01
The questionSawaal
اصل سوالتین طلاق دینے کے بعد بھی بیوی کو اپنے گھر بلانا کیسا ہے ؟
02
The responseAl-Jawab
تین طلاق دینے کے بعد بھی بیوی کو اپنے گھر بلانا کیسا ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان شرع مسئلہ ذیل کے بارے میں کے محمد فیاض ولد گلزار حسین سکنہ دوداسن بالا تحصیل راجوری نے اپنی بیوی شناز اختر دختر محمد اسحاق سکنہ منکوٹ تحصیل راجوری کو دوگواہوں کے سامنے تقریبا پانچ مرتبہ طلاق دی ہوئی ہے طلاق ثلاثہ آخری طلاق بھی دی ہوئی ہے لیکن اب وہ اس لڑکی کو تنگ کرتا ہے کہ تو میری بیوی ہے میرے گھر واپس آجا ۔ لہذا قرآن وحدیث کی روشنی میں تحریر فرمائیں کے اس کے لیے شرعی حکم کیا ہے المستفتی:حافظ فضل حسین پلمہ راجوری جموں وکشمیر الجواب بعون الملك الوهاب: صورت مسؤلہ میں جب کہ محمد فیاض نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ہے تو اگر اس کی عدت بھی گزر چکی ہو تو محمد فیاض کو اس کو اپنے گھر واپس بلانے کا کوئی حق نہیں ہے اور اگر عدت نہیں گزری ہے تو حکم یہی ہے کہ مطلقہ اپنے شوہر کے اس گھر میں عدت گزارے جس میں وہ اس کو رکھتا تھا اس صورت میں عدت گزارنے کے لیے گھر بلانا غلط نہیں ہے۔لیکن اس صورت میں دونوں میں خلوت کی کسی طرح گنجائش نہیں۔ حضورصدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: “طلاقِ بائن کی عدت میں یہ ضروری ہے کہ شوہر و عورت میں پردہ ہو یعنی کسی چیزسے آڑ کر دی جائے کہ ایک طرف شوہر رہے اور دوسری طرف عورت۔ عورت کا اُسکے سامنے اپنا بدن چھپانا کافی نہیں اس واسطے کہ عورت اب اجنبیہ ہے اور اجنبیہ سے خلوت جائز نہیں بلکہ یہاں فتنہ کا زیادہ اندیشہ ہے اور اگر مکان میں تنگی ہو اتنا نہیں کہ دونوں الگ الگ رہ سکیں تو شوہر اُتنے دنوں تک مکان چھوڑدے، یہ نہ کرے کہ عورت کو دوسرے مکان میں بھیج دے اور خود اس میں رہے کہ عورت کو مکان بدلنے کی بغیر ضرورت اجازت نہیں اور اگر شوہر فاسق ہو تو اُسے حکماً اُس مکان سے علیحدہ کر دیا جائے اور اگر نہ نکلے تو اُس مکان میں کوئی ثقہ عورت رکھ دی جائے جو فتنہ کے روکنے پر قادر ہو اور اگررجعی کی عدت ہو تو پردہ کی کچھ حاجت نہیں اگرچہ شوہر فاسق ہو کہ یہ نکاح سے باہر نہ ہوئی” (بہار شریعت ج۲ ح٨ ص ٢۶٨/مکتبة المدينه دعوت اسلامی) ہاں اگر وہ مطلقہ عدت گزار کر دوسرے شخص سے نکاح کرے اور اس سے ہمبستری بھی ہو پھر شوہر ثانی وطی کے بعد اسے طلاق دیدے یا وہ فوت ہوجائے اور عورت عدت گزار کر شوہر اول سے نکاح کرنے پر رضامند ہو تو ایسا کیا جا سکتا ہے، لیکن اس صورت میں بھی شوہر کسی طرح تنگ نہیں کرسکتا اگر کرے گا گنہگار اور حق العباد میں گرفتار اور مستحق عذاب نار ہوگا۔ صورتِ مذکورہ کے علاوہ عورت اب شوہر اول کے لیے کسی طرح حلال نہیں ہے – ارشاد باری تعالی ہے”فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره”(سورة البقرہ:آیت:۲۳۰) اس آیت کریمہ کے تحت تفسیر جلالین شریف میں ہے”فلا تحل له من بعد الطلقة الثالثة حتى تنكح تتزوج زوجا غيره ويطأها كمافى الحديث رواه الشيخان”(ص ۴۵/مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور) اور تفسیر بیضاوی شریف میں ہے”اتفق الجمهور على أنه لا بد من الاصابة(اى الوطى)لما روى أن امراة رفاعة قالت(الى قوله)قال عليه السلام لا حتى تذوقى عسيلته ويذوق عسيلتك”( ج۱ ص ۱۴۲/المكتبة الشاملة الحديثة) اور فتاوی عالمگیری میں ہے”ان كان الطلاق ثلاثا لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا فى الهداية”(ج ۱ ص۵۰۶/دار الکتب العلمیه بيروت،لبنان) اور فتاوی رضویہ شریف میں ہے”(۱)جب طلاقیں تین تک پہنچ جائیں پھر وہ عورت اس کے لیے بے حلالہ حلال نہیں ہوسکتی قال الله تعالى فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره والله تعالی اعلم” (ج۵ص۶۳۴) اور فتاوی امجدیہ میں ہے “حلالہ کی صورت یہ ہے کہ اس طلاق کی عدت گزرنے کے بعد عورت دوسرے سے نکاح صحیح کرے پھر وہ دوسرا شوہر اس سے وطی کرنے کے بعد طلاق دیدے یا مرجائے پھر اس طلاق یا موت کی عدت گزر جانے کے بعد شوہر اول سے نکاح جائز ہوگا-حلالہ کے لیے دوسرے شوہر کا وطی یعنی دخول کرنا ضروری ہے بغیر اس کے شوہر اول کے لیے حلال نہیں ہوسکتی-(ج۲ ص ۲۷۶) واللہ تعالی اعلم بالحق والصواب کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر ۱۴/جمادی الآخرہ ۱۴۴۳ھ مطابق ۱۸/جنوری ۲۰۲۲ء الجواب صحيح محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.