Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1921 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6K Views

حضرت علی رضی ﷲ تعالی عنہ کو مولی علی مشکل کشا کہنا ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

حضرت علی رضی ﷲ تعالی عنہ کو مولی علی مشکل کشا کہنا ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

حضرت علی رضی ﷲ تعالی عنہ کو مولی علی مشکل کشا کہنا ؟

مفتی محمد ارشد حسین فیضی۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کو مولا علی مشکل کشا کہنا کیسا ہے بینوا بالدلیل وتوجروا. المستفتی:محمد وسیم اکرم رضوی پھلواری راجستھان الجواب بعون الملک الوھاب۔ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کو مولا علی کہنا جائز بلکہ فرمان رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وسلم کے موافق ہے حدیث شریف میں ہے”من کنت مولاہ فعلی مولاہ”اھ(جامع الترمذی ج٢ص٢١٢ ابواب المناقب، مناقب علی بن ابی طالب) جس کا میں مولیٰ ہوں اس کے علی مولیٰ ہیں اور مشکل کشا کہنا بھی کہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے بندگان خدا بھی مشکل کشائی کرتے ہیں بذات خود مشکل ومصائب کا دور کرنا اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے مگر اس نے اپنے بندوں کو ایسے اختیار دئیے ہیں کہ وہ بإذن اللہ مصائب کو دور کرتے ہیں اور یہی مسلمانوں کا عقیدہ ہے. یا یوں سمجھئیے کی فعل کی نسبتیں دو طرح کی ہوتی ہیں کبھی فاعل حقیقی کی طرف اور کبھی فاعل مجازی کی طرف اور یہ استعمال ہر زبان میں ہےحتی کہ قرآن وحدیث میں بھی ہوا ہے اس کے پہچاننے کے لیے متکلم کے اعتقاد پر دارو مدار ہوتا ہے مثلا عربی زبان میں بولا جاتا ہے”انبت الربیع البقل”اھ(مختصر المعانی ص١٥٤، احوال الاسانید الخبری، اسناد مجازی، مکتبہ رشیدیہ) یعنی موسم بہار نے سبزی اگائی. اس کے لفظی معنی کے اعتبار سے تو مطلب یہ ہوا کہ موسم فاعل ہے اور وہ فصلیں اگاتا ہے حالانکہ کھیتی اگانا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور پانی وغیرہ اسباب ہیں اور سبب کو فاعل بناکر اس کی جانب نسبت کرنا” نسبت مجازی” ہے جبکہ مسلمان کہے کہ مسلمان یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ فاعل حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے اور مومن کا ایمان وعقیدہ ہی اس معنئ مجازی کے لیے قرینہ ہے لہذا مومن کے کلام میں زبردستی اسناد حقیقی بنا کر کفر کے معنی پیدا نہیں کیے جائیں گے ہاں اگر کافر یہ بات کہے تو حقیقت مانا جائے گا اسلیے کہ وہ زمانہ کو ہی فاعل حقیقی سمجھتا ہے مختصر المعانی، مطول وغیرہ کتب میں اس طرح کی بہت سی مثالیں موجود ہیں. اور اردو زبان وأدب میں عام طور پر یہ الفاظ بولے جاتے ہیں دواء نے بیماری دور کردی، ڈاکٹر نے مریض اچھا کردیا، بارش نے زمین سرسبز کردیا،وغیرہ وغیرہ مگر ان مثالوں سے کسی کے دل میں یہ خیال بھی نہیں آتا ہے کہ یہ الفاظ کفر ہیں اور ایسا بولنے والے کافر ہیں اس لیے کہ بولنے والے مسلمان ہیں اور ان کا ایمان وعقیدہ ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سب اسباب ہیں اور یہ سب نسبتیں مجازی ہیں. قرآن کریم میں ہے”لِاَھَبَ لَکِ غُلَاماً زَکِیّاً”اھ (صورۃ مریم، الاٰیۃ:١٩) جبرئیل امین جب حضرت مریم رضی اللہ عنھا کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ”میں تجھے ایک ستھرہ بیٹا دونگا” ہر مسلمان جانتا ہے کہ اولاد دینا اللہ عزوجل کا کام ہے پھر جبرئیل امین نے اولاد دینے کی نسبت اپنی طرف کی یہ نسبت مجازاً کی ہے اس طرح کی بہت سی مثالیں قرآن حکیم میں موجود ہیں اس تمہید کے بعد یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے سواء کسی دوسرے پر جب مشکل کشا کا لفظ استعمال کرے گا تو اس سے اسناد مجازی ہی مراد ہوگی اس لیے کہ مسلمان یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ حقیقی مشکل کشا صرف اللہ تعالیٰ ہے مگر اللہ تعالیٰ کی عطا سے بندگان خدا بھی مشکلیں حل کرتے ہیں اس لیے غیر خدا کو مشکل کشا کہنا یہ مجازاً ہے اور قائل کا مسلمان ہونا اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ اسناد مجازی ہے. فتاویٰ امجدیہ میں ہے”بیشک اللہ عزوجل مشکل کشا ہے مصائب دور کرنا اسی کا کام ہے مگر اس نے اپنے بندوں کو ایسے اختیار دئیے ہیں کہ وہ بإذن اللہ مصائب کو دور کرتے ہیں بذات خود مشکل دور کرنا اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے اور خدا کے حکم سے بندگان خدا دور کرتے ہیں”اھ(ج٤ص٢٤٢،کتاب الحظر والاباحۃ) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبہ:محمد ارشد حسین الفیضی /٢٩ربیع الاٰخر ١٤٤٤ھ

