Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1190 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.4K Views

جس کی تین رکعتیں چھوٹ گئیں وہ اپنی نماز کیسے مکمل کرے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

جس کی تین رکعتیں چھوٹ گئیں وہ اپنی نماز کیسے مکمل کرے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

جس کی تین رکعتیں چھوٹ گئیں وہ اپنی نماز کیسے مکمل کرے ؟

سوال : حضرت ایک سوال تھا کہ اگر امام کے ساتھ چھوٹی ہوئی رکعت سلام کے بعد پڑھینگے تو کیا تعوذ و تسمیہ اور ثنا بھی پڑھینگے یہ صرف الحمد سے شروع کرینگے؟ اور امام کے ساتھ دو یا تین رکعت چھوٹ جائے تو باقی تین رکعت یا اور باقی نماز کس طرح پڑھیں گے؟ تفصیل سے جواب عطا فرمائیں؟ اللہ آپ کو اجر دے گا؟ ان شاء اللہ عزوجل سائل :عبداللہ ہڈکو کالونی مالیگاؤں اَلْجَوَابُ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ پوچھی گئی صورت میں وہ شخص (یعنی چار رکعتوں میں سے جس کی تین رکعتیں چھوٹ گئیں ) امام کےسلام کےبعد کھڑا ہوکر ثنا،تعوذ وتسمیہ پڑھےاور فاتحہ کےبعد سورت بھی ملائے ،پھر رکوع وسجود کرے اور پھر قعدہ کرے اور اس میں تشہد پڑھ کر کھڑا ہوجائے اور قیام میں سورۂ فاتحہ پڑھے اور اس کے ساتھ سورت بھی ملائے ،پھر رکوع وسجود کےبعد قعدہ نہ کرے ،بلکہ کھڑا ہوجائے،اس رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھےاوررکوع وسجود اور تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر لے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ امام کے سلام کےبعد جب یہ کھڑا ہوا، توقراءت کے اعتبار سے یہ اس کی پہلی رکعت تھی، لہذ ااس میں پہلی رکعت کی طرح ثنا ،تعوذوتسمیۃ پڑھے اور فاتحہ کے بعد سورت بھی ملائے گا اورایک رکعت امام کے ساتھ پڑھ چکا تھا ،لہذاتشہد کے اعتبار سے یہ اس کی دوسری رکعت تھی اس لیے قعدہ میں بیٹھ کر تشہد پڑھنے کا حکم ہے،اس کےبعد کھڑا ہوا،تو قراءت کےاعتبار سے اس کی دوسری رکعت ہوئی، لہذا اس میں دوسری رکعت کی طرح فاتحہ وسورت ملانے کا حکم ہے اور تشہد کے اعتبار سے یہ تیسری رکعت تھی اس لیے قعدہ میں نہیں بیٹھے گااورآخری رکعت میں قیام میں کھڑا ہوا،توقراءت کےاعتبار سے یہ اس کی تیسری رکعت تھی، لہذا اس میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھ کر رکوع میں چلا جائے گا ۔ البتہ اگر مسبوق(یعنی جس کی چار رکعت میں سے تین چھوٹ گئیں ) امام کے بعد والی رکعت کا قعدہ نہ کرے، بلکہ سلام کے بعد دورکعت پڑھنے کے بعد قعدہ کرے تو یہ بھی استحساناً جائز ہے اس کی نماز ہوجائےگی کہ من وجہ یہ پہلی رکعت ہےاور پہلی رکعت میں قعدہ نہیں ہوتا ،لیکن بہتر طریقہ وہی ہےجو اوپر بیان ہوا یعنی سلام کے بعد پہلی رکعت مکمل کرکے قعدہ اولیٰ کرے۔ مسبوق کی نماز کے بارےمیں درمختار ہے :’’ویقضی اول صلاتہ فی حق قراءۃ و آخرھا فی حق تشھد فمدرک رکعۃ من غیر فجر یاتی برکعتین بفاتحۃ وسورۃ وتشھد بینھا ،وبرابعۃ الرباعی بفاتحۃ فقط ولایقعد قبلھا‘‘مسبوق قراءت کے حق میں پہلی رکعت پڑھےگااور تشہد کے حق میں دوسری رکعت پڑھے گا ،پس فجر کے علاوہ کی نمازوں میں ایک رکعت کو پانے والا دورکعتوں کو فاتحہ اور سورت کے ساتھ پڑھے اوران کے درمیان تشہد بھی پڑھے اورچار رکعت والی نماز کی چوتھی رکعت میں صرف فاتحہ پڑھے او راس سے پہلے قعدہ بھی نہ کرے۔ ردالمحتار میں ہے :’’(وتشھدبینھا) قال فی شرح المنیۃ:ولو لم یقعد جاز استحسانا لا قیاسا ولم یلزمہ سجودالسھو لکون الرکعۃ اولی من وجہ ‘‘شرح منیہ میں ہے کہ اگر وہ ان دورکعتوں کے درمیان نہ بیٹھے، تو بھی استحساناً، جائز ہے، نہ کہ قیاساً اور اس پر سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہوگا ، کیونکہ ایک اعتبار سے یہ اس کی پہلی رکعت ہے ۔ (الدرالمختار مع ردالمحتار،جلد2،صفحہ 418) امام اہلسنت امام احمدرضا خان علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ’’جس امام کےساتھ چار رکعت کی نماز میں ایک رکعت ملی ،وہ باقی نماز کیونکر(کیسے) اد اکرے؟‘‘ تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جوابا ً ارشاد فرمایا:’’امام کےسلام کے بعد اٹھ کر ایک رکعت فاتحہ وسورت کے ساتھ پڑھے اوراس پر التحیات کےلیے بیٹھے ،پھر کھڑا ہو کر ایک رکعت فاتحہ وسورت کے ساتھ پڑھے اوراس پر نہ بیٹھے ،پھر ایک رکعت صرف فاتحہ کے ساتھ پڑھے اورقعدہ اخیرہ کر کےسلام پھیر دے۔‘‘ (فتاوی رضویہ ،جلد7،صفحہ 242) ایک دوسرے مقام پر امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مغرب کی ایک رکعت پانے والے مسبوق کےبارے میں فرماتےہیں کہ’’یہاں تک کہ غنیہ شرح منیہ میں فرمایا: اگر ایک رکعت پڑھ کر قعدہ نہ کیا، توقیاس یہ ہے کہ نما ز ناجائز ہو یعنی ترک واجب کےسبب ناقص وواجب الاعادہ ، البتہ استحسانا حکم جواز وعدمِ وجوب ِ اعادہ دیاگیا کہ یہ رکعت من وجہ پہلی بھی ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ ،جلد7،صفحہ 234،) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Kutubahu & Verified by:

