۱۰۵۔) حدیث :(۱۸)حضرت عبد الجلیل سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا : بےشک بندے کا توکل یہ ہے کہ وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھے۔(المیزان للذہبی: ۲/ ۵۳۵۔) حدیث :(۱۹)حضرت مغیرہ بن عباد سے روایت ہے کہ ایک راہب سے متوکل کے بارے میں پوچھا گیا ، اُس راہب نے جواب دیا : ”متوکل وہ ہے جو ہر محبوب و مکروہ شی پر اللہ عزوجل کے فیصلہ سے راضی رہے“۔ <h4>توکل کی اہمیت احادیث کی روشنی میں</h4> حدیث :(۲۰)حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جوشخص یہ پڑھے: ”بِسْمِ اللہِ ،تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللّٰہِ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ“ ” اللہ کے نام سے شروع ، میں نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا ، اس کے سوا کوئی اور طاقت وقوت والا نہیں “تو اس سے اس وقت کہا جائےگا:تیرے لیے اللہ کافی ہے اور تو شیطان کے مکرو فریب سے دور رکھا گیا ۔( ابو داؤد:۵۰۹۵، ترمذی:۳۴۲۶۔) حدیث:( ۲۱ )حضرت عبداللہ بن ضمرہ سے روایت ہے کہ حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جب انسان گھر سے نکلتے وقت کہہ لے: ”بِسْمِ اللہِ ،تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللّٰہِ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ“ تو فرشتہ کہتا ہے : تجھے ہدایت دی گئی، تیری حفاظت کی گئی اور تجھے دشمن (شیطان) کے شر سے محفوظ رکھا گیا۔ حضرت کعب نے فرمایاکہ پھر شیاطین آکر کہتے ہیں : ایسے بندے سے کس چیز کی خواہش رکھتے ہو جسے ہدایت دی گئی اور محفوظ و مامون رکھا گیا۔ (الحلیۃ لابی نعیم: ۵/ ۳۸۹،مصنف عبد الرزاق:۳۱۔) حدیث:( ۲۲ )حضرت مجاہدرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: انسان کو مسجد سے نکلنے کے وقت یہ کہنا چاہیے: ”بِسْمِ اللہِ ،تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللّٰہِ ، اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا خَرَجْتُ اِلَیْہِ“ ”اللہ کے نام سے شروع کیا ، اس پر توکل کیا ، اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتاہوں ان برائیوں سے جن کی طرف میں نکلا“۔ حدیث:( ۲۳ )حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ اپنے حجرۂ اقدس سے یہ پڑھتے ہوئے نکلتے: بِسْمِ اللہِ ، وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ، اَلتُّکْلَانُ عَلٰی اللّٰہِ“ ترجمہ :” اللہ کے نام سے شروع ، اس کے سوا کسی کو طاقت و قوت نہیں اور اسی پر بھروسہ ہے“۔ حدیث:( ۲۴)حضرت سفیان ثوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے : اِنَّہٗ لَیْسَ لَہٗ سُلْطٰنٌ عَلَی الَّذِینَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ۔ (النحل: ۹۹) ترجمہ :بے شک شیطان کا ان پر کوئی قابو نہیں جو ایمان لائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ شیطان کا ان پر کوئی قابو نہیں کہ ایسے گناہ پر آمادہ کرے جس کی بخشش و معافی نہ ہو . (ابن جریر:۱۴/ ۱۱۷، الحلیۃ لابی نعیم:۷/ ۷۶۔) <a href="https://urdu.masailworld.com/%d8%aa%d9%88%da%a9%d9%84-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85%db%8c%d8%aa-%d9%82%d8%b1%d8%a7%d9%97%d9%86-%d9%88%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d8%af%db%8c%d8%ab-%da%a9%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86%db%8c-%d9%85%db%8c/">توکل کی اہمیت قراٰن و احادیث کی روشنی میں</a> توکل کی اہمیت احادیث کہ روشنی میں

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...