Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1764 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.1K Views

حضور صدر الشریعہ اپنے اکابر کی نظر میں

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

حضور صدر الشریعہ اپنے اکابر کی نظر میں

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

حضور صدر الشریعہ اپنے اکابر کی نظر میں

از: محمد نعیم اسماعیلی امجدی بہرائچی فارغ التحصیل جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی بموقع عرس امجدی 2جون 2022 حامدا ومصلیا ومسلما تاریخ اسلامی کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر زمانے میں کچھ ملکوتی صفات نفوس قدسیہ ایسے بھی ہوئے ہیں کہ ایک زمانہ ان پر فریفتہ رہا اور وہ مرجع عالم رہے بفضلہ تعالی اتنے اعلی مراتب انہیں نصیب ہوئے کہ زمانہ کے اکابر اور خود ان کے شیوخ و اساتذہ نے ان کی ناز برداریاں اٹھائیں۔ انہیں پاک طینت،خوب سیرت ،بلند ہمت ذوات قدسیہ میں ایک ذات ماضی قریب میں ہم کو ایسی بھی ملتی ہے۔ جس نے ایک عالم کو اپنے علم و عمل کی نورانیت سے منور کیا ہزاروں تشنگان علوم نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کی علمی پیاس کو بجھایا۔مسلمانان عالم پر عموماً اورمفتیان ذوی الاحتشام پر خصوصاً فقہ حنفی کا انسائیکلوپیڈیا بہار شریعت کی شکل میں لکھ کر احسان عظیم فرمایا اصاغر ان کے خوشہ چیں رہے اکابر ان کی مدح و ستائش میں رطب اللسان رہے میری مراد جانشین بو حنیفہ فقیہ اعظم ہند وکیل رضا خلیفہ اعلی حضرت ابو المجد و العلی صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی حکیم الحاج محمد امجد علی اعظمی سنی حنفی قادری برکاتی رضوی علیہ الرحمۃ والرضوان ہے۔آپ کی علمی صلاحیت اور فنی لیاقت کا ایک جہاں معترف ہے جس کی شہادت اور گواہی آپ کے شیوخ و اساتذہ اور معاصرین وتلامیذہ نے بڑے پیارے انداز میں بارہا دی ہے۔ ان پاکباز ہستیوں میں تنہا مجدد اعظم فقیہ فقیدالمثال اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ رحمۃ و الرضوان کے تاثرات ہی آپ کی ذات کے عدیم المثال اور عظیم الشان ہونے کے لئے کافی و وافی ہیں۔

امام اہلسنت اعلیٰحضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی نظر میں

امام اہل سنت اعلی حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ آپ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ “آپ یہاں کے موجودین میں تفقہ جس کا نام ہے وہ مولوی امجد علی صاحب میں زیادہ پائیے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ استفتاء سنایا کرتے ہیں اور جو جواب دیتا ہوں لکھتے ہیں طبیعت اخاذ ہے طرز سے واقفیت ہو چلی ہے۔(الملفوظ کامل) اس میں کچھ شائبۂ تحریر بھی تھا۔ اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ نے متعدد بار یہ فرمایا کہ دو شخص جب میرے پاس کچھ لکھنے بیٹھتے ہیں تو مجھے غور و خوض اور سوچنے کی ضرورت پیش نہیں آتی، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلسل میرے قلب پر مضمون کا القاء ہوتا ہے ایک حضرت مولانا وصی احمد صاحب سورتی دوسرے مولانا امجد علی اعظمی۔ (حیات صدر الشریعہ، ص:٤٩) میرے دل کو امجد علی بھاگئے ہیں مولانا نور الحسن مولانا ظہورالحق (غالبا یہی نام ہیں )یہ دونوں حضرات علم معقولات میں اپنے کو منفرد سمجھتے تھے اعلی حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا آپ ہمارا اور صدر الشریعہ کا امتحان لے لیں جو کامیاب ہو اس کو منظر اسلام کا صدرالمدرسین بنا دیں. صدرالشریعہ اس وقت منظر اسلام کے صدر المدرسین تھے اس پر اعلی حضرت نے مسکرا کر ارشاد فرمایا میں نے سب کا امتحان لے لیا ہے مگر میرے دل کو امجد علی بھاگئے ہیں اس کا کیا کروں ۔ ع: پیا جس کو چاہے سہاگن وہی ہے (صدر الشریعہ حیات و خدمات صفحہ 110) علمی استحکام،استعداد میں جامعیت،دین میں تصلب،رد و مناظرہ میں دستگاہ سے متاثر ہوکر امام اہل سنت اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: بلکہ رضا کے شاگردوں کا نام لیے گھبراتے یہ ہیں میرا امجد مجد کا پکا اس سے بہت کچیاتے یہ ہیں (الاستمداد،ص:٦٧) شریعت کے ساتھ ساتھ طریقت و روحانیت میں بھی امام اہلسنت کے حضور آپ کا یہ مقام تھا کہ آپ خود فرماتے ہیں: 18 ذی الحجہ 1333ھ کو بموقع عرس سراپا قدس حضرت سیدنا آل رسول صاحب قدس سرہ العزیز و رضی اللہ عنہ بغیر کسی تحریر وطلب کے اعلی حضرت نے جملہ سلاسل قادریہ قدیمہ وجدیدہ، چشتیہ اور سہروردیہ کی اجازت تامہ وعامہ عطا فرمائی،اور اپناخلیفہ مطلق کیا اپنا عمامہ سر اقدس سے اتار کر میرے سر پر باندھا اور اپنی زبان پاک سے یہ الفاظ ادا فرمائے کہ”جملہ وظائف واذکار واعمال اور اپنی تمام مرویات حدیث اور جملہ علوم کی اور اپنی تمام تصنیفات کی بلا استثناء میں اجازت تامہ وعامہ دیتا ہوں.”(حیات صدر الشریعہ :48،49)

