Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

جو مولوی یا قاضی شہر ہر فرقے کے لوگوں کا جنازہ یا نکاح پڑھائے اس کے لیے کیا حکم ہے؟

جو مولوی یا قاضی شہر ہر فرقے کے لوگوں کا جنازہ یا نکاح پڑھائے اس کے لیے کیا حکم ہے؟
Reference 1232 September 18, 2025 10,490 views
اصل سوالجو مولوی یا قاضی شہر ہر فرقے کے لوگوں کا جنازہ یا نکاح پڑھائے اس کے لیے کیا حکم ہے؟

جو مولوی یا قاضی شہر ہر فرقے کے لوگوں کا جنازہ یا نکاح پڑھائے اس کے لیے کیا حکم ہے

سوال :جو مولوی یا قاضی شہر ہر فرقے کے لوگوں کا جنازہ یا نکاح پڑھائے اس کے لیے کیا حکم ہے نیز جو سنی ایسے مولوی یا قاضی سے نکاح پڑھوائے اس سنی کے بارے میں کیا حکم ہے اور احکام شرع معلوم ہونے کے بعد اس کا انکار کرے اور کہے کہ ہم فتوی وغیرہ نہیں مانتے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟ المستفتی:محمد محسن پٹھان،ضلع ناسک مہاراشٹر- باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب آج چونکہ بدمذہبیت عام ہے لہذا جو مولوی یا قاضی ہر فرقے جن میں بعض ایسے ہیں کہ ان کی بدمذہبی حد کفر کو پہونچی ہوئی ہے مثلا دیوبندی،وہابی،قادیانی وغیرہ اگر وہ ان فرقوں کے عقائد باطلہ پر مطلع ہونے کے باوجود ان کو مسلمان جانتا ہے اور ان کے ساتھ معاملات مثلا ان کا جنازہ اور نکاح پڑھانے وغیرہ کو روا رکھتا ہے تو ایسا مولوی یا قاضی بھی کافر ہے اگر عورت رکھتا ہے تو وہ اس کے نکاح سے نکل گئی،اس عورت کو اختیار ہے عدت کے بعد جس مسلمان سے چاہے نکاح کرلے،اس مولوی یا قاضی پر توبہ وتجدید اسلام لازم ہے اس کے بعد عورت اگر راضی ہو تو دوبارہ نکاح کرے ورنہ وہ عورت پر جبر نہیں کرسکتا،اور اگر توبہ وتجدیداسلام نہ کرے تو اس کی سزا اس وقت یہ ہے کہ مسلمان اس سے ہر طرح کا تعلق ختم کرلیں سلام وکلام سب بند کردیں اور آخرت میں اس کی یہ سزا ہے کہ اس کے لیے ہمیشہ کے لیے جہنم ہے ۔ فتاوی رضویہ شریف میں ہے “جو شخص حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی توہین کرے یقینا کافر ہے اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئی،اور جو اس کی توہین پر مطلع ہوکر اسے مسلمان جانے وہ بھی کافر ہے ایسے جتنے لوگ ہوں خواہ توہین کرنے والوں کے عزیز قریب ہوں یا غیر ان سب کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں اور فی الحال اپنے مہر کا مطالبہ کرسکتی ہیں،ان عورتوں کو اختیار ہے کہ عدت کے بعد جس مسلمان سے چاہیں نکاح کرلیں”(ج6 ص45) نیز اسی میں ہے “معاذااللہ مرتد ہونا سب سے بدتر جرم ہے اس کا کیا کفارہ ہوسکتا ہے،مگر توبہ واسلام اور اگر توبہ نہ کرے اور اسلام نہ لائے تو دنیا میں سلطان اسلام کے یہاں اس کی سزا قتل ہے اور آخرت میں ابد الاباد کے لیے جہنم”(ج6 ص43) اور اگر وہ مولوی یا قاضی مذکورہ فرقوں کے عقائد باطلہ پر مطلع ہے مگر ان کو مسلمان نہیں جانتا بلکہ کافر ہی جانتا ہے اور ان کے ساتھ میل جول کو جائز سمجھتا ہے اور بعض وہ فرقے ہیں جن کی بدمذہبی حد کفر کو نہیں پہونچی ہے ان کے ساتھ بھی معاملات کو روا رکھتا ہے تو ایسا مولوی یا قاضی سخت گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے وہ توبہ وتجدید اسلام کرے اگر بیوی والا ہوتو تجدید نکاح بھی کرے ۔ حاشیہ فتاوی امجدیہ میں ہے ” جس چیز کے کفر ہونے نہ ہونے میں اختلاف ہو،اس پر احتیاطا تجدید ایمان وتجدید نکاح کا حکم ہے”(فتاوی امجدیہ ج2 ص 10) اور جو سنی ایسے مولوی یا قاضی سے نکاح پڑھوائے تو وہ گنہگار ہوا توبہ کرے کہ اس میں ایک طرح بدمذہب کی تعظیم ہے اور اس کی تعظیم ناجائز وگناہ ہے، فتاوی فیض الرسول میں ہے “جو لوگ غیر مقلد وہابی کو نکاح پڑھانے کے لیے لائیں وہ گنہگار ہوئے توبہ کریں کہ اس میں وہابی کی ایک طرح تعظیم ہے اور اس کی تعظیم ناجائز وگناہ ہے”(ج1ص552) اگر یہ بات واقعی ہے کہ احکام شرع معلوم ہونے کے بعد وہ شخص انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم فتوی وغیرہ نہیں مانتے تو وہ اپنے اس قول کی وجہ سے کافر ہوگیا اور عورت رکھتا ہو تو اس کی عورت نکاح سے نکل گئی،اس پر لازم ہے کہ توبہ وتجدید اسلام کرے،اور اس کے بعد اگر عورت راضی ہو تو دوبارہ نکاح کرے، اعلحضرت امام اہلسنت رحمه الله اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں “اگر یہ بیان واقعی ہے تو خالد پر حکم کفر ہے اور یہ کہ اس کا نکاح فسخ ہوگیا،اس پر توبہ فرض ہے نئے سرے سے اسلام لائے اس کے بعد اگر عورت راضی ہو اس سے دوبارہ نکاح کرے”(فتاوی رضویہ ج6 ص 159) اور حضور مفتی اعظم ہند رحمه الله اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں رقمطراز ہیں “اگر واقعی ان لوگوں نے یہ کہا کہ ہم شریعت کو نہیں مانتے تو بڑا سخت ظلم عظیم اپنی جانوں پر کیا-ان پر اپنے اس قول سے توبہ ورجوع تجدید ایمان وتجدید نکاح وغیرہ لازم”(فتاوی مصطفویہ ص 464”) واللہ تعالی اعلم بالصواب۔ کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ 3/ربيع الثانى 1441ھ مطابق 1/دسمبر 2019ء الجواب صحیح والمجیب نجیح محمد اختر حسین قادری خادم افتاودرس دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی 

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.