Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1847 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.4K Views

جس کپڑے پر تصویر بنی ہو اسے پہننا اور اس کی تجارت کرنا کیسا؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

جس کپڑے پر تصویر بنی ہو اسے پہننا اور اس کی تجارت کرنا کیسا؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

جس کپڑے پر تصویر بنی ہو اسے پہننا اور اس کی تجارت کرنا کیسا؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل کپڑوں پر انسان یا جانور کی تصاویر بنی ہوتی ہیں۔ یہ ارشاد فرمائیں کہ ایسالباس پہننا یا بچّوں کوپہناناکیسا ہے؟ نیز ایسے کپڑے بیچنے کا کیا حکم ہے؟ المستفتی عبد الرزاق الہ آباد یوپی انڈیا۔ الجواب-بعون الملک الوھاب اگر کپڑوں پر بنی ہوئی جاندار کی تصویر اتنی بڑی ہے کہ زمین پر رکھ کر کھڑے ہو کر دیکھیں تو چہرہ واضح ہو تو ایسا لباس پہننا یا بچوں کو پہنانا ، جائز نہیں ۔ نیز ایسا لباس بیچنا بھی ناجائز ہے۔ ہاں اگر کسی طرح اس کا چہرہ مٹادیا جائے تو پھر اس کا پہننا ، بچوں کو پہنانا اور بیچنا بھی جائز ہوگا۔ اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں : “ کسی جاندار کی تصویر جس میں اس کا چہرہ موجود ہو اور اتنی بڑی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے سے دیکھیں تو اعضاء کی تفصیل ظاہر ہو ، اس طرح کی تصویر جس کپڑے پر ہو اس کا پہننا ، پہنانا یا بیچنا ، خیرات کرنا سب ناجائز ہے اور اسے پہن کر نماز مکروہِ تحریمی ہے جس کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ ایسے کپڑے پر سے تصویر مٹادی جائے یا اس کا سر یا چہرہ بالکل محو کردیا جائے ، اس کے بعد اس کا پہننا ، پہنانا ، بیچنا ، خیرات کرنا ، اس سے نماز ، سب جائز ہوجائے گا۔ اگر وہ ایسے پکے رنگ کی ہو کہ مٹ نہ سکے دھل نہ سکے تو ایسے ہی پکے رنگ کی سیاہی اس کے سر یا چہرے پر اس طرح لگادی جائے کہ تصویر کا اتنا عضو محو ہوجائے صرف یہ نہ ہو کہ اتنے عضو کا رنگ سیاہ معلوم ہو کہ یہ محو ومنافی صورت نہ ہوگا۔ “ اھ (فتاویٰ رضویہ جدید ، ج٢٤، ص٥٦٨ ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اعلم بالصواب۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

Kutubahu & Verified by:

<h3>جس کپڑے پر تصویر بنی ہو اسے پہننا اور اس کی تجارت کرنا کیسا؟</h3> مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل کپڑوں پر انسان یا جانور کی تصاویر بنی ہوتی ہیں۔ یہ ارشاد فرمائیں کہ ایسالباس پہننا یا بچّوں کوپہناناکیسا ہے؟ نیز ایسے کپڑے بیچنے کا کیا حکم ہے؟ المستفتی عبد الرزاق الہ آباد یوپی انڈیا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب-بعون الملک الوھاب</strong></span> اگر کپڑوں پر بنی ہوئی جاندار کی تصویر اتنی بڑی ہے کہ زمین پر رکھ کر کھڑے ہو کر دیکھیں تو چہرہ واضح ہو تو ایسا لباس پہننا یا بچوں کو پہنانا ، جائز نہیں ۔ نیز ایسا لباس بیچنا بھی ناجائز ہے۔ ہاں اگر کسی طرح اس کا چہرہ مٹادیا جائے تو پھر اس کا پہننا ، بچوں کو پہنانا اور بیچنا بھی جائز ہوگا۔ اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں : “ کسی جاندار کی تصویر جس میں اس کا چہرہ موجود ہو اور اتنی بڑی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے سے دیکھیں تو اعضاء کی تفصیل ظاہر ہو ، اس طرح کی تصویر جس کپڑے پر ہو اس کا پہننا ، پہنانا یا بیچنا ، خیرات کرنا سب ناجائز ہے اور اسے پہن کر نماز مکروہِ تحریمی ہے جس کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ ایسے کپڑے پر سے تصویر مٹادی جائے یا اس کا سر یا چہرہ بالکل محو کردیا جائے ، اس کے بعد اس کا پہننا ، پہنانا ، بیچنا ، خیرات کرنا ، اس سے نماز ، سب جائز ہوجائے گا۔ اگر وہ ایسے پکے رنگ کی ہو کہ مٹ نہ سکے دھل نہ سکے تو ایسے ہی پکے رنگ کی سیاہی اس کے سر یا چہرے پر اس طرح لگادی جائے کہ تصویر کا اتنا عضو محو ہوجائے صرف یہ نہ ہو کہ اتنے عضو کا رنگ سیاہ معلوم ہو کہ یہ محو ومنافی صورت نہ ہوگا۔ “ اھ (فتاویٰ رضویہ جدید ، ج٢٤، ص٥٦٨ ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اعلم بالصواب۔ <strong>کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔</strong> <strong>صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...