استاذ الاساتذہ علامہ ہدایت اللّہ خاں رامپوری قدس سرہ العزیز کی نظر میں

صدر الشریعہ نے جس چشمۂ علم وآگہی سے سیرابی حاصل کی۔ اشرف المحققین پروفیسر علامہ سیّد سلیمان اشرف بہاری سابق صدر شعبئہ دینیات علی گڈھ (متوفی ١٣٥٨ه‍) اس کے بارے میں اس طرح فرمایا کرتے۔ “استاذ گرامی حضرت علامہ ہدایت اللہ خاں صاحب قدس سرہٗ یوں تو تمام طلباء پر عنایت فرمایا کرتے تھے لیکن تین اشخاص مولانا محمد صدیق (برادر بزرگ صدر الشریعہ) مولانا محمد امجد علی اور سلیمان اشرف پر حضرت کی خاص الخاص نظرکرم تھی چاہتے تھے کہ جو کچھ میرے سینے میں ہے نکال کر ان سب کو بخش دوں۔”(صدر الشریعہ حیات و خدمات،ص:46) اس واقعہ سے استاذ الاساتذہ حضرت علامہ ہدایت اللہ رامپوری رحمۃ اللہ علیہ کی حضور صدر الشریعہ سے غایت درجہ محبت کا ثبوت ملتا ہے کیونکہ جو جس سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اس کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ میرے پاس ہے سب میں اپنے محبوب کو عطا کر دوں۔ اسی طرح کی محبت حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ آپ کے شہزاۂ گرامی سے فرمایا کرتے تھے۔ خودحضور محدث کبیر فرماتے ہیں کہ حضور حافظ ملت مجھ سے اکثر فرمایا کرتے تھے سنو! اگر علم شربت کی طرح پلانے کا ہوتا تو اس گلاس میں سب سے پہلے تم کو دیتا۔ استاذ الاساتذہ نے اپنے چہیتے شاگرد حضور صدر الشریعہ کی دل جمعی، محبت ولگن،خدا داد استعداد کی داد دیتے ہوئے فرمایا”شاگرد ایک ہی ملا وہ بھی بڑھاپے میں”.

