Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1913 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5K Views

حجر اسود جنت سے آیا تو سفید تھا ۔ مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

حجر اسود جنت سے آیا تو سفید تھا ۔ مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

حجر اسود جنت سے آیا تو سفید تھا ۔ مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی

حجر اسود جب جنت سے آیا تھا تو کالا تھا یا سفید اگر سفید تھا تو کالا کیسے ہوا برائے کرم جواب عنایت فرمائیں۔ الجواب بعون الملک الوھاب حجراسود جب جنت سے دنیا میں لایا گیا تو دودھ سے زیادہ سفید تھا، پھر لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے کالا ہوگیا۔ حدیث شریف میں ہے: “عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَزَلَ الْحَجَرُ الأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، فَسَوَّدَتْهُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ قال ابو عیسی حدیث ابن عباس حدیث حسن صحیح” (سنن الترمذی، کتاب الحج ، باب فضل الحجر الاسود رقم حدیث ٨٧٧ صفحہ ٢٣٦ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حجر اسود جنت سے آیا تو دودھ سے زیادہ سفید تھا پھر آدمیوں کے گناہوں نے اسے کالا کردیا حضرت امام ابو عیسی ترمذی نے فرمایا حضرت عبداللہ بن عباس کی یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حکیم الامت ،مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: “یہ پتھر شفاف آئینہ یا سیاہی چوس کاغذ کی طرح ہے جیسے شفاف آئینہ گردوغبار سے میلا اور سیاہی چوس کاغذ گیلے حرفوں پر لگنے سے سیاہ ہو جاتا ہے ایسے ہی یہ پتھر ہم گنہگاروں یا گزشتہ مشرکوں کے ہاتھ لگنے سے برابر سیاہ ہوتا چلا گیا” اھ (مرآۃالمناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج٤، ص١٣٦، باب دخول مکۃ والطواف، الفصل الثانی، نعیمی کتب خانہ گجرات) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔١٢ جمادی الاول ٤٤٤١؁ھ مطابق ٧ دسمبر ٢٢٠٢؁ء

Kutubahu & Verified by:

<h3>حجر اسود جنت سے آیا تو سفید تھا ۔ مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی</h3> حجر اسود جب جنت سے آیا تھا تو کالا تھا یا سفید اگر سفید تھا تو کالا کیسے ہوا برائے کرم جواب عنایت فرمائیں۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> حجراسود جب جنت سے دنیا میں لایا گیا تو دودھ سے زیادہ سفید تھا، پھر لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے کالا ہوگیا۔ حدیث شریف میں ہے: "عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَزَلَ الْحَجَرُ الأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، فَسَوَّدَتْهُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ قال ابو عیسی حدیث ابن عباس حدیث حسن صحیح" (سنن الترمذی، کتاب الحج ، باب فضل الحجر الاسود رقم حدیث ٨٧٧ صفحہ ٢٣٦ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حجر اسود جنت سے آیا تو دودھ سے زیادہ سفید تھا پھر آدمیوں کے گناہوں نے اسے کالا کردیا حضرت امام ابو عیسی ترمذی نے فرمایا حضرت عبداللہ بن عباس کی یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حکیم الامت ،مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: "یہ پتھر شفاف آئینہ یا سیاہی چوس کاغذ کی طرح ہے جیسے شفاف آئینہ گردوغبار سے میلا اور سیاہی چوس کاغذ گیلے حرفوں پر لگنے سے سیاہ ہو جاتا ہے ایسے ہی یہ پتھر ہم گنہگاروں یا گزشتہ مشرکوں کے ہاتھ لگنے سے برابر سیاہ ہوتا چلا گیا" اھ (مرآۃالمناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج٤، ص١٣٦، باب دخول مکۃ والطواف، الفصل الثانی، نعیمی کتب خانہ گجرات) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ <strong>کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔</strong> <strong>صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔١٢ جمادی الاول ٤٤٤١؁ھ مطابق ٧ دسمبر ٢٢٠٢؁ء</strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...