Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1839
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.6K Views
حاملہ عورت مہندی لگاسکتی ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
حاملہ عورت مہندی لگاسکتی ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
حاملہ عورت مہندی لگاسکتی ہے؟
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ حاملہ عورت کو مہندی نہیں لگانا چاہیئے یہ بات کہاں تک درست ہے اور اسکی کیا اصل ہے؟ المستفتی محمد اظہرالدین علیمی الجواب بعون الملک الوہاب عورت خواہ حمل میں ہو یا غیر حمل میں! جب چاہے مہندی لگاسکتی ہے کوٸی بھی شرعی قباحت نہیں! ہاں ایام سوگ میں منع ہے! لہذا عوام کا یہ کہنا کہ حالت حمل میں عورت مہندی نہیں لگا سکتی سراسر غلط ہے . حدیث شریف میں ہے۔ ” عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَوْمَتِ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَاءِ سِتْرٍ بِيَدِهَا كِتَابٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَقَالَ: (مَا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَمْ يَدُ امْرَأَةٍ). قَالَتْ بَلِ امْرَأَةٌ. قَالَ: (لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ). يَعْنِي بِالْحِنَّاءِ ” حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتی ہیں کہ ایک خاتون کے ہاتھ میں کتاب تھی اس نے پردے کے پیچھے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ سے کتاب دینا چاہی نبی کریمﷺ نے اپنا دست اقدس کھینچ لیا اور آپ نے فرمایا معلوم نہیں کہ یہ ہاتھ مرد کا ہے یا عورت کا! اس نے کہا یہ ایک عورت کا ہاتھ ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر عورت ہوتی تو ہاتھ کے ناخن مہندی سے رنگے ہوئے ہوتے ۔ (سنن ابی داٶد ، کتاب الترجل ، المجلدالثالث ، ص ١٠٤ ) اس کے علاوہ صحاح ستہ ودیگرکتب احادیث میں متعدد احادیث وارد ہیں کہ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مہندی لگانے کی تلقین فرمائی! علامہ شیخ ابوبکر بن علی بن الحدادی العبادی متوفی ٨٠٠ھ تحریر فرماتےہیں ۔۔۔ ” وَيُكْرَهُ لِلْإِنْسَانِ أَنْ يُخَضِّبَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ بِالْحِنَّاءِ وَكَذَلِكَ الصَّبِيُّ وَلَا بَأْسَ بِهِ لِلنِّسَاءِ، ” (الجوھرة النیرة ، کتاب الحظر و الاباحة ) علامہ شیخ نظام الدین حنفی متوفی ١١٦١ھ اور علمائے ہند کی ایک جماعت میں تحریر فرمایا ہے۔۔۔ ” وَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُخَضِّبَ يَدَيْ الصَّبِيِّ الذَّكَرِ وَرِجْلَهُ إلَّا عِنْدَ الْحَاجَةِ وَيَجُوزُ ذَلِكَ لِلنِّسَاءِ كَذَا فِي الْيَنَابِيعِ. ” (الفتاویٰ الھندیة ، کتاب الکراھیة ، باب الزینة ، المجلدالخامس ، ص ٤٣٩ بیروت لبنان ) اور حضور صدرالشریعہ علامہ امجدعلی علیہ الرحمہ تحریرفرماتےہیں۔۔۔ عورتوں کوہاتھ پاٶں میں مہندی لگانا جاٸزہےکہ یہ زینت کی چیز ہے (بہارشریعت ، حصہ١٦ ، ص٥٩٦، قادری کتاب دھلی ) مذکورہ حدیث پاک و دلاٸل جلیلہ سے ثابت ہے کہ عورت کےلیۓجاٸزہے کہ جب چاہے مہندی لگائے سوائے ایام سوگ کے واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ کتبـــــہ :حضرت مولانا عبید اللہ حنفی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس جامعہ عربیہ فیض الرسول وامام سنی رضا جامع مسجد قصبہ رچھا ضلع بریلی شریف
