01
The questionSawaal
اصل سوالجس کی تنخواہ چار ہزار سے زیادہ ہو اس پر زکوۃ ہے یا نہیں؟
02
The responseAl-Jawab
جس کی تنخواہ چار ہزار سے زیادہ ہو اس پر زکوۃ ہے یا نہیں؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک شخص کی تنخواہ چار ہزار سے کچھ زائد ہے سال بھر کے تنخواہ 50000 ہو جاتی ہے کیا اس پر زکوۃ نکالنا فرض ہے؟ بینوا و توجروا الجوابــــــــــــــــــ اگر شخص مذکور اپنی حاجت اصلیہ سے فارغ اتنے روپے کا مالک ہے جو نصاب کی قیمت کو پہنچتے ہوں یا تو بقدرِ نصاب نقدی روپے کا مالک نہ ہو مگر اس کے پاس سونا، چاندی یا اسباب تجارت وغیرہ ہوں جو خود تنہا یاں ایک دوسرے سے مل کر نصاب کی قیمت کو پہنچتے ہوں اور ان پر سال گزر جائے تو زکوۃ فرض ہے ورنہ نہیں. درمختار جلد دوم صفحہ 31 میں ہے ” نصاب الذھب عشرون مثقالا والفضۃ مائتا درھم” اس کے تحت شامی میں ہے ” فما دون ذلک لا زکوۃ فیہ” پھر در مختار جلد دوم صفحہ 33 پر ہے ” اللازم فی ارض تجارۃ قیمتہ نصاب من ذھب او ورق مقوما باحدھما ربع عشر ١ھ. مخلصا. واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ : مفتی خورشید احمد مصباحی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.