Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1053
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8.8K Views
جھینگا، کیکڑا اور اس کا سوپ پینا حرام از مفتی محمد رضا مرکزی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
جھینگا، کیکڑا اور اس کا سوپ پینا حرام از مفتی محمد رضا مرکزی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
جھینگا، کیکڑا اور اس کا سوپ پینا حرام
سوال : جھینگا اور کیکڑا کھانا کیسا؟ کیا حرام ہے؟ اور اس کا سوپ بنا کر پینا کیسا؟ کیا سوپ بھی حرام ہی ہے؟ مہربانی ہو گی جواب ضرور دیں ہو سکے تو ایک کلپ بھی بنا دیں؟ سائل : محمد عمران نوری، ساحل رضا، اشرف خان، عائشہ نگر مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب آج کل سوپ کا رواج کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے ۔ ایک اصول یاد رکھیں حلال چیزوں کا سوپ حلال اور حرام کا حرام. کیکڑے کا سوپ پینا حرام ھرگز اسکا سوپ پینا جائز نہیں چاہے سردی کے لیے ہو یا دوا کے لیے۔ کیونکہ سمندری جانوروں میں سے صرف مچھلی کھانا حلال ہے ۔ کیکڑا چوں کہ مچھلی کی کسی قسم میں شامل نہیں، بلکہ کیکڑے کا شمار دریائی کیڑوں میں ہوتا ہے،اس لیے کیکڑا کھانا مکروہِ تحریمی ہے یعنی حرام ہے ۔ قرآنِ حکیم میں جہاں اللہ تعالیٰ نے سمندری مخلوق کا ذکر فرمایا ہے وہ آیت یہ ہے: أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ۔ [المائدۃ، 96] تمہارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سمندر کے شکار کو کھانے کی اجازت دی ہے، لیکن سمندر کے شکار سے مراد مچھلی ہے ۔ حدیث شریف میں ہے: عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «أُحِلَّتْ لكم مَيْتَتَانِ۔۔۔ فأما الميتتان: فَالْجَرَادُ والْحُوتُ۔۔۔ تمھارے لیے دو مُردے حلال کئے گئے ہیں ٹڈی اور مچھلی ۔ یعنی یہ دونوں بغیر ذبح کے بھی پکڑے جائیں اور مر جائیں تب بھی حلال ہیں۔۔ لہذا کیکڑے کے حلال ہونے کے لیے اس آیت کو پیش کرنا درست نہیں۔ بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں قرآن کی اس آیت : ويحرم عليهم الخبائث [الأعراف] اور تم پر خبیث چیزیں حرام کی گئی ہیں ۔ کے تحت لکہا ہے : والضفدع والسرطان والحية ونحوها من الخبائث”. یعنی مینڈک اور کیکڑا اور سانپ اور اسکی مثل سب خبیث اور حرام ہیں.. اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں ”سرطان ( یعنی کیکڑا ) کھاناحرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ ، جلد24، صفحہ 208) لہذا مسلمانوں سے گذارش ہے خدرا اس چیز سے خود کو اور دوسروں کو بچائیں۔۔۔ حلال چیزوں کی دنیا میں کمی نہیں ذرا سی لذت کے لیے خود کو گناہ میں مت ڈالو.. وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
Kutubahu & Verified by:
<h2>جھینگا، کیکڑا اور اس کا سوپ پینا حرام</h2> سوال : جھینگا اور کیکڑا کھانا کیسا؟ کیا حرام ہے؟ اور اس کا سوپ بنا کر پینا کیسا؟ کیا سوپ بھی حرام ہی ہے؟ مہربانی ہو گی جواب ضرور دیں ہو سکے تو ایک کلپ بھی بنا دیں؟ سائل : محمد عمران نوری، ساحل رضا، اشرف خان، عائشہ نگر مالیگاؤں <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</strong></span> آج کل سوپ کا رواج کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے ۔ ایک اصول یاد رکھیں حلال چیزوں کا سوپ حلال اور حرام کا حرام. کیکڑے کا سوپ پینا حرام ھرگز اسکا سوپ پینا جائز نہیں چاہے سردی کے لیے ہو یا دوا کے لیے۔ کیونکہ سمندری جانوروں میں سے صرف مچھلی کھانا حلال ہے ۔ کیکڑا چوں کہ مچھلی کی کسی قسم میں شامل نہیں، بلکہ کیکڑے کا شمار دریائی کیڑوں میں ہوتا ہے،اس لیے کیکڑا کھانا مکروہِ تحریمی ہے یعنی حرام ہے ۔ قرآنِ حکیم میں جہاں اللہ تعالیٰ نے سمندری مخلوق کا ذکر فرمایا ہے وہ آیت یہ ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ۔ </strong></span> [المائدۃ، 96] تمہارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سمندر کے شکار کو کھانے کی اجازت دی ہے، لیکن سمندر کے شکار سے مراد مچھلی ہے ۔ حدیث شریف میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>عن عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «أُحِلَّتْ لكم مَيْتَتَانِ۔۔۔</strong></span> <span style="color: #ff0000;"><strong>فأما الميتتان: فَالْجَرَادُ والْحُوتُ۔۔۔</strong></span> تمھارے لیے دو مُردے حلال کئے گئے ہیں ٹڈی اور مچھلی ۔ یعنی یہ دونوں بغیر ذبح کے بھی پکڑے جائیں اور مر جائیں تب بھی حلال ہیں۔۔ لہذا کیکڑے کے حلال ہونے کے لیے اس آیت کو پیش کرنا درست نہیں۔ بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں قرآن کی اس آیت : <strong>ويحرم عليهم الخبائث [الأعراف] </strong> اور تم پر خبیث چیزیں حرام کی گئی ہیں ۔ کے تحت لکہا ہے : <strong>والضفدع والسرطان والحية ونحوها من الخبائث".</strong> یعنی مینڈک اور کیکڑا اور سانپ اور اسکی مثل سب خبیث اور حرام ہیں.. اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں ”سرطان ( یعنی کیکڑا ) کھاناحرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ ، جلد24، صفحہ 208) لہذا مسلمانوں سے گذارش ہے خدرا اس چیز سے خود کو اور دوسروں کو بچائیں۔۔۔ حلال چیزوں کی دنیا میں کمی نہیں ذرا سی لذت کے لیے خود کو گناہ میں مت ڈالو.. وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم التدریس والافتا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...