Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #992 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.4K Views

جماعت کے ساتھ نفل نماز پڑھنا کیسا ؟ / مسائل ورلڈ

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

جماعت کے ساتھ نفل نماز پڑھنا کیسا ؟ / مسائل ورلڈ

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

جماعت کے ساتھ نفل نماز پڑھنا کیسا ؟

السلام علیکم و رحمت اللہ علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ نفل نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا کیسا بے جواب عنایت فرمائیں ۔ سائل :- محمد جمشید رضوی ممبر سنی مسـائل شـرعیـہ گـــروپ وعليـــــــكم الســـــلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ جماعت کے ساتھ نوافل ادا کرنے کی دو صورتیں ہیں. (۱)بغیر تداعی کے نوافل کی جماعت کروانا (۲)تداعی کے ساتھ جماعت کروانا۔ دونوں صورتوں کا حکم ملاحظہ فرمائیں ۔ (۱) بغیر تداعی کے نوافل کی جماعت کروانا بالاجماع جائز ہے ۔ تداعی کا مطلب یہ کہ لوگوں کو جماعت کے لیے بلانا اور انہیں جمع کرنا اور اصح قول کے مطابق اگر امام کے علاوہ چار یا اس سے زائد مقتدی ہوں ، تو یہ تداعی ہے اور اگر اس سے کم ہوں، تو نہیں ۔ (۲) اگر نوافل کی جماعت تداعی کے ساتھ ہو ، تونماز ِ تراویح اورکسوف و استسقاء یعنی سور ج گہن اورطلب بارش کے لیے پڑھے جانے والے نوافل بھی بلا کراہت جائز ہیں ، جبکہ ان کے علاوہ دیگر نوافل بطورِتداعی جماعت کے ساتھ اداکرنا مکروہ ِتنزیہی و خلاف ِ اولی ہے،ناجائز وگناہ نہیں،البتہ اگر لوگ صلوٰۃ التسبیح ،صلوٰۃ التوبہ ،تہجد یا دیگر نوافل جماعت کے ساتھ ادا کریں ، تو انہیں منع نہ کیا جائے کہ عوام الناس کی پہلے ہی نیکیوں میں رغبت کم ہے اور جو لوگ جماعت کی وجہ سے نوافل ادا کر لیتے ہیں ، اگر انہیں بھی منع کر دیا جائے ، تو ان کے بالکل ہی نوافل چھوڑ دینے کے امکان زیادہ ہیں ۔ جیسا کہ مخفی نہیں ۔ اسی وجہ سے فقہاء کرام رحمہم اللہ السلام نے ایسی ممانعت سے منع فرمایاہے۔ اور سیدی سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں کہ تراویح وکسوف واستسقاء کے سوا جماعت ِنوافل میں ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کا مذہب معلوم ومشہور اور عامہ کتب مذہب میں مذکور ومسطور ہے کہ بلاتداعی مضائقہ نہیں اور تداعی کے ساتھ مکروہ ۔ تداعی ایک دوسرے کو بلانا جمع کرنا اور اسے کثرت جماعت لازم عادی ہے بالجملہ دو مقتدیوں میں بالاجماع جائز اور پانچ میں بالاتفاق مکروہ اور تین اور چارمیں اختلاف نقل ومشائخ ،اور اصح یہ کہ تین میں کراہت نہیں، چار میں ہے، تو مذہب ِمختار یہ نکلاکہ امام کے سوا چار یا زائد ہوں تو کراہت ہے ورنہ نہیں پھر اظہر یہ ہے کہ یہ کراہت صرف تنزیہی ہے یعنی خلاف اولیٰ لمخالف التوارث، نہ تحریمی کہ گناہ وممنوع ہو ۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ شریف ،ج۷،ص ۴۳۰/ ۴۳۱.مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن،لاھور ) واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب ✍🏻 محمــــــــد نورجمال رضــوی دیـناج پوری منجانب:- سنی مسـائل شرعیـہ گــروپ

