Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #931
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
13.6K Views
جس امام کی قرآءت صحیح نہ ہو اس کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
جس امام کی قرآءت صحیح نہ ہو اس کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
جس امام کی قرآءت صحیح نہ ہو اس کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں ؟
جناب مفتی صاحب قبلہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ محمد حسنین رضا برکاتی بڑھمول نانپور سیتامڑھی بہار 14/12/2021 میرا سوال یہ ہےکہ ہم جس کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں وہ صرف( دو ) (تین ) جماعت مولوی کے پڑھے ہیں ۔ اور وہ امامت کرتے ہیں اور نہ اس کی قرآت صحیح ہے اور نہ اس کا تلفظ صحیح ہے ۔ اور جب نماز میں قرآت کرتے ہیں تو( جیم) کو (زا) (حا) کو (ھا) پڑھتے ہیں ۔ اور جمعہ کا خطبہ بھی تلفظ سے نہیں پڑھ پاتے ہیں ۔ زیادہ لفظ تو ان کے منہ میں ہی رہ جاتا ہے اور جب کہا جاتا ہے کہ آپ قرآن مجید کو صحیح سے پڑھیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہماری زبان میں لکنت ہے ۔ تو کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے برائے کرم قوی جواب عنایت ۔ الجواب بعون الملک الوھاب جس شخص کی زبان میں اتنی لکنت ہو کہ وہ صحیح قراءت پر قادر نہ ہو ۔ یوں ہی جیم کو زا، حا کو ھا یا اس کے برعکس پڑھتا ہو تو صحیح پڑھنے والوں کی نماز اس کے پیچھے نہیں ہوگی ۔ ایسے لوگوں کا ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ۔ حدیث شریف میں ہے : “یومھم اقرأھم لکتاب اللہ “ (صحيح مسلم ،المساجد ومواضع الصلوۃ، حديث رقم ٦٧٣) درمختار مع رد المحتار میں ہے : “(و) لا (غير الألثغ به) أي بالألثغ (على الأصح) كما في البحر عن المجتبى، وحرر الحلبي وابن الشحنة أنه بعد بذل جهده دائماً حتماً كالأمي ۔ فلايؤم إلا مثله، ولاتصح صلاته إذا أمكنه الاقتداء بمن يحسنه۔ أو ترك جهده أو وجد قدر الفرض مما لا لثغ فيه ۔ هذا هو الصحيح المختار في حكم الألثغ، وكذا من لايقدر على التلفظ بحرف من الحروف أو لايقدر على إخراج الفاء إلا بتكرار ۔ (الدر المختار وحاشية ابن عابدين رد المحتار(١/ ٥٨١): فتاوی رضویہ میں اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ہے: “اُسے امام بنانا ہرگز جائز نہیں اورنماز اس کے پیچھے نادرست ہے ۔ کہ اگر وہ شخص ح کے ادا پر بالفعل قادر ہے اور باوجود اس کے اپنی بے خیالی یا بے پروائی سے کلمات مذکورہ میں ھ پڑھتا ہے ۔ تو خود اس کی نماز فاسد وباطل ،اوروں کی اسکے پیچھے کیا ہوسکے ۔ اور اگر بالفعل ح پر قادر نہیں اور سیکھنے پر جان لڑاکر کوشش نہ کی تو بھی خود اس کی نماز محض اکارت ، اور اس کے پیچھے ہر شخص کی باطل ۔ اور اگر ایک ناکافی زمانہ تک کوشش کر چکا پھر چھوڑ دی جب بھی خود اس کی نماز پڑھی بے پڑھی سب ایک سی ، اور اُس کے صدقے میں سب کی گئی اور برابر حد درجہ کی کوشش کئے جاتا ہے مگر کسی طرح نہیں نکلتی تو اُس کاحکم مثل اُمّی کے ہے کہ اگر کسی صحیح پڑھنے والے کے پیچھے نماز مل سکے اور اقتداء نہ کرے بلکہ تنہا پڑھے تو بھی اسکی نماز باطل ، پھر امام ہونا تو دوسرا درجہ ہے”(فتاوی رضویہ ج٣ص٩۴ ، ٩۵) بہار شریعت میں ہے : ہکلا جس سے حرف مکرر ادا ہوتے ہیں اس کا بھی یہی حکم ہے یعنی اگر صاف پڑھنے والے کے پیچھے پڑھ سکتا ہے تو اس کے پیچھے پڑھنا لازم ہے ورنہ اس کی اپنی ہوجائے گی اور اپنے مثل یا اپنے سے کم تر کی امامت بھی کرسکتا ہے (حصہ سوم ٥٧١) فتاوی بحرالعلوم میں حضرت بحرالعلوم مفتی عبدالمنان صاحب علیہ الرحمہ سے ایسے امام کے بارے میں سوال ہوا جو کسی عذر کی وجہ سے صحیح تلفظ پر قادر نہ ہو اس کا جواب دیتے ہوئے حضرت بحرالعلوم فرماتے ہیں : اگر ایسی غلطی ہو جس سے قرآن شریف کے معنی بگڑ جاتے ہوں تو خود اس کی نماز کا ہونا مشکل ہوگا بھلا وہ امامت کے لائق کیا ہوگا، نماز میں قرآن شریف پڑھنا فرض ہے (ج اول ص ٣٣٤) فتاوی فقیہ ملت میں ہے : سوال : ایک امام جن کی زبان لقوہ کے سبب ماری گئی اور حروف صحیح ادا نہیں ہوتے ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے کہ نہیں ؟ جواب: جس امام کی زبان لقوہ سے ماری گئی ہے اگر پڑھنے میں حروف صحیح نہیں ادا ہوتے ہیں تو صحیح پڑھنے والوں کی نماز نہیں ہوگی ۔ ایسے لوگوں کا ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ۔ در مختار میں توتلے کے پیچھے فساد نماز کا حکم لکھ کر فرماتے ہیں ۔ ھذا ھو الصحیح المختار فی حکم الثغ و کذا من لا یقدر علی التلفظ بحرف من الحروف ۔ (فتاوی فیض الرسول ج اول ص ٣١٨) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی* جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی ١١جمادی الاخری ١٤٤٣ ھ ١٦ دسمبر ٢٠٢١. الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء جامعہ علیمیہ جمدا شاہی
Kutubahu & Verified by:
<h3>جس امام کی قرآءت صحیح نہ ہو اس کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں ؟</h3> جناب مفتی صاحب قبلہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ محمد حسنین رضا برکاتی بڑھمول نانپور سیتامڑھی بہار 14/12/2021 میرا سوال یہ ہےکہ ہم جس کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں وہ صرف( دو ) (تین ) جماعت مولوی کے پڑھے ہیں ۔ اور وہ امامت کرتے ہیں اور نہ اس کی قرآت صحیح ہے اور نہ اس کا تلفظ صحیح ہے ۔ اور جب نماز میں قرآت کرتے ہیں تو( جیم) کو (زا) (حا) کو (ھا) پڑھتے ہیں ۔ اور جمعہ کا خطبہ بھی تلفظ سے نہیں پڑھ پاتے ہیں ۔ زیادہ لفظ تو ان کے منہ میں ہی رہ جاتا ہے اور جب کہا جاتا ہے کہ آپ قرآن مجید کو صحیح سے پڑھیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہماری زبان میں لکنت ہے ۔ تو کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے برائے کرم قوی جواب عنایت ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> جس شخص کی زبان میں اتنی لکنت ہو کہ وہ صحیح قراءت پر قادر نہ ہو ۔ یوں ہی جیم کو زا، حا کو ھا یا اس کے برعکس پڑھتا ہو تو صحیح پڑھنے والوں کی نماز اس کے پیچھے نہیں ہوگی ۔ ایسے لوگوں کا ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ۔ حدیث شریف میں ہے : <span style="color: #ff0000;"><strong>"یومھم اقرأھم لکتاب اللہ "</strong> </span>(صحيح مسلم ،المساجد ومواضع الصلوۃ، حديث رقم ٦٧٣) درمختار مع رد المحتار میں ہے : <span style="color: #ff0000;"><em>"(و) لا (غير الألثغ به) أي بالألثغ (على الأصح) كما في البحر عن المجتبى، وحرر الحلبي وابن الشحنة أنه بعد بذل جهده دائماً حتماً كالأمي ۔ فلايؤم إلا مثله، ولاتصح صلاته إذا أمكنه الاقتداء بمن يحسنه۔ أو ترك جهده أو وجد قدر الفرض مما لا لثغ فيه ۔ هذا هو الصحيح المختار في حكم الألثغ، وكذا من لايقدر على التلفظ بحرف من الحروف أو لايقدر على إخراج الفاء إلا بتكرار ۔</em></span> (الدر المختار وحاشية ابن عابدين رد المحتار(١/ ٥٨١): فتاوی رضویہ میں اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ہے: "اُسے امام بنانا ہرگز جائز نہیں اورنماز اس کے پیچھے نادرست ہے ۔ کہ اگر وہ شخص ح کے ادا پر بالفعل قادر ہے اور باوجود اس کے اپنی بے خیالی یا بے پروائی سے کلمات مذکورہ میں ھ پڑھتا ہے ۔ تو خود اس کی نماز فاسد وباطل ،اوروں کی اسکے پیچھے کیا ہوسکے ۔ اور اگر بالفعل ح پر قادر نہیں اور سیکھنے پر جان لڑاکر کوشش نہ کی تو بھی خود اس کی نماز محض اکارت ، اور اس کے پیچھے ہر شخص کی باطل ۔ اور اگر ایک ناکافی زمانہ تک کوشش کر چکا پھر چھوڑ دی جب بھی خود اس کی نماز پڑھی بے پڑھی سب ایک سی ، اور اُس کے صدقے میں سب کی گئی اور برابر حد درجہ کی کوشش کئے جاتا ہے مگر کسی طرح نہیں نکلتی تو اُس کاحکم مثل اُمّی کے ہے کہ اگر کسی صحیح پڑھنے والے کے پیچھے نماز مل سکے اور اقتداء نہ کرے بلکہ تنہا پڑھے تو بھی اسکی نماز باطل ، پھر امام ہونا تو دوسرا درجہ ہے"(فتاوی رضویہ ج٣ص٩۴ ، ٩۵) بہار شریعت میں ہے : ہکلا جس سے حرف مکرر ادا ہوتے ہیں اس کا بھی یہی حکم ہے یعنی اگر صاف پڑھنے والے کے پیچھے پڑھ سکتا ہے تو اس کے پیچھے پڑھنا لازم ہے ورنہ اس کی اپنی ہوجائے گی اور اپنے مثل یا اپنے سے کم تر کی امامت بھی کرسکتا ہے (حصہ سوم ٥٧١) فتاوی بحرالعلوم میں حضرت بحرالعلوم مفتی عبدالمنان صاحب علیہ الرحمہ سے ایسے امام کے بارے میں سوال ہوا جو کسی عذر کی وجہ سے صحیح تلفظ پر قادر نہ ہو اس کا جواب دیتے ہوئے حضرت بحرالعلوم فرماتے ہیں : اگر ایسی غلطی ہو جس سے قرآن شریف کے معنی بگڑ جاتے ہوں تو خود اس کی نماز کا ہونا مشکل ہوگا بھلا وہ امامت کے لائق کیا ہوگا، نماز میں قرآن شریف پڑھنا فرض ہے (ج اول ص ٣٣٤) فتاوی فقیہ ملت میں ہے : <strong>سوال :</strong> ایک امام جن کی زبان لقوہ کے سبب ماری گئی اور حروف صحیح ادا نہیں ہوتے ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے کہ نہیں ؟ <strong>جواب: </strong> جس امام کی زبان لقوہ سے ماری گئی ہے اگر پڑھنے میں حروف صحیح نہیں ادا ہوتے ہیں تو صحیح پڑھنے والوں کی نماز نہیں ہوگی ۔ ایسے لوگوں کا ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ۔ در مختار میں توتلے کے پیچھے فساد نماز کا حکم لکھ کر فرماتے ہیں ۔ <span style="color: #ff0000;"><em>ھذا ھو الصحیح المختار فی حکم الثغ و کذا من لا یقدر علی التلفظ بحرف من الحروف ۔</em></span> (فتاوی فیض الرسول ج اول ص ٣١٨) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی* جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١١جمادی الاخری ١٤٤٣ ھ ١٦ دسمبر ٢٠٢١.</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء جامعہ علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...