01
The questionSawaal
اصل سوالحضور تاج الشریعہ اورعلم کلام از: مولانا اظہر علی علیمی
02
The responseAl-Jawab
حضور تاج الشریعہ اورعلم کلام از: مولانا اظہر علی علیمی
تاریخ اسلام میں ایسے بے شمار نام محفوظ ہیں جن کے کارہائے نمایاں رہتی دنیا تک یاد کئے جائیں گے، کسی کا نام اس کے زہد و تقویٰ کی بنا پر لیا جاتا ہے، کسی کا اس کی اور اس کی خاندانی شرافت و عظمت، کسی کا اس کے علم و فضل اور کمالات کی بنا پر لیا جاتا ہے کوئی کسی فن کا ماہر اور امام کہلاتا ہے، کوئی کسی فن کا، لیکن جب ذکر آجائے مرشد کامل مرجع عالم قبلہ و کعبہ تاج الاسلام، جانشین مفتی اعظم وارث علوم اعلی حضرت، جگر گوشہ حجۃالاسلام، شہزادہ مفسر اعظم سیدی و سندی حضرت علامہ مفتی حافظ و قاری الحاج الشاہ محمد اختر رضا خان قادری ازہری علیہ الرحمہ کا، تو وہ اپنے تمام اوصاف حمیدہ کے ساتھ بہت سارے علوم و فنون کے ماہر اور آفتاب و ماہتاب ہیں، خصوصیت کے ساتھ مالک قدیر و جبار نے آپ کو علم کلام میں مہارت تامہ اور اس فن کا سلطان بنایا ہے _
علم کلام ایسا سخت اور دشوار ترین فن ہے جس سے اکثر علما و طلبا کنارہ کشی کرتے اور دور بھاگتے ہیں، اس فن میں مقدمات نقلی کو دلائل عقلی سے ثابت کرنا، باری تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات، انبیاء کرام و رسل کے احوال اور قیامت اور اس کے متعلقات سے بحث کی جاتی ہے یعنی اللہ عز و جل کی نسبت سے کون کون سی باتیں واجب ہیں اور کیا کیا محال ہیں، کیا جائز ہیں، یوں ہی انبیاء و رسل کے حق میں کیا واجب؟ کیا ممکن ؟ اور کیا محال ہیں؟ اس علم سے عقائد پختہ ہوتے ہیں اسلامی عقائد کو غیر اسلامی عقائد اور کفریہ عقائد سے ممتاز کرنے کی قوت و صلاحیت پیدا ہوتی ہے، اس علم کو علم عقائد ،علم کلام، اور علم توحید سے موسوم کیا جاتا ہے اور اس علم کے جاننے والے کو ” متکلم” کہتے ہیں.
مدارس اسلامیہ میں اس فن کی چنیدہ کتابیں پڑھائ جاتی ہیں اور وہ بھی اتنی کم مقدار میں کہ اس علم میں ماہر ہو پانا تو دور کی بات ہے اس کی جزئیات اور اس کی اصطلاحات پر کامل عبور نہیں ہو پاتا ، لیکن حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کو اللہ کی فضل و عطا سے علم کلام میں مہارت و دسترس حاصل تھی.
آپ خود بیان فرماتے ہیں کہ جب میں جامع ازہر مصر میں تعلیم حاصل کر رہا تھا تو اس وقت سالانہ امتحان اگرچہ تحریری ہوتا تھا، لیکن معلومات عامہ جنرل نالج کا امتحان تقریری ہوتا تھا، چنانچہ جب سالانہ امتحان منعقد ہوا تو ممتحن نے میری جماعت کے طلبہ سے علم کلام کے چند سوالات کئے، پوری جماعت میں سے کوئی بھی ممتحن کے سوالات کا صحیح جواب نہ دے سکا ، اخیر میں مجھ سے وہی سوالات پوچھے، اور الحمد للہ میں نے ان سوالات کا ایسا شافی و کافی جواب دیا کہ ممتحن تعجب خیز نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہنے لگے، کہ آپ تو حدیث اور اصول حدیث پڑھتے ہیں علم کلام میں کیسے جواب دیا، جانشین مفتی اعظم ہند نے جواب دیا کہ میں نے دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف میں علم کلام میں پڑھا تھا، اور اسی دوران بہت ساری کتابوں کا مطالعہ کیا تھا، آپ کے جواب کو سن کر ممتحن بہت خوش ہوئے اور جماعت میں پہلا مقام عطا کیا.
حضور تاج الشریعہ کی علم کلام میں مہارت کا اندازہ آپ اس سے بھی لگا سکتے ہیں کہ آپ نے علم کلام کی دو اہم کتابوں پر کام کیا ، ان میں سے ایک ” المعتقد المنتقد” اور المستند المعتمد، بنا نجاۃ الأبد ہے، یہ علم کلام میں ایک معرکۃ الآرا کتاب ہے، یہ کتاب عالم جلیل حضرت مولانا شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ کی تصنیف ہے، جس پر اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کا حاشیہ ہے، حضور تاج الشریعہ نے معاصر علماء کے اصرار پر اس کا اردو ترجمہ کیا ہے اور گنجلک مقامات پر حاشیہ بھی تحریر فرمایا ہے، یہ کتاب ٢٠٠٨ ء ہی میں المجمع الرضوی سے چھپ چکی ہے.
دوسری کتاب “انوار المنان فی توحيد القرآن” ہے، یہ کتاب بھی علم کلام کے موضوع پر ہے، جو سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی تصنیف ہے، یہ کلام لفظی اور کلام نفسی کی تحقیق پر مشتمل ہے، اس کتاب کا اردو ترجمہ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے کیا ہے، اس میں بھی مغلق مقامات کی تشریح حضور والا نے فرمائ ہے، اور مغلق مقامات پر حاشیہ بھی تحریر فرمایا ہے، یہ کتاب بھی مطبوع ہے _
اس کے علاوہ علم کلام کے سیکڑوں سوالات حضور والا کی بارگاہ میں پیش ہوئے جن کے آپ نے تشفی بخش جوابات عنایت فرمائے، آخر میں مولی قدیر و جبار کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں آپ کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے، آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و سلم
نوٹ: یہ مضمون مجموعہ مقالات تاج الشریعہ میں چھپ چکا ہے اور دوسرے موضوعات پر حضور والا کے تعلق سے جاننے کے لیے کتاب کا مطالعہ فرمائیں ۔
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.