Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #980 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.9K Views

جمعہ کی اذان ثانی کہاں پر کہنا چاہئیے ؟ مسجد کے اندر یا باہر ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

جمعہ کی اذان ثانی کہاں پر کہنا چاہئیے ؟ مسجد کے اندر یا باہر ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

جمعہ کی اذان ثانی کہاں پر کہنا چاہئیے ؟ مسجد کے اندر یا باہر ؟

سلام مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض یہ ہے کہ ہماری مسجد میں محراب کیے پیچھے مغرب کی جانب کمرہ نما ایک جگہ اذان کہنے کیلئے مختص ہے ۔ کیا جمعہ کی اذان ثانی بھی ہم وہاں کہ سکتے ہیں ،جبکہ امام صاحب محراب میں منبر پر تشریف فرما ہوتے ہیں ۔ اور اذان منبر کے پیچھے مختص جگہ پر کہی جاتی ہے ۔ تو کیا حکم شرع ہوگا رھنمائی فرمادیں جزاک اللہ خیرا کثیرا ۔ حافظ وکیل احمد عطاری کھپرو سندھ پاکستان ۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب: اذان ثانی امام کے سامنے اور مسجد سے باہر دی جائے ۔ کیونکہ زمانہ رسالت سے چلتی آئی ہے ۔ اس کے خلاف کرنا درست نہیں ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں یہ اذان مسجد سے باہر دروازے پر ہوتی تھی ۔ سنن ابی داؤد شریف جلد اول صفحہ ۱۵۵ میں ہے: عن السائب بن یزید رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال کان یؤذن بین یدی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اذاجلس علی المنبر یوم الجمعۃ علی باب المسجد وابی بکر وعمر ۱؎۔ سائب بن یزید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے فرمایا جب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تشریف رکھتے تو حضور کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان ہوتی اور ایسا ہی ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کے زمانے میں۔ اور کبھی منقول نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا خلفائے راشدین نے مسجد کے اندر اذان دلوائی ہو، اگر اس کی اجازت ہوتی تو بیان جواز کے لئے کبھی ایسا ضرور فرماتے۔(حوالہ فتاوی رضویہ شریف ج۵ ص۳۹۸ رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔ واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب کتبہ: فقیر محمد اشفاق عطاری ۲۳ جمادی الاولی ۱۴۴۳ ہجری ۲۸ دسمبر ۲۰۲۱ عیسوی بروز پیر

Kutubahu & Verified by:

<h2>جمعہ کی اذان ثانی کہاں پر کہنا چاہئیے ؟ مسجد کے اندر یا باہر ؟</h2> سلام مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض یہ ہے کہ ہماری مسجد میں محراب کیے پیچھے مغرب کی جانب کمرہ نما ایک جگہ اذان کہنے کیلئے مختص ہے ۔ کیا جمعہ کی اذان ثانی بھی ہم وہاں کہ سکتے ہیں ،جبکہ امام صاحب محراب میں منبر پر تشریف فرما ہوتے ہیں ۔ اور اذان منبر کے پیچھے مختص جگہ پر کہی جاتی ہے ۔ تو کیا حکم شرع ہوگا رھنمائی فرمادیں جزاک اللہ خیرا کثیرا ۔ حافظ وکیل احمد عطاری کھپرو سندھ پاکستان ۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب:</strong></span> اذان ثانی امام کے سامنے اور مسجد سے باہر دی جائے ۔ کیونکہ زمانہ رسالت سے چلتی آئی ہے ۔ اس کے خلاف کرنا درست نہیں ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں یہ اذان مسجد سے باہر دروازے پر ہوتی تھی ۔ سنن ابی داؤد شریف جلد اول صفحہ ۱۵۵ میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>عن السائب بن یزید رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال کان یؤذن بین یدی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اذاجلس علی المنبر یوم الجمعۃ علی باب المسجد وابی بکر وعمر ۱؎۔</strong></span> سائب بن یزید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے فرمایا جب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تشریف رکھتے تو حضور کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان ہوتی اور ایسا ہی ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کے زمانے میں۔ اور کبھی منقول نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا خلفائے راشدین نے مسجد کے اندر اذان دلوائی ہو، اگر اس کی اجازت ہوتی تو بیان جواز کے لئے کبھی ایسا ضرور فرماتے۔(حوالہ فتاوی رضویہ شریف ج۵ ص۳۹۸ رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔ واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: فقیر محمد اشفاق عطاری </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>۲۳ جمادی الاولی ۱۴۴۳ ہجری</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>۲۸ دسمبر ۲۰۲۱ عیسوی بروز پیر</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...