Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1747
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
11.2K Views
تکفیر مسلم میں احتیاط لازم ہے از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
تکفیر مسلم میں احتیاط لازم ہے از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
تکفیر مسلم میں احتیاط لازم ہے
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسٔلہ ذیل میں کہ ہم نے مذاق کے طور پر اپنی زبان سے یہ جملہ بولا کہ دار العلوم جو کہ دیوبندی مسلک کا مدرسہ ہے اس کی برانچ لاتے ہیں ہم اس جملہ پر قائم بھی نہیں بلکہ دیوبندیوں کو بدمذہب تسلیم کرتے ہیں یہ جملہ ایک مولوی(ظہیر عباس) صاحب کے سامنے بولا گیا مولوی صاحب اس جملے پر اس وقت کچھ بھی نہیں بولے اور اس کے بعد کئی دنوں تک یہی مولوی صاحب ہمارے پیچھے نمازیں بھی ادا کرتے رہے ساتھ میں بیٹھ کر کھانا بھی کھاتے رہے ملاقات اور مصافحہ بھی کرتے رہے قریب ایک ماہ تک مولوی صاحب ہمیں سنی مانتے رہے جب مولوی صاحب کی اور ہماری ذاتی رنجش ہوی یہاں ذاتی رنجش پر وضاحت کردوں ہوا یہ کہ مولوی صاحب مسجد میں خطیب تھے جمعہ کے دن مسجد میں بیان کرتے تھے لیکن مولوی صاحب ہر جمعہ کے دن نماز سے زیادہ ٹاںٔم لے لیتے تھے کچھ لوگ اس بات پر ناراض تھے کہ مولوی صاحب ٹاںٔم کی پابندی نہیں کرتے ہیں آخر ایک جمعہ کے دن کچھ لوگوں کا مولوی صاحب کے ساتھ بحث و مباحثہ ہوگیا مولوی صاحب نے کہا کہ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں جس کو یہاں نماز پڑھنی ہے پڑھے جس کو نہیں پڑھنی وہ جاسکتا ہےجب بات بڑھ گی ہم نے مولوی صاحب کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن مولوی صاحب نے مسجد کو چھوڑ دیا اس کے بعد مولوی صاحب نے الگ سے کام کرنا چاہا جس کی وجہ سے مولوی صاحب کو کامیاب ہونا تھا اور اس مسجد سے لوگوں کو توڑنا تھا تب سے مولوی صاحب نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ دیوبندی ہیں اور مسجد کی انتظامیہ دیوبندی ہے مولوی صاحب کو اپنے مفاد کی بات آئی تو گھر گھر جاکر لوگوں میں یہ بات پھیلانے لگے کہ مولوی عرفان دیوبندی ہے بدعقیدہ ہے مولوی صاحب نے اصلاح کے بجاۓ لوگوں میں انتشار کی کوشش کی جبکہ ہم مسلک حق مسلکِ اعلی حضرت پر قائم ہیں اور آئندہ بھی ہمیشہ اسی پر مضبوطی کے ساتھ قاںٔم رہنے کی دعا کرتے ہیں۔ اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ کیا مذاق میں یہ جملہ کہ دیوبندی مدرسہ کی برانچ لائیں گے کہنے کی وجہ سے ہم سنیت سے خارج ہوگئے؟ اور مولوی صاحب جو ہمیں مذکورہ جملہ پر دیوبندی ثابت کر رہے ہیں حالانکہ اس معاملہ کے بعد انہوں نے ہمارے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں اسکے علاوہ نشست وبرخاست بھی رکھتے رہے تو کیا وہ سنیت پر قائم رہے؟ شریعت مطہرہ کا جو بھی حکم ہو بیان فرمائیں ہم دل وجان سے ماننے کے لیے تیار ہیں- المستفتی:- محمد عرفان رضا قادری آملی مٹی ضلع راجوری الجواب بعون الملک الوھاب آپ کے قول:”ہم اس جملہ پر قائم بھی نہیں بلکہ دیوبندیوں کو بدمذہب تسلیم کرتے ہیں. ہم مسلک حق مسلکِ اعلی حضرت پر قائم ہیں اور آئندہ بھی ہمیشہ اسی پر مضبوطی کے ساتھ قاںٔم رہنے کی دعا کرتے ہیں” سے ظاہر ہے کہ آپ دیوبندیوں کو کافر ومرتد سمجھتے ہیں، اس لیے مذکورہ قول :”ضیاء العلوم جو کہ دیوبندی مسلک کا مدرسہ ہے اس کی برانچ لاتے ہیں”کی بنیاد پر امام صاحب کا آپ اور مسجد کی انتظامیہ کو دیوبندی قرار دینا درست نہیں ، کیوں کہ مذکورہ جملہ کا کفریہ ہونا متعین نہیں ہے،اور جس جملے کا کفریہ ہونا متعین نہ ہو اس کی بنیاد پر کسی کی تکفیر جائز نہیں ہے. البحرالرائق میں ہے : لَا يَكْفُرُ بِالْمُحْتَمَلِ؛ لِأَنَّ الْكُفْرَ نِهَايَةٌ في الْعُقُوبَةِ فَيَسْتَدْعِي نِهَايَةً في الْجِنَايَةِ وَمَعَ الِاحْتِمَالِ لَا نِهَايَةَ.(البحرالرائق باب احکام المرتدین) ان امام صاحب کو اس وعید سے ڈرنا چاہیے جو حدیث شریف اور تصریحات ائمہ وعلماء میں بلا وجہ شرعی کسی کی تکفیر کے بارے میں وارد ہے. حدیث شریف میں ہے : “عن ابن عمر: عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أيما رجل قال لأخيه: كافر فقد باء به أحدهما”. (٥/ ٢٢، باب فی من رمی اخاہ بکفر، ط: دار احیاء التراث العربی) فتاوی ہندیہ میں ہے: وَلَوْ قَالَ لِمُسْلِمٍ أَجْنَبِيٍّ: يَا كَافِرُ، أَوْ لِأَجْنَبِيَّةٍ يَا كَافِرَةُ، وَلَمْ يَقُلْ الْمُخَاطَبُ شَيْئًا، أَوْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: يَا كَافِرَةُ، وَلَمْ تَقُلْ الْمَرْأَةُ شَيْئًا، أَوْ قَالَتْ الْمَرْأَةُ لِزَوْجِهَا: يَا كَافِرُ وَلَمْ يَقُلْ الزَّوْجُ شَيْئًا كَانَ الْفَقِيهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَعْمَشُ الْبَلْخِيّ يَقُولُ: يَكْفُرُ هَذَا الْقَائِلُ، وَقَالَ غَيْرُهُ مِنْ مَشَايِخِ بَلْخٍ رَحِمَهُمْ اللَّهُ تَعَالَى: لَايَكْفُرُ، وَالْمُخْتَارُ لِلْفَتْوَى فِي جِنْسِ هَذِهِ الْمَسَائِلِ أَنَّ الْقَائِلَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْمَقَالَاتِ إنْ كَانَ أَرَادَ الشَّتْمَ وَلَايَعْتَقِدُهُ كَافِرًا لَايَكْفُرُ، وَإِنْ كَانَ يَعْتَقِدُهُ كَافِرًا فَخَاطَبَهُ بِهَذَا بِنَاءً عَلَى اعْتِقَادِهِ أَنَّهُ كَافِرٌ يَكْفُرُ، كَذَا فِي الذَّخِيرَةِ. ( كتاب السير، الْبَابُ التَّاسِعُ فِي أَحْكَامِ الْمُرْتَدِّينَ، مطلب فِي مُوجِبَاتُ الْكُفْرِ أَنْوَاعٌ مِنْهَا مَا يَتَعَلَّقُ بِالْإِيمَانِ وَالْإِسْلَامِ، ٢ / ٢٧٨، ط: دار الفكر) درمختار مع رد المحتار میں ہے: “(وعزر) الشاتم (بيا كافر) وهل يكفر إن اعتقد المسلم كافراً؟ نعم، وإلا لا، به يفتى، شرح وهبانية، ولو أجابه: لبيك، كفر، خلاصة. وفي التتارخانية: قيل: لايعزر ما لم يقل: يا كافر بالله؛ لأنه كافر بالطاغوت، فيكون محتملاً. (قوله: بيا كافر) لم يقيد بكون المشتوم بذلك مسلماً لما يذكره بعد (قوله: إن اعتقد المسلم كافراً نعم) أي يكفر إن اعتقده كافراً لا بسبب مكفر. قال في النهر: وفي الذخيرة: المختار للفتوى أنه إن أراد الشتم ولايعتقده كفراً لايكفر، وإن اعتقده كفراً فخاطبه بهذا بناءً على اعتقاده أنه كافر يكفر؛ لأنه لما اعتقد المسلم كافراً فقد اعتقد دين الإسلام كفراً”. (٤/ ٦٩) فتاوی شارح بخاری میں ہے: کیا فرماتے ہیں علماے دین مسئلہ ذیل میں کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو تصادم کی وجہ سے کافر کہے اور یہ بھی کہے کہ کان پکڑ کر مسجد سے باہر کر دیں گے۔از روۓ شرع کیا حکم ہے؟ بینوا و توجروا۔ الجوابـــــــــــــــــ اگر اس نے اس مسلمان کو گالی گلوج کے طور پر کافر کہا ہے جیسا کہ سوال میں ظاہر ہے تو کہنے والا گنہگار ہوا۔ کافر نہ ہوا ،اور اگر اس نے اعتقاد کر کے کافر کہا ہے تو کہنے والا خود کافر ہے ۔ جیسا کہ در مختار می ہے “و عزر الشاتم بیا کافر و هل يكفر إن اعتقد المسلم كافرا نعم و إلا لا”( ٢/ ٣٧٩) واللہ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی ٢٣ شوال ١٤٤٣/ ٢٥ مئی ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
Kutubahu & Verified by:
<h2>تکفیر مسلم میں احتیاط لازم ہے</h2> السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسٔلہ ذیل میں کہ ہم نے مذاق کے طور پر اپنی زبان سے یہ جملہ بولا کہ دار العلوم جو کہ دیوبندی مسلک کا مدرسہ ہے اس کی برانچ لاتے ہیں ہم اس جملہ پر قائم بھی نہیں بلکہ دیوبندیوں کو بدمذہب تسلیم کرتے ہیں یہ جملہ ایک مولوی(ظہیر عباس) صاحب کے سامنے بولا گیا مولوی صاحب اس جملے پر اس وقت کچھ بھی نہیں بولے اور اس کے بعد کئی دنوں تک یہی مولوی صاحب ہمارے پیچھے نمازیں بھی ادا کرتے رہے ساتھ میں بیٹھ کر کھانا بھی کھاتے رہے ملاقات اور مصافحہ بھی کرتے رہے قریب ایک ماہ تک مولوی صاحب ہمیں سنی مانتے رہے جب مولوی صاحب کی اور ہماری ذاتی رنجش ہوی یہاں ذاتی رنجش پر وضاحت کردوں ہوا یہ کہ مولوی صاحب مسجد میں خطیب تھے جمعہ کے دن مسجد میں بیان کرتے تھے لیکن مولوی صاحب ہر جمعہ کے دن نماز سے زیادہ ٹاںٔم لے لیتے تھے کچھ لوگ اس بات پر ناراض تھے کہ مولوی صاحب ٹاںٔم کی پابندی نہیں کرتے ہیں آخر ایک جمعہ کے دن کچھ لوگوں کا مولوی صاحب کے ساتھ بحث و مباحثہ ہوگیا مولوی صاحب نے کہا کہ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں جس کو یہاں نماز