Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #837 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.4K Views

حالت حیض میں طواف و سعی کرنے کا کیا حکم ہے؟ / مسائل ورلڈ

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

حالت حیض میں طواف و سعی کرنے کا کیا حکم ہے؟ / مسائل ورلڈ

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

حالت حیض میں طواف و سعی کرنے کا کیا حکم ہے؟

سوال : (1) ایک عورت نے اعتکاف کی نیت کی اور اعتکاف میں نہ بیٹھ سکی تو اب کیا کرے؟ (2) حالت حیض میں طواف و سعی کرنے کا کیا حکم ہے؟ (3) نفاس ہر روز رات ہی میں آتا ہے ایک قطرہ یا دو قطرہ آتا ہے تو کیا دن میں غسل کرکے نماز وغیرہ پڑھ سکتی ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــ (1) یہ عورت اعتکاف کی قضا کرے، اگر اعتکاف رمضان المبارک کے عشرے کا تھا تو روزے رکھے اور دس دن رات اپنے گھر میں ہی کوئی کمرہ عبادت کے لیے خاص کرکے اس میں بیٹھے اور بلاضرورت اس میں سے باہر نہ نکلے ۔ عالمگیری جلد 1 صفحہ 221 کتاب الصوم باب السابع فی الاعتکاف ۔ (2) حالت حیض میں طواف بیت اللہ حرام ہے اور گناہ ہے اس لیے اس سے بچے، اگر پا کی کی حالت میں طواف کر چکی ہو اور صفا کے پاس سعی کے لیے پہنچی تھی کہ حیض آ گیا تو وہ چاہے تو سعی کرسکتی ہے اور بہتر ہے کہ پاک ہونے تک انتظار کریے جب پاک ہو جائے تب سعی کرے، لیکن اگر اسے اندیشہ ہو کہ احرام کی پابندیاں لمبے عرصے تک نہ نبھا سکے گی تو سعی کر کے احرام سے باہر ہو سکتی ہے ۔ عالم گیری جلد 1 صفحہ 38، کتاب الطہارۃ، الکتاب السادس فی الدماء المختصۃ بالنساء ۔ جلد 1 صفحہ 8 کتاب المناسک، الباب الثامن من الجنایات (3)نہیں جب تک مکمل طور پر نفاس کا خون آنا بند نہ ہو جائے وہ نماز سے رکی رہے ۔ مگر یہ کہ سلسلہ دراز ہو کر چالیس دن سے زیادہ ہو جائے تو اب وہ نفاس کا نہیں بیماری کا خون مانا جائے گا ۔ اور بیماری کے خون کا حکم یہ ہے کہ وہ تازہ وضو کرکے نماز پڑھے ۔ عالمگیری جلد 1 صفحہ 221 کتاب الصوم، الباب السابع فی الاعتکاف ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h2>حالت حیض میں طواف و سعی کرنے کا کیا حکم ہے؟</h2> سوال : (1) ایک عورت نے اعتکاف کی نیت کی اور اعتکاف میں نہ بیٹھ سکی تو اب کیا کرے؟ (2) حالت حیض میں طواف و سعی کرنے کا کیا حکم ہے؟ (3) نفاس ہر روز رات ہی میں آتا ہے ایک قطرہ یا دو قطرہ آتا ہے تو کیا دن میں غسل کرکے نماز وغیرہ پڑھ سکتی ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــ</strong></span> (1) یہ عورت اعتکاف کی قضا کرے، اگر اعتکاف رمضان المبارک کے عشرے کا تھا تو روزے رکھے اور دس دن رات اپنے گھر میں ہی کوئی کمرہ عبادت کے لیے خاص کرکے اس میں بیٹھے اور بلاضرورت اس میں سے باہر نہ نکلے ۔ عالمگیری جلد 1 صفحہ 221 کتاب الصوم باب السابع فی الاعتکاف ۔ (2) حالت حیض میں طواف بیت اللہ حرام ہے اور گناہ ہے اس لیے اس سے بچے، اگر پا کی کی حالت میں طواف کر چکی ہو اور صفا کے پاس سعی کے لیے پہنچی تھی کہ حیض آ گیا تو وہ چاہے تو سعی کرسکتی ہے اور بہتر ہے کہ پاک ہونے تک انتظار کریے جب پاک ہو جائے تب سعی کرے، لیکن اگر اسے اندیشہ ہو کہ احرام کی پابندیاں لمبے عرصے تک نہ نبھا سکے گی تو سعی کر کے احرام سے باہر ہو سکتی ہے ۔ عالم گیری جلد 1 صفحہ 38، کتاب الطہارۃ، الکتاب السادس فی الدماء المختصۃ بالنساء ۔ جلد 1 صفحہ 8 کتاب المناسک، الباب الثامن من الجنایات (3)نہیں جب تک مکمل طور پر نفاس کا خون آنا بند نہ ہو جائے وہ نماز سے رکی رہے ۔ مگر یہ کہ سلسلہ دراز ہو کر چالیس دن سے زیادہ ہو جائے تو اب وہ نفاس کا نہیں بیماری کا خون مانا جائے گا ۔ اور بیماری کے خون کا حکم یہ ہے کہ وہ تازہ وضو کرکے نماز پڑھے ۔ عالمگیری جلد 1 صفحہ 221 کتاب الصوم، الباب السابع فی الاعتکاف ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...