Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1662 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.9K Views

حرام مال سے خریدی گئی زمین جائیداد کا حکم

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

حرام مال سے خریدی گئی زمین جائیداد کا حکم

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

حرام مال سے خریدی گئی زمین جائیداد کا حکم

اسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ۔ حضور ایک سوال آپکی بارگاہ میں عرض ہے کہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلے میں کہ زید پہلے سودی کاروبار کیا کرتا تھا اور ناجائز طریقے سے مال جمع کرکے اس نے کچھ زمین اور گھر خریدے ھیں اب اس نے سچے دل سے رب العزت کی بارگاہ میں توبہ کی ھے اب اس گھر اور زمین کا کیا کیا جائے؟ برائے کرم جواب عنایت فرمائیں جواب کا منتظر فقیر محمد عرفان برکاتی سنی جامع مسجد. ممداپور نیرل ممبئی۔ الجواب جس جس مسلمان سے جتنا سود لیا ہے اگر معلوم ہے تو اس کو واپس کرے، وہ زندہ نہ ہوں تو ان کے وارثین کو دے۔ اور اگر یہ سب معلوم نہ ہوسکے تو بلا نیتِ ثواب فقراء پر خیرات کردے۔ لیکن سود وغیرہ حرام روپیہ سے جو زمین یا گھر خریدا اس سے نفع اٹھانا حرام نہیں ہے، کیوں کہ یہاں عام خریداریاں ایسی ہوتی ہیں جن میں حرام مال کی نحوست اور خباثت خریدی گئی چیزوں تک منتقل نہیں ہوتی۔یعنی: ایسا نہیں ہوتا کہ پہلے روپیہ دے دیا جاتا ہو یا روپیہ کی طرف اشارہ کرکے اس خاص روپیہ سے خریداری کی جاتی ہو، بلکہ مطلق روپیوں کے بدلے خریداری ہوتی ہے اس لیے عقد و نقد اس زرِ خبیث پر جمع نہیں ہوتے۔ ہاں! اگر مثلاً خاص سود کے روپیہ کی طرف اشارہ کرکے زمین یا مکان خریدا ہو اور پھر وہی سود کا روپیہ قیمت میں ادا بھی کیا ہو تو اس صورت میں ضرور اس حرام روپیہ کی خباثت خریدی ہوئی چیز تک پہونچے گی اور اس زمین یا مکان سے نفع اٹھانا جائز نہ ہوگا۔لیکن اگر بغیر سود کا روپیہ دکھائے مطلق روپیوں کے بدلے خریداری کی ہو۔یا سود کے روپیے دکھا کر خریدا مگر دام کی ادائیگی دوسرے روپیوں سے کی تو اس صورت میں امام کرخی رحمہ اللہ تعالی کے قول مفتی بہ کے مطابق اس زمین یا مکان سے فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “سودخوار پر شرعاً فرض ہے کہ جتنا سُود جس جس سے لیا ہے اسے واپس دے، وہ نہ رہا ہو اس کے وارثوں کو دے، وہ بھی نہ رہے ہوں یا پتہ مالک اور اس کے ورثہ کا نہ چلے تو فرض ہے کہ اتنا مال تصدّق کردے۔ اور تصدّق میں فقیر کو مالک کردینا درکار ہے کما نص علیہ فی الخانیۃ وغیرھا عامۃ الاسفار” (فتاوی رضویہ جدید ج ٢٣ص۵٣٩) نیز زر حرام سے خریدی گئی چیز کا حکم بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: “جبکہ وہ دکانیں بعینہا رنڈی کو اجرت زنا یا غنا میں نہ ملی تھیں، بلکہ اس نے خرید کیں، اگرچہ خریداری اسی زرِ خبیث سے ہو، تو از آنجا کہ عامہ عقود رائجہ میں یہ قاعدہ نہیں کہ روپیہ دکھا کر کہا جاتا ہو اس روپے کے عوض بیع کرے یا خریدے، بلکہ مطلق بیع ہوتی ہے تو عقد ونقد زرِ حرام پر جمع نہیں ہوتے اور مذہب کرخی مفتی بہ پر ایسی حالت میں اس شے مشتری میں خباثت بھی نہیں آتی، تو وہ دکانیں خود اس کے لئے اس صورت میں حرام نہ ہوں گی۔” (فتاوی رضویہ ج ٦ص ۴١۵) ایک دوسرے مقام پر تحریر فرماتے ہیں: “ہاں جو جائداد زانیہ نے خریدی ہو اور اس کے شراء میں عقد و نقد دونوں زرِ حرام پر جمع نہ ہوئے ہوں، مثلاً روپیہ پیشگی دے کر کہا کہ اس روپے کے عوض جائداد دے دے، بائع نے اس کے عوض بیع کردی یہ تو حرام پر عقد ہوا، اور وہی روپیہ زرِ ثمن میں دیا گیا یہ حرام کا نقد ہوا دونوں جمع ہوگئے اس صورت میں بھی وہ جائداد ان کی ملک نہ ہوگی۔ ہاں اگر زرحرام پر عقد ونقد دونوں جمع نہ ہوئے ہوں مثلاً جائداد خریدی اس وقت ثمن کی تعین خاص مال حرام سے نہ تھی نہ وہ دکھایا گیا نہ پیشگی دیا گیا مطلق روپے کے بدلے خریدی تو یہ جائداد اس خریدنے والے کی ملک صحیح وحلال ہوجائے گی اب زرثمن اس حرام مال سے ادا کیا گیا تو یہ گناہ ہو ااور بائع کو اس کا لینا حرام تھا مگر جائداد اس کی ملک میں آگئی۔” (فتاوی رضویہ ج٦ص٣٣۴) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ۔ ٢۵/شعبان المعظم ١۴۴٣ھ//٢٩/مارچ ٢٠٢٢ء