Kutubahu & Verified by:

<h3>حضرت علی رضی ﷲ تعالی عنہ کو مولی علی مشکل کشا کہنا ؟</h3> مفتی محمد ارشد حسین فیضی۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کو مولا علی مشکل کشا کہنا کیسا ہے بینوا بالدلیل وتوجروا. المستفتی:محمد وسیم اکرم رضوی پھلواری راجستھان <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب۔</strong></span> وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کو مولا علی کہنا جائز بلکہ فرمان رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وسلم کے موافق ہے حدیث شریف میں ہے"من کنت مولاہ فعلی مولاہ"اھ(جامع الترمذی ج٢ص٢١٢ ابواب المناقب، مناقب علی بن ابی طالب) جس کا میں مولیٰ ہوں اس کے علی مولیٰ ہیں اور مشکل کشا کہنا بھی کہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے بندگان خدا بھی مشکل کشائی کرتے ہیں بذات خود مشکل ومصائب کا دور کرنا اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے مگر اس نے اپنے بندوں کو ایسے اختیار دئیے ہیں کہ وہ بإذن اللہ مصائب کو دور کرتے ہیں اور یہی مسلمانوں کا عقیدہ ہے. یا یوں سمجھئیے کی فعل کی نسبتیں دو طرح کی ہوتی ہیں کبھی فاعل حقیقی کی طرف اور کبھی فاعل مجازی کی طرف اور یہ استعمال ہر زبان میں ہےحتی کہ قرآن وحدیث میں بھی ہوا ہے اس کے پہچاننے کے لیے متکلم کے اعتقاد پر دارو مدار ہوتا ہے مثلا عربی زبان میں بولا جاتا ہے"انبت الربیع البقل"اھ(مختصر المعانی ص١٥٤، احوال الاسانید الخبری، اسناد مجازی، مکتبہ رشیدیہ) یعنی موسم بہار نے سبزی اگائی. اس کے لفظی معنی کے اعتبار سے تو مطلب یہ ہوا کہ موسم فاعل ہے اور وہ فصلیں اگاتا ہے حالانکہ کھیتی اگانا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور پانی وغیرہ اسباب ہیں اور سبب کو فاعل بناکر اس کی جانب نسبت کرنا" نسبت مجازی" ہے جبکہ مسلمان کہے کہ مسلمان یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ فاعل حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے اور مومن کا ایمان وعقیدہ ہی اس معنئ مجازی کے لیے قرینہ ہے لہذا مومن کے کلام میں زبردستی اسناد حقیقی بنا کر کفر کے معنی پیدا نہیں کیے جائیں گے ہاں اگر کافر یہ بات کہے تو حقیقت مانا جائے گا اسلیے کہ وہ زمانہ کو ہی فاعل حقیقی سمجھتا ہے مختصر المعانی، مطول وغیرہ کتب میں اس طرح کی بہت سی مثالیں موجود ہیں. اور اردو زبان وأدب میں عام طور پر یہ الفاظ بولے جاتے ہیں دواء نے بیماری دور کردی، ڈاکٹر نے مریض اچھا کردیا، بارش نے زمین سرسبز کردیا،وغیرہ وغیرہ مگر ان مثالوں سے کسی کے دل میں یہ خیال بھی نہیں آتا ہے کہ یہ الفاظ کفر ہیں اور ایسا بولنے والے کافر ہیں اس لیے کہ بولنے والے مسلمان ہیں اور ان کا ایمان وعقیدہ ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سب اسباب ہیں اور یہ سب نسبتیں مجازی ہیں. قرآن کریم میں ہے"لِاَھَبَ لَکِ غُلَاماً زَکِیّاً"اھ (صورۃ مریم، الاٰیۃ:١٩) جبرئیل امین جب حضرت مریم رضی اللہ عنھا کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ"میں تجھے ایک ستھرہ بیٹا دونگا" ہر مسلمان جانتا ہے کہ اولاد دینا اللہ عزوجل کا کام ہے پھر جبرئیل امین نے اولاد دینے کی نسبت اپنی طرف کی یہ نسبت مجازاً کی ہے اس طرح کی بہت سی مثالیں قرآن حکیم میں موجود ہیں اس تمہید کے بعد یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے سواء کسی دوسرے پر جب مشکل کشا کا لفظ استعمال کرے گا تو اس سے اسناد مجازی ہی مراد ہوگی اس لیے کہ مسلمان یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ حقیقی مشکل کشا صرف اللہ تعالیٰ ہے مگر اللہ تعالیٰ کی عطا سے بندگان خدا بھی مشکلیں حل کرتے ہیں اس لیے غیر خدا کو مشکل کشا کہنا یہ مجازاً ہے اور قائل کا مسلمان ہونا اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ اسناد مجازی ہے. فتاویٰ امجدیہ میں ہے"بیشک اللہ عزوجل مشکل کشا ہے مصائب دور کرنا اسی کا کام ہے مگر اس نے اپنے بندوں کو ایسے اختیار دئیے ہیں کہ وہ بإذن اللہ مصائب کو دور کرتے ہیں بذات خود مشکل دور کرنا اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے اور خدا کے حکم سے بندگان خدا دور کرتے ہیں"اھ(ج٤ص٢٤٢،کتاب الحظر والاباحۃ) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبہ:محمد ارشد حسین الفیضی /٢٩ربیع الاٰخر ١٤٤٤ھ

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...