Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #786 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.5K Views

جس عورت کا شوہر غائب ہے اس کے لئے کیا حکم ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

جس عورت کا شوہر غائب ہے اس کے لئے کیا حکم ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

جس عورت کا شوہر غائب ہے اس کے لئے کیا حکم ہے ؟

سوال: ایک عورت کا شوہر پانچ سال سے لاپتہ ہے ، اس کا کہیں سراغ بھی نہیں ملا اب ایسی صورت میں وہ عورت کیا کرے ؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ اگر شوہر متعسر النفقہ ہے یعنی عورت کے نان و نفقہ پورا کرنے میں کمزور ہے کہ اس کی طرف سے اس کی خوراک وپوشاک کا کوئی انتظام نہیں ہوتا ،اس نے اسے بے سہارا چھوڑ دیا اور وظیفہ زوجیت سے محرومی تو ظاہر و باہر ہے ، تو یہ بات تحقیق سے ثابت ہو جانے کے بعد قاضی اس کا نکاح فسخ کر سکتا ہے ۔ اور اگر وہ متعسر النفقہ نہیں ہے تو قاضی عورت کو چار سال کی مدت تک شوہر کے انتظار کا موقع دے گا ۔ اگر چار سال میں شوہر آگیا تو وہ اس کے ساتھ رہے اور اگر شوہر چار سال میں نہیں آیا تو عورت قاضی کے پاس جا کر دوبارہ استغاثہ کرے ، اب قاضی تحقیق حال کر کے بعد تصدیق نکاح ختم کر دے ۔ پھر عدت کے بعد اس عورت کو دوسرا نکاح کرنے کی اجازت ہوگی ۔ والله تعالى اعلم بالصواب ۔ کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پو ر 

Kutubahu & Verified by:

<h2>جس عورت کا شوہر غائب ہے اس کے لئے کیا حکم ہے ؟</h2> سوال: ایک عورت کا شوہر پانچ سال سے لاپتہ ہے ، اس کا کہیں سراغ بھی نہیں ملا اب ایسی صورت میں وہ عورت کیا کرے ؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> ایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ اگر شوہر متعسر النفقہ ہے یعنی عورت کے نان و نفقہ پورا کرنے میں کمزور ہے کہ اس کی طرف سے اس کی خوراک وپوشاک کا کوئی انتظام نہیں ہوتا ،اس نے اسے بے سہارا چھوڑ دیا اور وظیفہ زوجیت سے محرومی تو ظاہر و باہر ہے ، تو یہ بات تحقیق سے ثابت ہو جانے کے بعد قاضی اس کا نکاح فسخ کر سکتا ہے ۔ اور اگر وہ متعسر النفقہ نہیں ہے تو قاضی عورت کو چار سال کی مدت تک شوہر کے انتظار کا موقع دے گا ۔ اگر چار سال میں شوہر آگیا تو وہ اس کے ساتھ رہے اور اگر شوہر چار سال میں نہیں آیا تو عورت قاضی کے پاس جا کر دوبارہ استغاثہ کرے ، اب قاضی تحقیق حال کر کے بعد تصدیق نکاح ختم کر دے ۔ پھر عدت کے بعد اس عورت کو دوسرا نکاح کرنے کی اجازت ہوگی ۔ والله تعالى اعلم بالصواب ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پو ر </strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...