Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #225 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13K Views

جس جانور کی سینگ ٹوٹی ہو یا کچھ کان کٹا ہو اس کی قربانی کیسی ہے؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

جس جانور کی سینگ ٹوٹی ہو یا کچھ کان کٹا ہو اس کی قربانی کیسی ہے؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

جس جانور کی سینگ ٹوٹی ہو یا کچھ کان کٹا ہو اس کی قربانی کیسی ہے؟

 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ اگر (١)قربانی کے جانور کی ایک سینگ آدھی کے قریب ٹوٹی ہو یا (٢)کسی ایک کان کا کچھ حصہ کٹا ہو تو ایسے جانوروں کی قربانی درست ہے یا نہیں؟

سائل

محمد ادریس رضا (پینڑا، بستی)

الجواب:

(١) جس جانور کی سینگ آدھی کے قریب ٹوٹی ہو اس کی قربانی ہوسکتی ہے، ہاں! آگر سینگ جڑ تک ٹوٹی ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ۔ حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:

“قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہونا چاہیے اور تھوڑا سا عیب ہو تو قربانی ہو جائے گی، مگر مکروہ ہوگی۔ اور زیادہ عیب ہو تو ہوگی ہی نہیں ۔ جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں اس کی قربانی جائز ہے ، اور اگر سینگ تھے مگر ٹوٹ گیا اور مینگ تک ٹوٹا ہے تو ناجائز ہے، اس سے کم ٹوٹا ہے تو جائز ہے” (بہار شریعت ح ١۵ص ٣۴٢)

(٢) کسی جانور کا کوئی کان کٹا ہے تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ تہائی یا اس سے کم کٹا ہے یا تہائی سے زیادہ کٹا ہے۔ اگر تہائی یا اس سے کم کان کٹا ہے تو قربانی جائز ہے اور تہائی سے زیادہ کٹا ہے تو ناجائز ہے۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:

“جس کے کان یا دم یا چکی کٹے ہوں یعنی وہ عضو تہائی سے زیادہ کٹا ہو ان سب کی قربانی ناجائز ہے۔ اور اگر کان یا دم یا چکی تہائی یا اس سے کم کٹی ہو تو جائز ہے”

(بہار شریعت ح ١۵ ص٣۴٣)۔

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔

کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔

٢٨/ذو القعدہ ١۴۴٢ھ//١٠/جولائی ٢٠٢١ء


جس کی طرف سے قربانی کی جارہی ہو کیا اس کے باپ کا نام ذکر کرنا ضروری ہے؟

اگر ایک گھر میں کئی فرد مالک نصاب ہوں تو کیا سب پر قربانی واجب ہے؟

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">جس جانور کی سینگ ٹوٹی ہو یا کچھ کان کٹا ہو اس کی قربانی کیسی ہے؟</h2>   <p style="direction: rtl;">کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ اگر (١)قربانی کے جانور کی ایک سینگ آدھی کے قریب ٹوٹی ہو یا (٢)کسی ایک کان کا کچھ حصہ کٹا ہو تو ایسے جانوروں کی قربانی درست ہے یا نہیں؟</p> <p style="direction: rtl;">سائل</p> <p style="direction: rtl;">محمد ادریس رضا (پینڑا، بستی)</p> <p style="direction: rtl;"><strong>الجواب:</strong></p> <p style="direction: rtl;">(١) جس جانور کی سینگ آدھی کے قریب ٹوٹی ہو اس کی قربانی ہوسکتی ہے، ہاں! آگر سینگ جڑ تک ٹوٹی ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ۔ حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:</p> <p style="direction: rtl;">"قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہونا چاہیے اور تھوڑا سا عیب ہو تو قربانی ہو جائے گی، مگر مکروہ ہوگی۔ اور زیادہ عیب ہو تو ہوگی ہی نہیں ۔ جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں اس کی قربانی جائز ہے ، اور اگر سینگ تھے مگر ٹوٹ گیا اور مینگ تک ٹوٹا ہے تو ناجائز ہے، اس سے کم ٹوٹا ہے تو جائز ہے" (بہار شریعت ح ١۵ص ٣۴٢)</p> <p style="direction: rtl;">(٢) کسی جانور کا کوئی کان کٹا ہے تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ تہائی یا اس سے کم کٹا ہے یا تہائی سے زیادہ کٹا ہے۔ اگر تہائی یا اس سے کم کان کٹا ہے تو قربانی جائز ہے اور تہائی سے زیادہ کٹا ہے تو ناجائز ہے۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:</p> <p style="direction: rtl;">"جس کے کان یا دم یا چکی کٹے ہوں یعنی وہ عضو تہائی سے زیادہ کٹا ہو ان سب کی قربانی ناجائز ہے۔ اور اگر کان یا دم یا چکی تہائی یا اس سے کم کٹی ہو تو جائز ہے"</p> <p style="direction: rtl;">(بہار شریعت ح ١۵ ص٣۴٣)۔</p> <p style="direction: rtl;">واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔</p> <p style="direction: rtl;"><span style="color: #0000ff;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span></p> <p style="direction: rtl;"><span style="color: #0000ff;"><strong>٢٨/ذو القعدہ ١۴۴٢ھ//١٠/جولائی ٢٠٢١ء</strong></span></p> <hr /> <p class="entry-title" style="text-align: right;"><a href="https://masailworld.com/kya-ghar-ke-har-fard-par-qurbani-wajib-hai/" rel="bookmark">جس کی طرف سے قربانی کی جارہی ہو کیا اس کے باپ کا نام ذکر کرنا ضروری ہے؟</a></p> <p class="entry-title" style="text-align: right;"><a href="https://masailworld.com/kya-ghar-ke-har-fard-par-qurbani-wajib-hai/" rel="bookmark">اگر ایک گھر میں کئی فرد مالک نصاب ہوں تو کیا سب پر قربانی واجب ہے؟</a></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...