Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1816 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.8K Views

جنات و شیاطین سے حفاظت کی تعویذ |حرز ابودجانہ

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

جنات و شیاطین سے حفاظت کی تعویذ |حرز ابودجانہ

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

جنات و شیاطین سے حفاظت کی تعویذ |حرز ابودجانہ

سوال کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام و مفتیان عظام کہ سلسلہ اشرفیہ کے ایک بزرگ سید مُحَمَّد اشرف اشرفی الجیلانی مدظلہ العالی نے فرمایا کہ جنات حضرت ابودجانہ کو بھی پریشان کرتے تھے حضور ﷺ نے انھیں ایک تعویذ مولی علی سے لکھوا کر عطا فرمایا کیا یہ صحیح وہ تعویذ کیا ہے اور اس تعویذ کی خاصیت کیا ہے مدلل جواب عنایت فرماٸیں المستفتی مُحَمَّد ایمان قادری بنگال الجواب بعون الملک الوھاب گل گلزارسید النسب حضرت علامہ ڈاکٹر ابو المکرم سید شاہ مُحَمَّد اشرف اشرفی الجیلانی دام لطفہ خانقاہ اشرفیہ فردوس کلونی پاکستان نے جو واقعہ سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ کا بیان فرمایا ہے بالکل صحیح و درست ہے اور اس تعویذ کی خصوصيت یہ ھکہ کسی کسی جگہ یا گھر یا دکان وغيرہ پر آسیب وجنات موجود ہوں جو ضرر پہونچاتے ہوں یا جن کی وجہ سے پریشانیاں لاحق ہوتی ہوں تو ایسی حالت میں ابودجانہ کا تعویذ یعنی جسکو حرزِ أبو دجانہ کہا جاتا ہے کا عمل کریں یا لکھ کر دروازہ پر لٹکادیں ان شاء اللہ شر اجنہ سے محفوظ و مامون رہنگے نیز اسیب سے چھٹکارہ حاصل ہو گا گویا کہ حرز ابودجانہ جنات کو بھگانے کا نسخٸہ کیمیا اور تریاق ہے اسکی برکت سے تمام شیاطین و اجنہ دفع ہو جاٸنگے اب مکمل واقعہ درج کیا جاتا ہے ملاحظہ فرماٸیں چنانچہ مفسر قرآن علامہ جلال الدین سیوطی متوفی 911 ھ تحریر فرماتے ہیں کہ امام بہیقی نے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابو دجانہ رضی ﷲتعالیٰ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے دربار اقدس میں عرض کی کہ یا رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں رات کو بستر پر لیٹتا ہوں تو اپنے گھر میں چکی چلنے کی آواز’ شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی آواز سنا کرتا ہوں اور کبھی کبھی بجلی کی سی چمک بھی دیکھتا ہوں ایک رات میں نے کچھ خوف زدہ ہو کر سر اٹھا یا تو صحن میں ایک کالا سایہ نظر آیا جو لمحہ بہ لمحہ اونچا اور لمبا ہوتا جا رہا تھا میں نے لپک کر بڑھ کر اس کو چھوا تو اس کی کھال ساہی کی کھال کی طرح کاٹنے والی تھی پھر اس نے میرے منہ پر آگ کا ایک شعلہ پھینکا اور مجھے محسوس ہوا کہ اب مجھے یہ جلاکر بھسم کردے گا حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے میری یہ شکایت سن کر حکم فرمایا کہ قلم دوات اور کاغذ لاؤ میں نے پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے حضرت علی کرم اﷲوجہہ سے فرمایا کاغذ پر یہ کلمات لکھو بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ ھٰذَا کِتَابٌ مِّنْ مُحَمَّدِ رَّسُوْلِ اللہ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اِلٰی مَنْ طَرَقَ الدَّارَ مِنَ الْعُمَّارِ وَ الزُّوَّارِ وَالسَّائِحِیْنَ اِلَّا طَارِقٌ یَّطْرُقُ بِخَیْرٍ یَارَحْمٰنُO اَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ لَنَا وَلَکُمْ فِی الْحَقِّ سَعَۃً فَاِنْ تَکُ عَاشِقاً مُوْلِعاً اَوْفَاجِرًا مُقْتَحِمًا اَوْرَاعِیاً حَقْاً مُبْطِلاً فَھٰذَا کِتَا بٌ یَّنْطِقُ عَلَیْنَا وَ عَلَیْکُم بِالْحَقِّ اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَO وَرُسُلُنَا یَکْتُبُوْنَ مَا تَمْکُرُوْنَO اُتْرُکُوْاصَاحِبَ کِتَابِیْ ھٰذَا وَاَنْطَلِقُوْ اِلٰی عَبَدَۃِ الْاَ صَنْامِ وَاِلٰی مَنْ یَّزْ عَمُ اَنَّ مَعَ اللہِ اِلٰھًا اٰخَرَ لَآاِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ؕ کُلَّ شَیْءٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْھَہٗ لَہُ الْحُکْمُ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ O تغلبُوْنَ O حٰمۤ O لَا تُنْصَرُوْنَ O حٰمۤ O عٓسٓقٓO تَفَوَّقَ اَعْدَآءُ اللہِ وَبَلَغَتْ حُجَّۃُ اللہِ وَلَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ ؕ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللہُ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ؕ حضرت ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس حرز یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا عطا کردہ تعویذ لیکر پنے گھر آۓ اور رات کو اپنے سر کے نیچے رکھ کر سوئے تو ان کی آنکھ اس وقت کھلی جب کوئی چلاچلا کر کہہ رہا تھا کہ اے ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لات و عزی کی قسم ہے کہ میں ان کلمات سے جل رہا ہوں میں اس تحریر والے کے حق کا وسیلہ دے کر کہتا ہوں کہ اگر تم نے اس حرز کو اٹھا لیا تو ہم تمہارے گھر اور تمہارے ہمسایہ کے گھر نہ آئیں گے حضرت ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فجر کو مسجد نبوي صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں آئے اور نماز پڑھ کر رات کاماجرا سنایا تو حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا۔ اے ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ! اس ذات کی قسم ہے مجھے جس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اب یہ آسیب قیامت تک عذاب کی ٹیسیں محسوس کرتا رہیگا (خصائص الکبریٰ فی معجزة خیر الوری جلد 2 صفحہ 283 تا 284 مطبوعہ اعظم پبلی کیشنز دھلی) الحاصل مذکورة الذکر واقعہ صحیح درست ہے اسکی خصوصيات یہ ہیں کہ اگر کسی جگہ پر جنات کا سایہ و اثر یا خلل ہو تو اس جگہ پر صبح و شام بلند آواز سے حرز ابو دجانہ پڑھا جائے اور پرنٹ کر کے اس جگہ پر یا دیوار یا مکان کے دروازہ پر چسپاں کیا جائےاس کی برکت سے تمام جن و شیاطین دفع ہو جائیں گے گھر چین و امن کا گہوارہ بن جاۓ گا ان شاء اللہ واللہ تعالی اعلم و صلی اللہ تعالی علی حبیبہ الف الف مرة و الہ و ازواجہ و اھلبیتہ و بارک وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــہ احوج الناس الی شفاعة سید الانس والجان مُحَمَّد قاسم القادری نعیمی اشرفی چشتی غفرلہ اللہ القوی شیش گڑھ بریلی شریف خادم غوثیہ دار الافتا صدیقی مارکیٹ کاشی پور اتراکھنڈ