حضورمحدث سورتی کی نظر میں

اعلی حضرت کو ایک باصلاحیت عالم دین کی ضرورت تھی محدث سورتی نے لکھا “میں آپ کی خدمت میں میں ایک درنایاب کو بھیج رہا ہوں جب صدر الشریعہ اعلی حضرت کے پاس خط لے کر گئے تو اعلی حضرت نے ایک عربی عبارت لکھوائی اور اردو میں اس کا ترجمہ کرنے کو کہا صدرالشریعہ نے بیٹھے ہی بیٹھے اس عبارت کا ترجمہ کر دیا اعلی حضرت کبھی ترجمہ پر نظر فرماتے کبھی صدرالشریعہ کے چہرہ کی طرف دیکھتے کچھ دیر بعد صدر الشریعہ بریلی شریف سے واپس ہوگئے تو اعلی حضرت نے محدث سورتی کے نام خط میں لکھا کہ آپ کا در نایاب کہاں چلا گیا؟پھر حضرت صدر الشریعہ بریلی شریف گئے. چند مہینے کے اندر اندر مجدد دین و ملت نے آپ کے لئے مستقل قیام کا انتظام فرمایا۔(مختصر سوانح صدر الشریعہ) مذکورہ بالا واقعہ سے اندازہ ہوا کہ حضور صدر الشریعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور محدث سورتی رضی اللہ تعالی عنہ کی بارگاہ میں درّ نایاب کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کو یقیناًامام اہلسنت رضی اللہ تعالی عنہ نے درّنایاب پایا اور اپنی بارگاہ بافیض میں مستقل طور پر رکھ لیا۔یہ جہاں ان بزرگوں کی کرم نوازی کا علم ہوتاہے وہیں حضور صدر الشریعہ رضی اللہ تعالی عنہ کی عظیم الشان قابلیت ولیاقت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ صدر الشریعہ کی علمی استعداد اور تعلیمی شغف دیکھ کر محدث سورتی فرماتے ہیں: مجھ کو ساری عمر میں ایک ہی طالب علم ملا ہے جو محنتی بھی ہے اور سمجھدار بھی، علم سے شوق اور دلچسپی رکھتا ہے۔(صدر الشریعہ نمبر صفحہ7تھی اور کبھی فرماتے:”مجھ سے اگر کسی نے پڑھا تو مولوی امجد علی نے”۔ (صدرالشریعہ نمبر صفحہ 150) مجدد اعظم امام احمد رضا کی بارگاہ فیض نے آپ کو اپنا ثانی بنایا ۔حضرت محدث سورتی نے آپ کو اپنا مظہر بنایا۔ علامہ ہدایت اللہ رامپوری نے آپ کو اپنا آئینہ بنایا اور ان ساری عبقری شخصیتوں کے علم و عمل کا جب سنگم بنا تو اس نے صدرالشریعہ کا روپ دھار لیا یہی وجہ ہے کہ سید احمد اشرف بن اشرفی میاں علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ “یہ علم کی لائبریری ہیں”۔ (صدر الشریعہ حیات وخدمات ص:23) اکابرین علماء، فقہاء و مشائخ کے نزدیک صرف آپ ہی نہیں مقبول تھے بلکہ آپ کی تحریر کو بھی کافی مقبولیت حاصل تھی خود مجدد اعظم فقیہ فقید المثال اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ بہار شریعت کی تقریظ میں لکھتے ہیں: “فقیر غفرلہ المولی القدیر نے مسائل طہارت میں یہ مبارک رسالہ بھارشریعت تصنیف لطیف اخی فی ﷲ ذی المجد و الجاہ و الطبع السلیم و الفکر القویم و الفضل و العلٰی مولٰنا ابو العلٰی مولوی حکیم محمد امجد علی قادری برکاتی اعظمی بالمذہب و المشرب و السکنیٰ رزقہﷲ تعالیٰ فی الدارین الحسنیٰ مطالعہ کیا الحمد للّٰہ مسائل صحیحہ رجیحہ محققہ منقحہ پر مشتمل پایا آج کل ایسی کتاب کی ضرورت تھی کہ عوام بھائی سلیس اردو میں صحیح مسئلے پائیں اور گمراہی و اغلاط کے مصنوع و ملمع زیوروں کی طرف آنکھ نہ اٹھائیں مولیٰ عزوجل مصنف کی عمر و عمل و فیض میں برکت دے۔” صدر الشریعہ رضی اللّٰہ عنہ کی آب قلیان کی طہارت وطہوریت کے مسئلہ کی تحقیق پر تصدیق کرتے ہوئے مفتئ درگاہ معلی بہرائچ شریف قاضی احسان الحق نعیمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:”الحق ان الحق فی ہذہ الصورۃ مع العلامۃ المجیب الفاضل اللبیب الحضرۃ مولٰـنا امجد علی صاحب القادری الرضوی سلمہ اللہ تعالٰی والحق احق ان یتبع. کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ العبد المغتصم بذیل النبی محمد احسان الحق نعیمی قاضی بلدہ ومفتی درگاہ معلی بہرائچ شریف۔ سفیر اسلام مبلغ اعظم خلیفۂ اعلیٰ حضرت علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ قلمطراز ہیں: حضرت مولانا امجد علی صاحب دامت برکاتہم نے مسائل طہارت میں ’’بہارِ شریعت‘‘ جیسی جامع کتاب تالیف فرماکر مسلمانان ہند پر احسان عظیم فرمایا ہے جس کے شکریہ سے عہدہ برا ہونا دشوار۔ دعا ہے کہ رب العزت جل مجدہ مولانا موصوف کو اجر جزیل مرحمت فرمائے۔ خلافت کمیٹی کے خلاف حضور صدر الشریعہ نے ستر سوالات مرتب فرمائے تھے ان سوالات کو دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ دینی بصیرت تامہ رکھنے کے ساتھ ساتھ سیاسی معلومات بھی کم نہیں تھیں ان سوالات کو پڑھ کر بے شمار اکابرین علماء نے آپ کو داد و تحسین سے نوازا۔ یہ نمونہ کے طور پر چند شواہد ہوئے اس سے آپ نے حضرت صدر شریعت، بدرطریقت،مصنف بہار شریعت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی شانِ رفیع اور ذات عالی کا اندازہ لگا لیا ہوگا کیونکہ مثل مشہور ہے “مشتے نمونہ از خروارے” رب قدیر کی بارگاہِ اقدس میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت صدر شریعت علیہ الرحمہ کے فیضانِ کرم سے مالا مال فرمائے اور ان کے تفقہ فی الدین کا صدقہ نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین ﷺ