Kutubahu & Verified by:

<h2>حرام مال سے خریدی گئی زمین جائیداد کا حکم</h2> اسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ۔ حضور ایک سوال آپکی بارگاہ میں عرض ہے کہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلے میں کہ زید پہلے سودی کاروبار کیا کرتا تھا اور ناجائز طریقے سے مال جمع کرکے اس نے کچھ زمین اور گھر خریدے ھیں اب اس نے سچے دل سے رب العزت کی بارگاہ میں توبہ کی ھے اب اس گھر اور زمین کا کیا کیا جائے؟ برائے کرم جواب عنایت فرمائیں جواب کا منتظر فقیر محمد عرفان برکاتی سنی جامع مسجد. ممداپور نیرل ممبئی۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب</strong></span> جس جس مسلمان سے جتنا سود لیا ہے اگر معلوم ہے تو اس کو واپس کرے، وہ زندہ نہ ہوں تو ان کے وارثین کو دے۔ اور اگر یہ سب معلوم نہ ہوسکے تو بلا نیتِ ثواب فقراء پر خیرات کردے۔ لیکن سود وغیرہ حرام روپیہ سے جو زمین یا گھر خریدا اس سے نفع اٹھانا حرام نہیں ہے، کیوں کہ یہاں عام خریداریاں ایسی ہوتی ہیں جن میں حرام مال کی نحوست اور خباثت خریدی گئی چیزوں تک منتقل نہیں ہوتی۔یعنی: ایسا نہیں ہوتا کہ پہلے روپیہ دے دیا جاتا ہو یا روپیہ کی طرف اشارہ کرکے اس خاص روپیہ سے خریداری کی جاتی ہو، بلکہ مطلق روپیوں کے بدلے خریداری ہوتی ہے اس لیے عقد و نقد اس زرِ خبیث پر جمع نہیں ہوتے۔ ہاں! اگر مثلاً خاص سود کے روپیہ کی طرف اشارہ کرکے زمین یا مکان خریدا ہو اور پھر وہی سود کا روپیہ قیمت میں ادا بھی کیا ہو تو اس صورت میں ضرور اس حرام روپیہ کی خباثت خریدی ہوئی چیز تک پہونچے گی اور اس زمین یا مکان سے نفع اٹھانا جائز نہ ہوگا۔لیکن اگر بغیر سود کا روپیہ دکھائے مطلق روپیوں کے بدلے خریداری کی ہو۔یا سود کے روپیے دکھا کر خریدا مگر دام کی ادائیگی دوسرے روپیوں سے کی تو اس صورت میں امام کرخی رحمہ اللہ تعالی کے قول مفتی بہ کے مطابق اس زمین یا مکان سے فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "سودخوار پر شرعاً فرض ہے کہ جتنا سُود جس جس سے لیا ہے اسے واپس دے، وہ نہ رہا ہو اس کے وارثوں کو دے، وہ بھی نہ رہے ہوں یا پتہ مالک اور اس کے ورثہ کا نہ چلے تو فرض ہے کہ اتنا مال تصدّق کردے۔ اور تصدّق میں فقیر کو مالک کردینا درکار ہے کما نص علیہ فی الخانیۃ وغیرھا عامۃ الاسفار" (فتاوی رضویہ جدید ج ٢٣ص۵٣٩) نیز زر حرام سے خریدی گئی چیز کا حکم بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: "جبکہ وہ دکانیں بعینہا رنڈی کو اجرت زنا یا غنا میں نہ ملی تھیں، بلکہ اس نے خرید کیں، اگرچہ خریداری اسی زرِ خبیث سے ہو، تو از آنجا کہ عامہ عقود رائجہ میں یہ قاعدہ نہیں کہ روپیہ دکھا کر کہا جاتا ہو اس روپے کے عوض بیع کرے یا خریدے، بلکہ مطلق بیع ہوتی ہے تو عقد ونقد زرِ حرام پر جمع نہیں ہوتے اور مذہب کرخی مفتی بہ پر ایسی حالت میں اس شے مشتری میں خباثت بھی نہیں آتی، تو وہ دکانیں خود اس کے لئے اس صورت میں حرام نہ ہوں گی۔" (فتاوی رضویہ ج ٦ص ۴١۵) ایک دوسرے مقام پر تحریر فرماتے ہیں: "ہاں جو جائداد زانیہ نے خریدی ہو اور اس کے شراء میں عقد و نقد دونوں زرِ حرام پر جمع نہ ہوئے ہوں، مثلاً روپیہ پیشگی دے کر کہا کہ اس روپے کے عوض جائداد دے دے، بائع نے اس کے عوض بیع کردی یہ تو حرام پر عقد ہوا، اور وہی روپیہ زرِ ثمن میں دیا گیا یہ حرام کا نقد ہوا دونوں جمع ہوگئے اس صورت میں بھی وہ جائداد ان کی ملک نہ ہوگی۔ ہاں اگر زرحرام پر عقد ونقد دونوں جمع نہ ہوئے ہوں مثلاً جائداد خریدی اس وقت ثمن کی تعین خاص مال حرام سے نہ تھی نہ وہ دکھایا گیا نہ پیشگی دیا گیا مطلق روپے کے بدلے خریدی تو یہ جائداد اس خریدنے والے کی ملک صحیح وحلال ہوجائے گی اب زرثمن اس حرام مال سے ادا کیا گیا تو یہ گناہ ہو ااور بائع کو اس کا لینا حرام تھا مگر جائداد اس کی ملک میں آگئی۔" (فتاوی رضویہ ج٦ص٣٣۴) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢۵/شعبان المعظم ١۴۴٣ھ//٢٩/مارچ ٢٠٢٢ء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...