Kutubahu & Verified by:
<h3>حاملہ عورت مہندی لگاسکتی ہے؟</h3> کیا فرماتے ہیں مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ حاملہ عورت کو مہندی نہیں لگانا چاہیئے یہ بات کہاں تک درست ہے اور اسکی کیا اصل ہے؟ المستفتی محمد اظہرالدین علیمی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوہاب</strong> </span> عورت خواہ حمل میں ہو یا غیر حمل میں! جب چاہے مہندی لگاسکتی ہے کوٸی بھی شرعی قباحت نہیں! ہاں ایام سوگ میں منع ہے! لہذا عوام کا یہ کہنا کہ حالت حمل میں عورت مہندی نہیں لگا سکتی سراسر غلط ہے . حدیث شریف میں ہے۔ " عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَوْمَتِ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَاءِ سِتْرٍ بِيَدِهَا كِتَابٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَقَالَ: (مَا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَمْ يَدُ امْرَأَةٍ). قَالَتْ بَلِ امْرَأَةٌ. قَالَ: (لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ). يَعْنِي بِالْحِنَّاءِ " حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتی ہیں کہ ایک خاتون کے ہاتھ میں کتاب تھی اس نے پردے کے پیچھے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ سے کتاب دینا چاہی نبی کریمﷺ نے اپنا دست اقدس کھینچ لیا اور آپ نے فرمایا معلوم نہیں کہ یہ ہاتھ مرد کا ہے یا عورت کا! اس نے کہا یہ ایک عورت کا ہاتھ ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر عورت ہوتی تو ہاتھ کے ناخن مہندی سے رنگے ہوئے ہوتے ۔ (سنن ابی داٶد ، کتاب الترجل ، المجلدالثالث ، ص ١٠٤ ) اس کے علاوہ صحاح ستہ ودیگرکتب احادیث میں متعدد احادیث وارد ہیں کہ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مہندی لگانے کی تلقین فرمائی! علامہ شیخ ابوبکر بن علی بن الحدادی العبادی متوفی ٨٠٠ھ تحریر فرماتےہیں ۔۔۔ " وَيُكْرَهُ لِلْإِنْسَانِ أَنْ يُخَضِّبَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ بِالْحِنَّاءِ وَكَذَلِكَ الصَّبِيُّ وَلَا بَأْسَ بِهِ لِلنِّسَاءِ، " (الجوھرة النیرة ، کتاب الحظر و الاباحة ) علامہ شیخ نظام الدین حنفی متوفی ١١٦١ھ اور علمائے ہند کی ایک جماعت میں تحریر فرمایا ہے۔۔۔ " وَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُخَضِّبَ يَدَيْ الصَّبِيِّ الذَّكَرِ وَرِجْلَهُ إلَّا عِنْدَ الْحَاجَةِ وَيَجُوزُ ذَلِكَ لِلنِّسَاءِ كَذَا فِي الْيَنَابِيعِ. " (الفتاویٰ الھندیة ، کتاب الکراھیة ، باب الزینة ، المجلدالخامس ، ص ٤٣٩ بیروت لبنان ) اور حضور صدرالشریعہ علامہ امجدعلی علیہ الرحمہ تحریرفرماتےہیں۔۔۔ عورتوں کوہاتھ پاٶں میں مہندی لگانا جاٸزہےکہ یہ زینت کی چیز ہے (بہارشریعت ، حصہ١٦ ، ص٥٩٦، قادری کتاب دھلی ) مذکورہ حدیث پاک و دلاٸل جلیلہ سے ثابت ہے کہ عورت کےلیۓجاٸزہے کہ جب چاہے مہندی لگائے سوائے ایام سوگ کے واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ کتبـــــہ :حضرت مولانا عبید اللہ حنفی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس جامعہ عربیہ فیض الرسول وامام سنی رضا جامع مسجد قصبہ رچھا ضلع بریلی شریف
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...