<h2>جس کی تین رکعتیں چھوٹ گئیں وہ اپنی نماز کیسے مکمل کرے ؟</h2> سوال : حضرت ایک سوال تھا کہ اگر امام کے ساتھ چھوٹی ہوئی رکعت سلام کے بعد پڑھینگے تو کیا تعوذ و تسمیہ اور ثنا بھی پڑھینگے یہ صرف الحمد سے شروع کرینگے؟ اور امام کے ساتھ دو یا تین رکعت چھوٹ جائے تو باقی تین رکعت یا اور باقی نماز کس طرح پڑھیں گے؟ تفصیل سے جواب عطا فرمائیں؟ اللہ آپ کو اجر دے گا؟ ان شاء اللہ عزوجل سائل :عبداللہ ہڈکو کالونی مالیگاؤں <span style="color: #ff0000;"><strong>اَلْجَوَابُ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ</strong></span> پوچھی گئی صورت میں وہ شخص (یعنی چار رکعتوں میں سے جس کی تین رکعتیں چھوٹ گئیں ) امام کےسلام کےبعد کھڑا ہوکر ثنا،تعوذ وتسمیہ پڑھےاور فاتحہ کےبعد سورت بھی ملائے ،پھر رکوع وسجود کرے اور پھر قعدہ کرے اور اس میں تشہد پڑھ کر کھڑا ہوجائے اور قیام میں سورۂ فاتحہ پڑھے اور اس کے ساتھ سورت بھی ملائے ،پھر رکوع وسجود کےبعد قعدہ نہ کرے ،بلکہ کھڑا ہوجائے،اس رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھےاوررکوع وسجود اور تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر لے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ امام کے سلام کےبعد جب یہ کھڑا ہوا، توقراءت کے اعتبار سے یہ اس کی پہلی رکعت تھی، لہذ ااس میں پہلی رکعت کی طرح ثنا ،تعوذوتسمیۃ پڑھے اور فاتحہ کے بعد سورت بھی ملائے گا اورایک رکعت امام کے ساتھ پڑھ چکا تھا ،لہذاتشہد کے اعتبار سے یہ اس کی دوسری رکعت تھی اس لیے قعدہ میں بیٹھ کر تشہد پڑھنے کا حکم ہے،اس کےبعد کھڑا ہوا،تو قراءت کےاعتبار سے اس کی دوسری رکعت ہوئی، لہذا اس میں دوسری رکعت کی طرح فاتحہ وسورت ملانے کا حکم ہے اور تشہد کے اعتبار سے یہ تیسری رکعت تھی اس لیے قعدہ میں نہیں بیٹھے گااورآخری رکعت میں قیام میں کھڑا ہوا،توقراءت کےاعتبار سے یہ اس کی تیسری رکعت تھی، لہذا اس میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھ کر رکوع میں چلا جائے گا ۔ البتہ اگر مسبوق(یعنی جس کی چار رکعت میں سے تین چھوٹ گئیں ) امام کے بعد والی رکعت کا قعدہ نہ کرے، بلکہ سلام کے بعد دورکعت پڑھنے کے بعد قعدہ کرے تو یہ بھی استحساناً جائز ہے اس کی نماز ہوجائےگی کہ من وجہ یہ پہلی رکعت ہےاور پہلی رکعت میں قعدہ نہیں ہوتا ،لیکن بہتر طریقہ وہی ہےجو اوپر بیان ہوا یعنی سلام کے بعد پہلی رکعت مکمل کرکے قعدہ اولیٰ کرے۔ مسبوق کی نماز کے بارےمیں درمختار ہے :’<span style="color: #ff0000;"><strong>’ویقضی اول صلاتہ فی حق قراءۃ و آخرھا فی حق تشھد فمدرک رکعۃ من غیر فجر یاتی برکعتین بفاتحۃ وسورۃ وتشھد بینھا ،وبرابعۃ الرباعی بفاتحۃ فقط ولایقعد قبلھا‘‘</strong></span>مسبوق قراءت کے حق میں پہلی رکعت پڑھےگااور تشہد کے حق میں دوسری رکعت پڑھے گا ،پس فجر کے علاوہ کی نمازوں میں ایک رکعت کو پانے والا دورکعتوں کو فاتحہ اور سورت کے ساتھ پڑھے اوران کے درمیان تشہد بھی پڑھے اورچار رکعت والی نماز کی چوتھی رکعت میں صرف فاتحہ پڑھے او راس سے پہلے قعدہ بھی نہ کرے۔ ردالمحتار میں ہے :<span style="color: #ff0000;"><strong>’’(وتشھدبینھا) قال فی شرح المنیۃ:ولو لم یقعد جاز استحسانا لا قیاسا ولم یلزمہ سجودالسھو لکون الرکعۃ اولی من وجہ ‘‘</strong></span>شرح منیہ میں ہے کہ اگر وہ ان دورکعتوں کے درمیان نہ بیٹھے، تو بھی استحساناً، جائز ہے، نہ کہ قیاساً اور اس پر سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہوگا ، کیونکہ ایک اعتبار سے یہ اس کی پہلی رکعت ہے ۔ (الدرالمختار مع ردالمحتار،جلد2،صفحہ 418) امام اہلسنت امام احمدرضا خان علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ’’جس امام کےساتھ چار رکعت کی نماز میں ایک رکعت ملی ،وہ باقی نماز کیونکر(کیسے) اد اکرے؟‘‘ تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جوابا ً ارشاد فرمایا:’’امام کےسلام کے بعد اٹھ کر ایک رکعت فاتحہ وسورت کے ساتھ پڑھے اوراس پر التحیات کےلیے بیٹھے ،پھر کھڑا ہو کر ایک رکعت فاتحہ وسورت کے ساتھ پڑھے اوراس پر نہ بیٹھے ،پھر ایک رکعت صرف فاتحہ کے ساتھ پڑھے اورقعدہ اخیرہ کر کےسلام پھیر دے۔‘‘ (فتاوی رضویہ ،جلد7،صفحہ 242) ایک دوسرے مقام پر امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مغرب کی ایک رکعت پانے والے مسبوق کےبارے میں فرماتےہیں کہ’’یہاں تک کہ غنیہ شرح منیہ میں فرمایا: اگر ایک رکعت پڑھ کر قعدہ نہ کیا، توقیاس یہ ہے کہ نما ز ناجائز ہو یعنی ترک واجب کےسبب ناقص وواجب الاعادہ ، البتہ استحسانا حکم جواز وعدمِ وجوب ِ اعادہ دیاگیا کہ یہ رکعت من وجہ پہلی بھی ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ ،جلد7،صفحہ 234،) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم التدریس والافتا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...