Kutubahu & Verified by:

<h2>جماعت کے ساتھ نفل نماز پڑھنا کیسا ؟</h2> السلام علیکم و رحمت اللہ علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ نفل نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا کیسا بے جواب عنایت فرمائیں ۔ سائل :- محمد جمشید رضوی ممبر سنی مسـائل شـرعیـہ گـــروپ وعليـــــــكم الســـــلام ورحمة اللہ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> جماعت کے ساتھ نوافل ادا کرنے کی دو صورتیں ہیں. (۱)بغیر تداعی کے نوافل کی جماعت کروانا (۲)تداعی کے ساتھ جماعت کروانا۔ دونوں صورتوں کا حکم ملاحظہ فرمائیں ۔ <strong>(۱)</strong> بغیر تداعی کے نوافل کی جماعت کروانا بالاجماع جائز ہے ۔ تداعی کا مطلب یہ کہ لوگوں کو جماعت کے لیے بلانا اور انہیں جمع کرنا اور اصح قول کے مطابق اگر امام کے علاوہ چار یا اس سے زائد مقتدی ہوں ، تو یہ تداعی ہے اور اگر اس سے کم ہوں، تو نہیں ۔ <strong>(۲)</strong> اگر نوافل کی جماعت تداعی کے ساتھ ہو ، تونماز ِ تراویح اورکسوف و استسقاء یعنی سور ج گہن اورطلب بارش کے لیے پڑھے جانے والے نوافل بھی بلا کراہت جائز ہیں ، جبکہ ان کے علاوہ دیگر نوافل بطورِتداعی جماعت کے ساتھ اداکرنا مکروہ ِتنزیہی و خلاف ِ اولی ہے،ناجائز وگناہ نہیں،البتہ اگر لوگ صلوٰۃ التسبیح ،صلوٰۃ التوبہ ،تہجد یا دیگر نوافل جماعت کے ساتھ ادا کریں ، تو انہیں منع نہ کیا جائے کہ عوام الناس کی پہلے ہی نیکیوں میں رغبت کم ہے اور جو لوگ جماعت کی وجہ سے نوافل ادا کر لیتے ہیں ، اگر انہیں بھی منع کر دیا جائے ، تو ان کے بالکل ہی نوافل چھوڑ دینے کے امکان زیادہ ہیں ۔ جیسا کہ مخفی نہیں ۔ اسی وجہ سے فقہاء کرام رحمہم اللہ السلام نے ایسی ممانعت سے منع فرمایاہے۔ اور سیدی سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں کہ تراویح وکسوف واستسقاء کے سوا جماعت ِنوافل میں ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کا مذہب معلوم ومشہور اور عامہ کتب مذہب میں مذکور ومسطور ہے کہ بلاتداعی مضائقہ نہیں اور تداعی کے ساتھ مکروہ ۔ تداعی ایک دوسرے کو بلانا جمع کرنا اور اسے کثرت جماعت لازم عادی ہے بالجملہ دو مقتدیوں میں بالاجماع جائز اور پانچ میں بالاتفاق مکروہ اور تین اور چارمیں اختلاف نقل ومشائخ ،اور اصح یہ کہ تین میں کراہت نہیں، چار میں ہے، تو مذہب ِمختار یہ نکلاکہ امام کے سوا چار یا زائد ہوں تو کراہت ہے ورنہ نہیں پھر اظہر یہ ہے کہ یہ کراہت صرف تنزیہی ہے یعنی خلاف اولیٰ لمخالف التوارث، نہ تحریمی کہ گناہ وممنوع ہو ۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ شریف ،ج۷،ص ۴۳۰/ ۴۳۱.مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن،لاھور ) واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>✍🏻 محمــــــــد نورجمال رضــوی دیـناج پوری</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>منجانب:- سنی مسـائل شرعیـہ گــروپ</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...