Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #302 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.8K Views

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جائے پیدائش

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جائے پیدائش

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جائے پیدائش

عنوان : کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسلہ میں کہ کیا واقعة حضرت علی رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ میں پیدا ہوے تھے قران وحدیث سے مسلہ کو آشکارہ فرماءیں اور عند اللہ ماجور ہوں۔

المستفتی: مولانا احمد حسین نظامی خطیب وامام پرسا پنڈت سدھا رتھ نگر یوپی

الجواب بعون الملک الوھاب

یہ سوال تاریخ سے متعلق ہے، ماہرین فن تاریخ ہی سے اس طرح کا سوال بہتر ہے.

میرے ناقص علم کے مطابق صحابی رسول حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ کی خانہ کعبہ کے اندر ولادت پر سب کا اتفاق ہے، ہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خانہ کعبہ کے جوف میں ولادت کا قول مختلف فیہ ہے،جو حضرات خانہ کعبہ میں ولادت کے قائل ہیں ان کے دلائل یہ ہیں :

امام حاکم اپنی مشہور حدیث کی کتاب المستدرک للحاکم میں فرماتے ہیں۔

فقد تواترت الاخبار ان فاطمه بنت اسد ولدت امير المومنين علی ابن ابی طالب کرم الله وجهه فی جوف الکعبه.

(المستدرک للحاکم، ج : 3، ص : 484)

شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

”واز مناقب علي رضی اللہ عنہ کہ در حین ولادت او ظاہر شد یکی آن است کہ در جوف کعبہ معظمہ تولد یافت․ قال الحاکم في ترجمة حکیم بن حزام قول مصعب؛ فیہ: ”ولم یولد قبلہ ولا بعدہ في الکعبة أحد“ مانصہ: ”وھم مصعب في الحرف الأخیر، فقد تواترت الأخبار أن فاطمة بنت أسد ولدت أمیر الموٴمنین علي بن أبي طالب کرم اللہ وجہہ في جوف الکعبة“․

(ازالة الخفاء عن خلافة الخلفاء: 6/359)

جب کہ وہ حضرات جو اس شرف کو حضرت حکیم بن حزام کے ساتھ خاص مانتے ہیں ان کے دلائل یہ ہیں:

تدريب الراوي میں ہے :

“قال شیخ الإسلام: و لایعرف ذٰلك لغیرہ، و ما وقع في ”مستدرک الحاکم“ – من أن علیًّا وُلِدَ فیھا – ضعیفٌ.”

(تدریب الراوي، النوع الستون: التواریخ والوفیات، فرع الثاني: صحابیان عاشا ستین سنة في الجاھلیة: ۲/۴۸۲، دار العاصمة)

تهذيب الأسماء میں ہے :

”قالوا: ولد حکیم (بن حزام) في جوف الکعبة، ولا یعرف أحد ولد فیھا غیرہ، وأما ما روي أن علي ابن أبي طالب رضي اللہ عنہ ولد فیھا؛ فضعیف عند العلماء.“

(تھذیب الأسماء واللغات للنووي، حرف الحاء، حکیم بن حزام: ۱/۱۶۶، دارالکتب العلمیة)

السیرۃ الحلبیة میں ہے :

قال بعضھم : لا مانع من ولادة کلیھما في الکعبة، لٰکن في النور: حکیم بن حزام ولد في جوف الکعبة، ولا یعرف ذٰلک لغیرہ، وأما ما روي أن علیاً ولد فیھا، فضعیف عند العلماء“․ (السیرة الحلبیة، باب تزوجہ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجة بنت خویلد: ۱/۲۰۲)

ان تمام دلائل سے ثابت ہے کہ حضرت حکیم بن حزام کی خانہ کعبہ میں ولادت پر جمہور کا اتفاق ہے اور یہی قول قوی ہے، جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولادت میں علماے اسلام میں اختلاف ہے،اور ولادت کا قول ضعیف ہے.

لیکن یہاں یہ ملحوظ رہے کہ کعبہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت کو ہمارے علماء نے باب فضائل ومناقب میں شمار کیا جیسا کہ شاہ صاحب علیہ الرحمہ کی عبارت اوپر گزر چکی ہے اور فضائل میں ضعیف حدیثیں بھی مقبول ہوتی ہیں۔ جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے منیر العین وغیرہ متعدد رسائل میں تحقیق فرمائی ہے۔اس لیے اگر خانہ کعبہ میں ولادت والی حدیث ضعیف ہو تب بھی مقبول ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی

٢٩ صفر ١٤٤٣/ ٧اکتوبر ٢٠٢١

الجواب صحیح محمد نظام الدین خادم درس و افتاء جامعہ علیمیہ جمدا شاہی

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جائے پیدائش</h2> <p style="direction: rtl;"><strong>عنوان : کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسلہ میں کہ کیا واقعة حضرت علی رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ میں پیدا ہوے تھے قران وحدیث سے مسلہ کو آشکارہ فرماءیں اور عند اللہ ماجور ہوں۔</strong></p> <p style="direction: rtl;">المستفتی: مولانا احمد حسین نظامی خطیب وامام پرسا پنڈت سدھا رتھ نگر یوپی</p> <h3 style="direction: rtl;">الجواب بعون الملک الوھاب</h3> <p style="direction: rtl;">یہ سوال تاریخ سے متعلق ہے، ماہرین فن تاریخ ہی سے اس طرح کا سوال بہتر ہے.</p> <p style="direction: rtl;">میرے ناقص علم کے مطابق صحابی رسول حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ کی خانہ کعبہ کے اندر ولادت پر سب کا اتفاق ہے، ہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خانہ کعبہ کے جوف میں ولادت کا قول مختلف فیہ ہے،جو حضرات خانہ کعبہ میں ولادت کے قائل ہیں ان کے دلائل یہ ہیں :</p> <p style="direction: rtl;">امام حاکم اپنی مشہور حدیث کی کتاب المستدرک للحاکم میں فرماتے ہیں۔</p> <p style="direction: rtl;">فقد تواترت الاخبار ان فاطمه بنت اسد ولدت امير المومنين علی ابن ابی طالب کرم الله وجهه فی جوف الکعبه.</p> <p style="direction: rtl;"><strong>(المستدرک للحاکم، ج : 3، ص : 484)</strong></p> <p style="direction: rtl;">شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:</p> <p style="direction: rtl;">”واز مناقب علي رضی اللہ عنہ کہ در حین ولادت او ظاہر شد یکی آن است کہ در جوف کعبہ معظمہ تولد یافت․ قال الحاکم في ترجمة حکیم بن حزام قول مصعب؛ فیہ: ”ولم یولد قبلہ ولا بعدہ في الکعبة أحد“ مانصہ: ”وھم مصعب في الحرف الأخیر، فقد تواترت الأخبار أن فاطمة بنت أسد ولدت أمیر الموٴمنین علي بن أبي طالب کرم اللہ وجہہ في جوف الکعبة“․</p> <p style="direction: rtl;"><strong>(ازالة الخفاء عن خلافة الخلفاء: 6/359)</strong></p> <p style="direction: rtl;">جب کہ وہ حضرات جو اس شرف کو حضرت حکیم بن حزام کے ساتھ خاص مانتے ہیں ان کے دلائل یہ ہیں:</p> <p style="direction: rtl;">تدريب الراوي میں ہے :</p> <p style="direction: rtl;">"قال شیخ الإسلام: و لایعرف ذٰلك لغیرہ، و ما وقع في ”مستدرک الحاکم“ - من أن علیًّا وُلِدَ فیھا - ضعیفٌ."</p> <p style="direction: rtl;">(تدریب الراوي، النوع الستون: التواریخ والوفیات، فرع الثاني: صحابیان عاشا ستین سنة في الجاھلیة: ۲/۴۸۲، دار العاصمة)</p> <p style="direction: rtl;">تهذيب الأسماء میں ہے :</p> <p style="direction: rtl;">”قالوا: ولد حکیم (بن حزام) في جوف الکعبة، ولا یعرف أحد ولد فیھا غیرہ، وأما ما روي أن علي ابن أبي طالب رضي اللہ عنہ ولد فیھا؛ فضعیف عند العلماء.“</p> <p style="direction: rtl;">(تھذیب الأسماء واللغات للنووي، حرف الحاء، حکیم بن حزام: ۱/۱۶۶، دارالکتب العلمیة)</p> <p style="direction: rtl;">السیرۃ الحلبیة میں ہے :</p> <p style="direction: rtl;">قال بعضھم : لا مانع من ولادة کلیھما في الکعبة، لٰکن في النور: حکیم بن حزام ولد في جوف الکعبة، ولا یعرف ذٰلک لغیرہ، وأما ما روي أن علیاً ولد فیھا، فضعیف عند العلماء“․ (السیرة الحلبیة، باب تزوجہ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجة بنت خویلد: ۱/۲۰۲)</p> <p style="direction: rtl;">ان تمام دلائل سے ثابت ہے کہ حضرت حکیم بن حزام کی خانہ کعبہ میں ولادت پر جمہور کا اتفاق ہے اور یہی قول قوی ہے، جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولادت میں علماے اسلام میں اختلاف ہے،اور ولادت کا قول ضعیف ہے.</p> <p style="direction: rtl;">لیکن یہاں یہ ملحوظ رہے کہ کعبہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت کو ہمارے علماء نے باب فضائل ومناقب میں شمار کیا جیسا کہ شاہ صاحب علیہ الرحمہ کی عبارت اوپر گزر چکی ہے اور فضائل میں ضعیف حدیثیں بھی مقبول ہوتی ہیں۔ جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے منیر العین وغیرہ متعدد رسائل میں تحقیق فرمائی ہے۔اس لیے اگر خانہ کعبہ میں ولادت والی حدیث ضعیف ہو تب بھی مقبول ہے۔</p> <p style="direction: rtl;">واللہ اعلم بالصواب</p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی</strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong>٢٩ صفر ١٤٤٣/ ٧اکتوبر ٢٠٢١</strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین خادم درس و افتاء جامعہ علیمیہ جمدا شاہی</strong></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...