Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #957
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
6.9K Views
جس کو امام بنایا اس نے امامت کی نیت نہ کی تو کیا حکم ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
جس کو امام بنایا اس نے امامت کی نیت نہ کی تو کیا حکم ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
جس کو امام بنایا اس نے امامت کی نیت نہ کی تو کیا حکم ہے؟
جس کو امام بنایا اس نے امامت کی نیت نہ کی تو کیا حکم ہے؟اور جیکٹ کی چین بند کیے بغیر نماز کا حکم الســـــلام علیکـم و رحمتہ اللهِ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں۔ علماء دین ومفتیان عظام کہ ایک شخص اکیلا فرض نماز پڑھ رہا تھا دوسرا شخص آکر اسکے ساتھ شامل ہو گیا جبکہ وہ امام ہونے کی نیت نہیـــــں کیا تھا آیا دوسرے والے شخص کی نماز ہوگی یا نہیں؟ اور جیکٹ اوڑھ کر نماز پڑھانے سے نماز ہوگی یا نہیں؟ کیونکہ جیکٹ میـں چین ہوتا ہے ۔ وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ (١) کسی کی اقتدا میں نماز درست ہونے کے لیے کئی شرطیں ہیں، جن میں سے ایک شرط یہ ہے کہ اقتدا کرنے والا اقتدا کی نیت کرے ۔ لیکن اقتدا درست ہونے کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ نماز پڑھنے والا کسی کی امامت یا بلفظ دیگر مقتدی بنانے کی نیت کرے ۔ اسی لیے اگر کوئی تنہا نماز پڑھتا ہو اور اس کی کوئی اقتدا کرلے تو اقتدا درست ہے اگرچہ وہ امامت کی نیت نہ کرے ۔ ولہذا اگر کسی نے قسم کھائی کہ فلاں کی امامت نہ کرے گا اور اس فلاں نے اس کی اقتدا کرلی ۔ اور اس قسم کھانے والے نے اس شخص معین کا امام نہ ہونے کی نیت کی، تب بھی فلاں کی اقتدا درست ہوگی ۔ اور یہ قسم کھانے والا حانث ہوجائے گا ۔ یعنی: اس کی قسم ٹوٹ جائے گی، اور قسم کا کفارہ دینا ہوگا ۔ چناں چہ الاشباہ والنظائر میں ہے: “ولا یصحّ الاقتداء بامام الا بنیة، وتصح الامامة بدون نیتہا خلافا للکرخی وابی حفص الکبیر، الا اذا صلی خلفہ نساء، فان اقتداء ھنّ بلا نیة الامام للامامة غیر صحیح، واستثنی بعضہم الجمعة والعیدین، وھو الصحیح کما فی الخلاصة” (الاشباہ والنظائر مع الحموی ج١ ص ٦٢) اسی میں ہے: “ولو حلف ان لا یوم فلانا، فام الناس ناویا ان لا یومّہ، ویومّ غیرہ، فاقتدی بہ فلان حنث وان لم یعلم بہ” (الاشباہ والنظائر مع الحموی ج١ ص ٦۴) ہاں! ایک صورت میں امام اگر امامت کی نیت نہ کرے تو اقتدا صحیح نہیں ہوتی ہے اور وہ صورت یہ ہے کہ کسی عورت نے کسی شخص کی اقتدا کی نیت کی تو جب تک وہ امام اس عورت کی اقتدا کی نیت نہ کرے عورت کی اقتدا صحیح نہیں ہے۔جیسا کہ اشباہ کی عبارت اوپر گزرچکی ہے ۔ اور مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے: “ونية الرجل الإمامة شرط لصحة اقتداء النساء به” لما يلزم من الفساد بالمحاذاة، ومسألتها مشهورة ولو في الجمعة والعيدين على ما قاله الأكثر” (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔جیکٹ کی چین بند کیے بغیر نماز کا حکم
(٢): اگر جیکٹ کی آستین میں ہاتھ ڈال کر اور چین بند کرکے نماز پڑھی تو کسی طرح کوئی کراہت نہیں ہے ۔ کیوں کہ جیکٹ پہننے کا طریقہ اور اس کی وضع یہی ہے ۔ اور اگر آستین میں ہاتھ ڈال کر لیکن چین کھول کر نماز پڑھی تو نماز مکروہِ تنزیہی ہوگی ۔ لیکن اگر جیکٹ کی آستین میں ہاتھ ڈالے بغیر کندھے پر ڈال کر نماز پڑھی تو یہ سدلِ ثوب اور مکروہِ تحریمی ہے، نماز دہرانی واجب ہے ۔ امام اہل سنت مجدد دین وملت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “بلکہ (سدل: جو مکروہ تحریمی ہے وہ)کپڑا اوپر سے اس طرح سے ڈال لینا کہ دونوں جانبین لٹکتی رہیں مثلاً چادر سر یا کندھوں پرڈال لی اور دوبالا نہ مارا، یا انگرکھا کندھے پرڈال لیا اور آستین میں ہاتھ نہ ڈالا۔کما فی الدروغیرہ ۔ “اور اگرآستینوں میں ہاتھ ڈالے اور بند نہ باندھے تو یہ بھی سدل نہ رہا، اگرچہ خلاف معتاد ضرور ہے، ہاں امام ابوجعفر ہندوانی نے اس صورت کو مشابہ سدل ٹھہرا کر فرمایا کہ براکیا ۔ امام ابن امیرالحاج نےحلیہ میں ایک قید اور بڑھائی کہ اگرنیچے کرتا نہ ہو ورنہ حرج نہیں، اور اقرب یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں حرج ہے ۔ قال فی ردالمحتار : قال فی الخزائن بل ذکر ابوجعفر انہ لو ادخل یدیہ فی کمیہ ولم یشد وسطہ اولم یزر ازراہ فھو مسیئ لانہ یشبہ السدل اھ قلت لکن قال فی الحلیہ: فیہ نظر ظاھر بعد ان یکون تحتہ قمیص اونحوہ ممایستر البدن اھ “اقول : وفیہ نظر ظاھر؛ فان انکشاف شیء من صدر الرجل و بطنہ لا اساء ۃ فیہ اذا کان عاتقاہ مستورین ۔ وانما نھی النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم عما اذا صلی فی ثوب واحد ولیس علی عاتقہ منہ شیئ ۔ ولاشک ان ارسال اطراف مثل الشایہ من دون ان یزر ازارھا انما یشبہ السدل بنفس ھیأۃ، ولامدخل فیہ لوجود القمیص تحتہ وعدمہ لما ان السدل سدل وان کان فوق القمیص۔ ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ اقول : النظر ان کان ففی کراھۃ التحریم۔ اماالتنزیھی فلاشک فی ثبوتہ” “ہاں اگرقصداً ایساکیا یوں کہ نماز کومحل بے پرواہی جانا اور اس کا ادب واجلال ہلکا مانا توکراہت و حرمت درکنار معاذ ﷲ اسلام ہی نہ رہے گا۔ فی الصلٰوۃ حاسر الرأس اذاکان ۔ والعیاذ باللہ”(فتاوی رضویہ ج٣) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ٢٠/جمادی الاولی ١۴۴٣ھ//٢۴/دسمبر ١۴۴٣ء
Kutubahu & Verified by:
<h2>جس کو امام بنایا اس نے امامت کی نیت نہ کی تو کیا حکم ہے؟</h2> جس کو امام بنایا اس نے امامت کی نیت نہ کی تو کیا حکم ہے؟اور جیکٹ کی چین بند کیے بغیر نماز کا حکم الســـــلام علیکـم و رحمتہ اللهِ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں۔ علماء دین ومفتیان عظام کہ ایک شخص اکیلا فرض نماز پڑھ رہا تھا دوسرا شخص آکر اسکے ساتھ شامل ہو گیا جبکہ وہ امام ہونے کی نیت نہیـــــں کیا تھا آیا دوسرے والے شخص کی نماز ہوگی یا نہیں؟ اور جیکٹ اوڑھ کر نماز پڑھانے سے نماز ہوگی یا نہیں؟ کیونکہ جیکٹ میـں چین ہوتا ہے ۔ وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> <strong>(١)</strong> کسی کی اقتدا میں نماز درست ہونے کے لیے کئی شرطیں ہیں، جن میں سے ایک شرط یہ ہے کہ اقتدا کرنے والا اقتدا کی نیت کرے ۔ لیکن اقتدا درست ہونے کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ نماز پڑھنے والا کسی کی امامت یا بلفظ دیگر مقتدی بنانے کی نیت کرے ۔ اسی لیے اگر کوئی تنہا نماز پڑھتا ہو اور اس کی کوئی اقتدا کرلے تو اقتدا درست ہے اگرچہ وہ امامت کی نیت نہ کرے ۔ ولہذا اگر کسی نے قسم کھائی کہ فلاں کی امامت نہ کرے گا اور اس فلاں نے اس کی اقتدا کرلی ۔ اور اس قسم کھانے والے نے اس شخص معین کا امام نہ ہونے کی نیت کی، تب بھی فلاں کی اقتدا درست ہوگی ۔ اور یہ قسم کھانے والا حانث ہوجائے گا ۔ یعنی: اس کی قسم ٹوٹ جائے گی، اور قسم کا کفارہ دینا ہوگا ۔ چناں چہ الاشباہ والنظائر میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"ولا یصحّ الاقتداء بامام الا بنیة، وتصح الامامة بدون نیتہا خلافا للکرخی وابی حفص الکبیر، الا اذا صلی خلفہ نساء، فان اقتداء ھنّ بلا نیة الامام للامامة غیر صحیح، واستثنی بعضہم الجمعة والعیدین، وھو الصحیح کما فی الخلاصة"</strong></span> (الاشباہ والنظائر مع الحموی ج١ ص ٦٢) اسی میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"ولو حلف ان لا یوم فلانا، فام الناس ناویا ان لا یومّہ، ویومّ غیرہ، فاقتدی بہ فلان حنث وان لم یعلم بہ"</strong></span> (الاشباہ والنظائر مع الحموی ج١ ص ٦۴) ہاں! ایک صورت میں امام اگر امامت کی نیت نہ کرے تو اقتدا صحیح نہیں ہوتی ہے اور وہ صورت یہ ہے کہ کسی عورت نے کسی شخص کی اقتدا کی نیت کی تو جب تک وہ امام اس عورت کی اقتدا کی نیت نہ کرے عورت کی اقتدا صحیح نہیں ہے۔جیسا کہ اشباہ کی عبارت اوپر گزرچکی ہے ۔ اور مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"ونية الرجل الإمامة شرط لصحة اقتداء النساء به" لما يلزم من الفساد بالمحاذاة، ومسألتها مشهورة ولو في الجمعة والعيدين على ما قاله الأكثر"</strong></span> (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ <h3>جیکٹ کی چین بند کیے بغیر نماز کا حکم</h3> (٢): اگر جیکٹ کی آستین میں ہاتھ ڈال کر اور چین بند کرکے نماز پڑھی تو کسی طرح کوئی کراہت نہیں ہے ۔ کیوں کہ جیکٹ پہننے کا طریقہ اور اس کی وضع یہی ہے ۔ اور اگر آستین میں ہاتھ ڈال کر لیکن چین کھول کر نماز پڑھی تو نماز مکروہِ تنزیہی ہوگی ۔ لیکن اگر جیکٹ کی آستین میں ہاتھ ڈالے بغیر کندھے پر ڈال کر نماز پڑھی تو یہ سدلِ ثوب اور مکروہِ تحریمی ہے، نماز دہرانی واجب ہے ۔ امام اہل سنت مجدد دین وملت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "بلکہ (سدل: جو مکروہ تحریمی ہے وہ)کپڑا اوپر سے اس طرح سے ڈال لینا کہ دونوں جانبین لٹکتی رہیں مثلاً چادر سر یا کندھوں پرڈال لی اور دوبالا نہ مارا، یا انگرکھا کندھے پرڈال لیا اور آستین میں ہاتھ نہ ڈالا۔کما فی الدروغیرہ ۔ "اور اگرآستینوں میں ہاتھ ڈالے اور بند نہ باندھے تو یہ بھی سدل نہ رہا، اگرچہ خلاف معتاد ضرور ہے، ہاں امام ابوجعفر ہندوانی نے اس صورت کو مشابہ سدل ٹھہرا کر فرمایا کہ براکیا ۔ امام ابن امیرالحاج نےحلیہ میں ایک قید اور بڑھائی کہ اگرنیچے کرتا نہ ہو ورنہ حرج نہیں، اور اقرب یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں حرج ہے ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>قال فی ردالمحتار : قال فی الخزائن بل ذکر ابوجعفر انہ لو ادخل یدیہ فی کمیہ ولم یشد وسطہ اولم یزر ازراہ فھو مسیئ لانہ یشبہ السدل اھ قلت لکن قال فی الحلیہ: فیہ نظر ظاھر بعد ان یکون تحتہ قمیص اونحوہ ممایستر البدن اھ</strong></span> <span style="color: #ff0000;"><strong>"اقول : وفیہ نظر ظاھر؛ فان انکشاف شیء من صدر الرجل و بطنہ لا اساء ۃ فیہ اذا کان عاتقاہ مستورین ۔ وانما نھی النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم عما اذا صلی فی ثوب واحد ولیس علی عاتقہ منہ شیئ ۔ ولاشک ان ارسال اطراف مثل الشایہ من دون ان یزر ازارھا انما یشبہ السدل بنفس ھیأۃ، ولامدخل فیہ لوجود القمیص تحتہ وعدمہ لما ان السدل سدل وان کان فوق القمیص۔ ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ اقول : النظر ان کان ففی کراھۃ التحریم۔ اماالتنزیھی فلاشک فی ثبوتہ"</strong></span> "ہاں اگرقصداً ایساکیا یوں کہ نماز کومحل بے پرواہی جانا اور اس کا ادب واجلال ہلکا مانا توکراہت و حرمت درکنار معاذ ﷲ اسلام ہی نہ رہے گا۔ فی الصلٰوۃ حاسر الرأس اذاکان ۔ والعیاذ باللہ"(فتاوی رضویہ ج٣) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٠/جمادی الاولی ١۴۴٣ھ//٢۴/دسمبر ١۴۴٣ء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...