Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

تیجہ، دسواں، بیسواں چالیسواں وغیرہ کا کھانا اغنیاء کیلئے کیسا ہے؟

تیجہ، دسواں، بیسواں چالیسواں وغیرہ کا کھانا اغنیاء کیلئے کیسا ہے؟
Reference 1973 September 18, 2025 12,498 views
اصل سوالتیجہ، دسواں، بیسواں چالیسواں وغیرہ کا کھانا اغنیاء کیلئے کیسا ہے؟

تیجہ، دسواں، بیسواں چالیسواں وغیرہ کا کھانا اغنیاء کیلئے کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسائل ذیل کے بارے میں تیجہ ۔ دسواں ۔ بیسواں چالیسواں کا کھانا ۔ کھانا کیسا ہے؟ یہ صرف غریبوں کے لئے ہ یا امیروں کے لئے بھی ہے؟ جبکہ دعوت طعام کرتے ہیں اس میں غریب امیر سب شامل ہوکر کھانا کھاتے ہیں ۔ میت کا کھانا غیر مسلم کو کھلانے پر میت کو ثواب ملے گا یا نہیں یا پھر اضاعت مال ہوا۔؟ اور بطور دعوت ممنوع ہے تو اب بغیر دعوت کے اغنیاء تو دور غربا بھی نہیں آتے اور میت کے گھر والے اس رسم کو نبھانے کی قسم کھا رکھے ہیں۔ ۔۔ المستفتی ۔ محمد ارشاد عالم رضوی خادم تنظیم اہل سنت فکر رضا ۔منرا سسوا نگر پالیکا وارڈ نمبر٨سہسرام تھانہ جلیشور ضلع مہوتری نیپال ۔ الجواب بعون الملک الوھاب تیجہ دسواں ،بیسواں،چالیسواں وغیرہ کا کھانا غنی ہوں یا فقیر سب کھا سکتے ہیں کہ یہ صدقہ نافلہ ہے واجبہ نہیں۔ لہذا ایصال ثواب کرنے والے کو ثواب ملے گا۔ مگر مالدار کو نہ کھانا بہتر ہے۔ ہاں جو بطور دعوت کی جائے اس کا کھانا ممنوع و بدعت ہے کہ دعوت خوشی کے موقع پر ہے نہ کہ غم کے موقع پر اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں طعام تین قسم ہے: ایک وہ کہ عوام ایامِ موت میں بطور دعوت کرتے ہیں یہ ناجائز وممنوع ہے۔ لان الدعوۃ انما شرعت فی السرور لا فی الشرور کمافی فتح القدیر وغیرہ من کتب الصدور۔ اس لیے کہ دعوت کو شریعت نے خوشی میں رکھا ہے غمی میں نہیں، جیسا کہ فتح القدیر وغیرہ کتبِ اکابر میں ہے ۔ اغنیاء کو اس کاکھانا جائز نہیں۔ دوسرے وہ طعام کہ اپنے اموات کو ایصال ثواب کے لیے بہ نیت تصدق کیا جاتا ہے فقراء اس کے لیے احق ہیں، اغنیاء کو نہ چاہئے۔ تیسرے وہ طعام کہ نذور ارواح طیبہ حضرات انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء کیاجاتا ہے اور فقراء واغنیاء سب کو بطور تبرک دیا جاتا ہے یہ سب کو بلاتکلف رواہے۔ اور وہ ضرور باعث برکت ہے۔ برکت والوں کی طرف جو چیز نسبت کی جاتی ہے اس میں برکت آجاتی ہے۔ مسلمان اس کھانے کی تعظیم کرتے ہیں اور وہ اس میں مصیب ہیں، ائمہ دین نے بسندِصحیح روایت فرمایا کہ ایک مجلس سماع صوفیاء کرام رضی ﷲ تعالٰی عنہم میں نذر حضور سیدنا غوث اعظم رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا ایک بدرہ زر رکھا ہوا تھا، یہ حالت وجد میں ایک صاحب کا پاؤں اس سے لگ گیا فوراً رب العزت وعلانے ان کا حالِ ولایت سلب فرمالیا۔ (حوالہ فتاوی رضویہ ج ۹ ص ۶۱۶ دعوت اسلامی۔) ایک اور دوسرے مقام پر فرماتے ہیں کہ اغنیا بھی کھا سکتے ہیں سوا اس کھانے کے جو موت میں بطور دعوت کیا جائے وہ ممنوع و بدعت ہے۔ اور عام مسلمین کی فاتحہ چہلم، برسی، ششماہی کاکھانا بھی اغنیاء کو مناسب نہیں۔ (حوالہ فتاوی رضویہ ج ۹ ص ۶۱۲ دعوت اسلامی۔) اور فتاوی فقیہ ملت میں ہے کہ میت کا کھانا امیر و غریب سب کے لئے جائز ہے کہ یہ صدقۂ نافلہ ہے واجبہ نہیں ، مگر اس کھانے کی دعوت ناجائز ہے۔ شامی جلد اول صفحہ۶۲۹ میں ہے یکرہ اتحاذ الضیافة من الطعام من اھل البیت لا نہ شرع فی السرور لا فی الشرور وھی بدعة اور فتاوٰی عالمگیری میں ہےجلد اول صفحہ ۱۶ میں ہے،، لا یباح اتحاذ الضیافة عند ثلاثتة ایام کذافی التتار خانیة ۔ اور فقیہ اعظم ہند حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،، میت کے گھر والے تیجہ وغیرہ کے دن دعوت کرے تو ناجائز و بدعت قبیحہ ہے ،،کہ دعوت تو خوشی کے وقت مشروع ہے نہ کہ غم کے وقت۔ (بہار شریعت جلد چہارم صفحہ۱۶۹ ) اس سے واضح ہوگیا کہ بہار شریعت کے حوالے سے گاؤں کے عالم کا یہ کہنا صحیح نہیں کہ امیر بھائی پٹی دار اور دوست و احباب کو کھانا جائز نہیں ،،اس لئے کہ بہار شریعت میں تیجہ وغیرہ کی دعوت کو ناجائز لکھا ہے کھانے کو ناجائز نہیں لکھا ،، اور اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ والرضوان نے فتاوٰی رضویہ شریف جلد چہارم صفحہ۲۱۴ جو تحریر فرمایا ہے کہ وہ طعام کہ عوام ایام موت میں بطور دعوت کرتے ہیں یہ ناجائز و ممنوع ہے ۔ لان الدعوة انما الشرعت فی السرور لا فی الشرور کما فی فتح القدیر وغیرہ من کتب الصدور۔ اغنیاء کو اس کا کھانا جائز نہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اغنیاء کو بطور دعوت کھانا جائز نہیں اس لئے کہ اس جملہ کا تعلق ما قبل کی اسی عبارت سے ہے جس میں بطور دعوت کھانے کو ناجائز فرمایا گیا ہے۔ اور جب فقہ کی معتبر کتابوں سے یہ ثابت ہوگیا طعام میت کے لئے دعوت ناجائز وممنوع ہے تو اگر بلا دعوت اغنیاء کو وقت پر بلا کر کھلا دے یا ان کے گھر کھانا بھیجوا دے تو امیر کے لئے بھی جائز ہے جیسے کہ عام طور پر لوگ محرم کے مہینہ میں کھیچڑا پکا کر بغیر دعوت کے سب کو کھلاتے ہیں۔ (حوالہ فتاوٰی فقیہ ملت جلد اول صفحہ نمبر ۲۸۵) غیر مسلم کو کھانا کھلانے سے میت کو ثواب نہیں ملے گا جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ غیر مسلم کو دینا کچھ ثواب نہیں کما فی البحرائق وغیرہ (حوالہ فتاوی رضویہ ج ۱۶ ص ۲۲۷ دعوت اسلامی)، البتہ صاحب خانہ دعوت کھلانے کی غرض سے نہیں بلکہ محفل میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن خوانی کا ارادہ کرے اور اسی کے ضمن میں کھانا کھلادے مطلب صاف ہے کہ ارادہ دعوت میت کا نہیں بلکہ دعوت میلاد و قرآن خوانی کا ہے، فقہاء کرام فرماتے ہیں ان الانسان له ان يجعل ثواب عمله لغيره صلوة او صوما او غيرها عند اهل السنة والجماعة. لماروی عن النبی صلی الله عليه وآله وسلم انه ضحٰی بکبشين املحين احدهما عن نفسه و لاخر عن امته الخ. (بخاری و مسلم، هدايه، 1 : 263) انسان کو یہ حق ہے کہ اپنے عمل کا ثواب دوسرے کو بخش دے، نماز و روزہ ہو یا کچھ اور یہ مسئلہ اہل سنت و جماعت کے ہاں ہے، بوجہ اس حدیث پاک کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی، ایک اپنی طرف سے اور دوسرا اپنی امت کی طرف سے۔ واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب از:قلم فقیر محمد اشفاق عطاري

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.