Kutubahu & Verified by:

<h3>جنات و شیاطین سے حفاظت کی تعویذ |حرز ابودجانہ</h3> سوال کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام و مفتیان عظام کہ سلسلہ اشرفیہ کے ایک بزرگ سید مُحَمَّد اشرف اشرفی الجیلانی مدظلہ العالی نے فرمایا کہ جنات حضرت ابودجانہ کو بھی پریشان کرتے تھے حضور ﷺ نے انھیں ایک تعویذ مولی علی سے لکھوا کر عطا فرمایا کیا یہ صحیح وہ تعویذ کیا ہے اور اس تعویذ کی خاصیت کیا ہے مدلل جواب عنایت فرماٸیں المستفتی مُحَمَّد ایمان قادری بنگال <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب </strong></span> گل گلزارسید النسب حضرت علامہ ڈاکٹر ابو المکرم سید شاہ مُحَمَّد اشرف اشرفی الجیلانی دام لطفہ خانقاہ اشرفیہ فردوس کلونی پاکستان نے جو واقعہ سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ کا بیان فرمایا ہے بالکل صحیح و درست ہے اور اس تعویذ کی خصوصيت یہ ھکہ کسی کسی جگہ یا گھر یا دکان وغيرہ پر آسیب وجنات موجود ہوں جو ضرر پہونچاتے ہوں یا جن کی وجہ سے پریشانیاں لاحق ہوتی ہوں تو ایسی حالت میں ابودجانہ کا تعویذ یعنی جسکو حرزِ أبو دجانہ کہا جاتا ہے کا عمل کریں یا لکھ کر دروازہ پر لٹکادیں ان شاء اللہ شر اجنہ سے محفوظ و مامون رہنگے نیز اسیب سے چھٹکارہ حاصل ہو گا گویا کہ حرز ابودجانہ جنات کو بھگانے کا نسخٸہ کیمیا اور تریاق ہے اسکی برکت سے تمام شیاطین و اجنہ دفع ہو جاٸنگے اب مکمل واقعہ درج کیا جاتا ہے ملاحظہ فرماٸیں چنانچہ مفسر قرآن علامہ جلال الدین سیوطی متوفی 911 ھ تحریر فرماتے ہیں کہ امام بہیقی نے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابو دجانہ رضی ﷲتعالیٰ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے دربار اقدس میں عرض کی کہ یا رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں رات کو بستر پر لیٹتا ہوں تو اپنے گھر میں چکی چلنے کی آواز’ شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی آواز سنا کرتا ہوں اور کبھی کبھی بجلی کی سی چمک بھی دیکھتا ہوں ایک رات میں نے کچھ خوف زدہ ہو کر سر اٹھا یا تو صحن میں ایک کالا سایہ نظر آیا جو لمحہ بہ لمحہ اونچا اور لمبا ہوتا جا رہا تھا میں نے لپک کر بڑھ کر اس کو چھوا تو اس کی کھال ساہی کی کھال کی طرح کاٹنے والی تھی پھر اس نے میرے منہ پر آگ کا ایک شعلہ پھینکا اور مجھے محسوس ہوا کہ اب مجھے یہ جلاکر بھسم کردے گا حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے میری یہ شکایت سن کر حکم فرمایا کہ قلم دوات اور کاغذ لاؤ میں نے پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے حضرت علی کرم اﷲوجہہ سے فرمایا کاغذ پر یہ کلمات لکھو بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ ھٰذَا کِتَابٌ مِّنْ مُحَمَّدِ رَّسُوْلِ اللہ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اِلٰی مَنْ طَرَقَ الدَّارَ مِنَ الْعُمَّارِ وَ الزُّوَّارِ وَالسَّائِحِیْنَ اِلَّا طَارِقٌ یَّطْرُقُ بِخَیْرٍ یَارَحْمٰنُO اَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ لَنَا وَلَکُمْ فِی الْحَقِّ سَعَۃً فَاِنْ تَکُ عَاشِقاً مُوْلِعاً اَوْفَاجِرًا مُقْتَحِمًا اَوْرَاعِیاً حَقْاً مُبْطِلاً فَھٰذَا کِتَا بٌ یَّنْطِقُ عَلَیْنَا وَ عَلَیْکُم بِالْحَقِّ اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَO وَرُسُلُنَا یَکْتُبُوْنَ مَا تَمْکُرُوْنَO اُتْرُکُوْاصَاحِبَ کِتَابِیْ ھٰذَا وَاَنْطَلِقُوْ اِلٰی عَبَدَۃِ الْاَ صَنْامِ وَاِلٰی مَنْ یَّزْ عَمُ اَنَّ مَعَ اللہِ اِلٰھًا اٰخَرَ لَآاِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ؕ کُلَّ شَیْءٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْھَہٗ لَہُ الْحُکْمُ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ O تغلبُوْنَ O حٰمۤ O لَا تُنْصَرُوْنَ O حٰمۤ O عٓسٓقٓO تَفَوَّقَ اَعْدَآءُ اللہِ وَبَلَغَتْ حُجَّۃُ اللہِ وَلَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ ؕ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللہُ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ؕ حضرت ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس حرز یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا عطا کردہ تعویذ لیکر پنے گھر آۓ اور رات کو اپنے سر کے نیچے رکھ کر سوئے تو ان کی آنکھ اس وقت کھلی جب کوئی چلاچلا کر کہہ رہا تھا کہ اے ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لات و عزی کی قسم ہے کہ میں ان کلمات سے جل رہا ہوں میں اس تحریر والے کے حق کا وسیلہ دے کر کہتا ہوں کہ اگر تم نے اس حرز کو اٹھا لیا تو ہم تمہارے گھر اور تمہارے ہمسایہ کے گھر نہ آئیں گے حضرت ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فجر کو مسجد نبوي صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں آئے اور نماز پڑھ کر رات کاماجرا سنایا تو حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا۔ اے ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ! اس ذات کی قسم ہے مجھے جس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اب یہ آسیب قیامت تک عذاب کی ٹیسیں محسوس کرتا رہیگا (خصائص الکبریٰ فی معجزة خیر الوری جلد 2 صفحہ 283 تا 284 مطبوعہ اعظم پبلی کیشنز دھلی) الحاصل مذکورة الذکر واقعہ صحیح درست ہے اسکی خصوصيات یہ ہیں کہ اگر کسی جگہ پر جنات کا سایہ و اثر یا خلل ہو تو اس جگہ پر صبح و شام بلند آواز سے حرز ابو دجانہ پڑھا جائے اور پرنٹ کر کے اس جگہ پر یا دیوار یا مکان کے دروازہ پر چسپاں کیا جائےاس کی برکت سے تمام جن و شیاطین دفع ہو جائیں گے گھر چین و امن کا گہوارہ بن جاۓ گا ان شاء اللہ واللہ تعالی اعلم و صلی اللہ تعالی علی حبیبہ الف الف مرة و الہ و ازواجہ و اھلبیتہ و بارک وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــہ احوج الناس الی شفاعة سید الانس والجان مُحَمَّد قاسم القادری نعیمی اشرفی چشتی غفرلہ اللہ القوی شیش گڑھ بریلی شریف خادم غوثیہ دار الافتا صدیقی مارکیٹ کاشی پور اتراکھنڈ

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...