پڑھنی ہے پڑھے جس کو نہیں پڑھنی وہ جاسکتا ہےجب بات بڑھ گی ہم نے مولوی صاحب کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن مولوی صاحب نے مسجد کو چھوڑ دیا اس کے بعد مولوی صاحب نے الگ سے کام کرنا چاہا جس کی وجہ سے مولوی صاحب کو کامیاب ہونا تھا اور اس مسجد سے لوگوں کو توڑنا تھا تب سے مولوی صاحب نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ دیوبندی ہیں اور مسجد کی انتظامیہ دیوبندی ہے مولوی صاحب کو اپنے مفاد کی بات آئی تو گھر گھر جاکر لوگوں میں یہ بات پھیلانے لگے کہ مولوی عرفان دیوبندی ہے بدعقیدہ ہے مولوی صاحب نے اصلاح کے بجاۓ لوگوں میں انتشار کی کوشش کی جبکہ ہم مسلک حق مسلکِ اعلی حضرت پر قائم ہیں اور آئندہ بھی ہمیشہ اسی پر مضبوطی کے ساتھ قاںٔم رہنے کی دعا کرتے ہیں۔ اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ کیا مذاق میں یہ جملہ کہ دیوبندی مدرسہ کی برانچ لائیں گے کہنے کی وجہ سے ہم سنیت سے خارج ہوگئے؟ اور مولوی صاحب جو ہمیں مذکورہ جملہ پر دیوبندی ثابت کر رہے ہیں حالانکہ اس معاملہ کے بعد انہوں نے ہمارے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں اسکے علاوہ نشست وبرخاست بھی رکھتے رہے تو کیا وہ سنیت پر قائم رہے؟ شریعت مطہرہ کا جو بھی حکم ہو بیان فرمائیں ہم دل وجان سے ماننے کے لیے تیار ہیں- المستفتی:- محمد عرفان رضا قادری آملی مٹی ضلع راجوری <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> آپ کے قول:"ہم اس جملہ پر قائم بھی نہیں بلکہ دیوبندیوں کو بدمذہب تسلیم کرتے ہیں. ہم مسلک حق مسلکِ اعلی حضرت پر قائم ہیں اور آئندہ بھی ہمیشہ اسی پر مضبوطی کے ساتھ قاںٔم رہنے کی دعا کرتے ہیں" سے ظاہر ہے کہ آپ دیوبندیوں کو کافر ومرتد سمجھتے ہیں، اس لیے مذکورہ قول :"ضیاء العلوم جو کہ دیوبندی مسلک کا مدرسہ ہے اس کی برانچ لاتے ہیں"کی بنیاد پر امام صاحب کا آپ اور مسجد کی انتظامیہ کو دیوبندی قرار دینا درست نہیں ، کیوں کہ مذکورہ جملہ کا کفریہ ہونا متعین نہیں ہے،اور جس جملے کا کفریہ ہونا متعین نہ ہو اس کی بنیاد پر کسی کی تکفیر جائز نہیں ہے. البحرالرائق میں ہے : لَا يَكْفُرُ بِالْمُحْتَمَلِ؛ لِأَنَّ الْكُفْرَ نِهَايَةٌ في الْعُقُوبَةِ فَيَسْتَدْعِي نِهَايَةً في الْجِنَايَةِ وَمَعَ الِاحْتِمَالِ لَا نِهَايَةَ.(البحرالرائق باب احکام المرتدین) ان امام صاحب کو اس وعید سے ڈرنا چاہیے جو حدیث شریف اور تصریحات ائمہ وعلماء میں بلا وجہ شرعی کسی کی تکفیر کے بارے میں وارد ہے. حدیث شریف میں ہے : "عن ابن عمر: عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أيما رجل قال لأخيه: كافر فقد باء به أحدهما". (٥/ ٢٢، باب فی من رمی اخاہ بکفر، ط: دار احیاء التراث العربی) فتاوی ہندیہ میں ہے: وَلَوْ قَالَ لِمُسْلِمٍ أَجْنَبِيٍّ: يَا كَافِرُ، أَوْ لِأَجْنَبِيَّةٍ يَا كَافِرَةُ، وَلَمْ يَقُلْ الْمُخَاطَبُ شَيْئًا، أَوْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: يَا كَافِرَةُ، وَلَمْ تَقُلْ الْمَرْأَةُ شَيْئًا، أَوْ قَالَتْ الْمَرْأَةُ لِزَوْجِهَا: يَا كَافِرُ وَلَمْ يَقُلْ الزَّوْجُ شَيْئًا كَانَ الْفَقِيهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَعْمَشُ الْبَلْخِيّ يَقُولُ: يَكْفُرُ هَذَا الْقَائِلُ، وَقَالَ غَيْرُهُ مِنْ مَشَايِخِ بَلْخٍ رَحِمَهُمْ اللَّهُ تَعَالَى: لَايَكْفُرُ، وَالْمُخْتَارُ لِلْفَتْوَى فِي جِنْسِ هَذِهِ الْمَسَائِلِ أَنَّ الْقَائِلَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْمَقَالَاتِ إنْ كَانَ أَرَادَ الشَّتْمَ وَلَايَعْتَقِدُهُ كَافِرًا لَايَكْفُرُ، وَإِنْ كَانَ يَعْتَقِدُهُ كَافِرًا فَخَاطَبَهُ بِهَذَا بِنَاءً عَلَى اعْتِقَادِهِ أَنَّهُ كَافِرٌ يَكْفُرُ، كَذَا فِي الذَّخِيرَةِ. ( كتاب السير، الْبَابُ التَّاسِعُ فِي أَحْكَامِ الْمُرْتَدِّينَ، مطلب فِي مُوجِبَاتُ الْكُفْرِ أَنْوَاعٌ مِنْهَا مَا يَتَعَلَّقُ بِالْإِيمَانِ وَالْإِسْلَامِ، ٢ / ٢٧٨، ط: دار الفكر) درمختار مع رد المحتار میں ہے: "(وعزر) الشاتم (بيا كافر) وهل يكفر إن اعتقد المسلم كافراً؟ نعم، وإلا لا، به يفتى، شرح وهبانية، ولو أجابه: لبيك، كفر، خلاصة. وفي التتارخانية: قيل: لايعزر ما لم يقل: يا كافر بالله؛ لأنه كافر بالطاغوت، فيكون محتملاً. (قوله: بيا كافر) لم يقيد بكون المشتوم بذلك مسلماً لما يذكره بعد (قوله: إن اعتقد المسلم كافراً نعم) أي يكفر إن اعتقده كافراً لا بسبب مكفر. قال في النهر: وفي الذخيرة: المختار للفتوى أنه إن أراد الشتم ولايعتقده كفراً لايكفر، وإن اعتقده كفراً فخاطبه بهذا بناءً على اعتقاده أنه كافر يكفر؛ لأنه لما اعتقد المسلم كافراً فقد اعتقد دين الإسلام كفراً”. (٤/ ٦٩) فتاوی شارح بخاری میں ہے: کیا فرماتے ہیں علماے دین مسئلہ ذیل میں کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو تصادم کی وجہ سے کافر کہے اور یہ بھی کہے کہ کان پکڑ کر مسجد سے باہر کر دیں گے۔از روۓ شرع کیا حکم ہے؟ بینوا و توجروا۔ الجوابـــــــــــــــــ اگر اس نے اس مسلمان کو گالی گلوج کے طور پر کافر کہا ہے جیسا کہ سوال میں ظاہر ہے تو کہنے والا گنہگار ہوا۔ کافر نہ ہوا ،اور اگر اس نے اعتقاد کر کے کافر کہا ہے تو کہنے والا خود کافر ہے ۔ جیسا کہ در مختار می ہے "و عزر الشاتم بیا کافر و هل يكفر إن اعتقد المسلم كافرا نعم و إلا لا”( ٢/ ٣٧٩) واللہ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٣ شوال ١٤٤٣/ ٢٥ مئی ٢٠٢٢</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...