تِرا ہی نام ہر دل کی صدا ہے
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
تِرا ہی نام ہر دل کی صدا ہے
تِرے ہی واسطے حمد و ثنا ہے تِری ہی یاد بہتر تذکرہ ہے
تو ہی کونین کا مشکل کشا ہے تِرا ہی نام ہر دل کی صدا ہے
تِرا ہی نور ہے ارض وسما میں زماں سے اور مکاں سے ماورا ہے
تِری پاکی ہے سب عیبوں سے مولا! تِری ہی ذات ہر شَے سے جدا ہے
تو ہی غفار ہے قہار تو ہے تو ہی ستّار اے میرے خدا ہے
تِری ذات و صفات ایسی ہیں جن کی نہ کوئی ابتدا نہ انتہا ہے
تِرا ہی نام لے لے کر کھلیں گل تِرا ہی ذکر بلبل کی صدا ہے
مُبَرّہ ہے جہت اور وقت سے تو یہی تو قمریوں کا چہچہا ہے
گنہگاروں کو بھی روزی تو ہی دے یہ تیرا فضل اور تیری عطا ہے
تِرا ہی فضل ہے مولا ہمیشہ ہمیں ایمان کی حاصل ضیا ہے
فضائیں کر رہی ہیں حمد تیری تِری تعریف میں ہر دم ہوا ہے
تو خلاقِ دو عالم ہے خدایا! ہر اک مخلوق پر تیری دَیا ہے
یگانہ ہے تو اپنی ذات میں اور تِرا ہر وصف وصفِ کبریا ہے
شہِ کونین کو دنیا میں بھیجا تِرا احسان یہ سب سے بڑا ہے
مجھے طیبہ میں تو مدفن عطا کر دلِ سرورؔ کی بس یہ التجا ہے
منتخب مدائح از: مولانا عبداللہ سرورؔ اعظمی نجمی مدرس: جامعہ حرا نجم العلوم، مہاپولی مدیر: ماڈرن پرنٹرس، ممبئی ۔