Kutubahu & Verified by:

<h2>حضور صدر الشریعہ اپنے اکابر کی نظر میں</h2> از: محمد نعیم اسماعیلی امجدی بہرائچی فارغ التحصیل جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی بموقع عرس امجدی 2جون 2022 حامدا ومصلیا ومسلما تاریخ اسلامی کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر زمانے میں کچھ ملکوتی صفات نفوس قدسیہ ایسے بھی ہوئے ہیں کہ ایک زمانہ ان پر فریفتہ رہا اور وہ مرجع عالم رہے بفضلہ تعالی اتنے اعلی مراتب انہیں نصیب ہوئے کہ زمانہ کے اکابر اور خود ان کے شیوخ و اساتذہ نے ان کی ناز برداریاں اٹھائیں۔ انہیں پاک طینت،خوب سیرت ،بلند ہمت ذوات قدسیہ میں ایک ذات ماضی قریب میں ہم کو ایسی بھی ملتی ہے۔ جس نے ایک عالم کو اپنے علم و عمل کی نورانیت سے منور کیا ہزاروں تشنگان علوم نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کی علمی پیاس کو بجھایا۔مسلمانان عالم پر عموماً اورمفتیان ذوی الاحتشام پر خصوصاً فقہ حنفی کا انسائیکلوپیڈیا بہار شریعت کی شکل میں لکھ کر احسان عظیم فرمایا اصاغر ان کے خوشہ چیں رہے اکابر ان کی مدح و ستائش میں رطب اللسان رہے میری مراد جانشین بو حنیفہ فقیہ اعظم ہند وکیل رضا خلیفہ اعلی حضرت ابو المجد و العلی صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی حکیم الحاج محمد امجد علی اعظمی سنی حنفی قادری برکاتی رضوی علیہ الرحمۃ والرضوان ہے۔آپ کی علمی صلاحیت اور فنی لیاقت کا ایک جہاں معترف ہے جس کی شہادت اور گواہی آپ کے شیوخ و اساتذہ اور معاصرین وتلامیذہ نے بڑے پیارے انداز میں بارہا دی ہے۔ ان پاکباز ہستیوں میں تنہا مجدد اعظم فقیہ فقیدالمثال اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ رحمۃ و الرضوان کے تاثرات ہی آپ کی ذات کے عدیم المثال اور عظیم الشان ہونے کے لئے کافی و وافی ہیں۔ <h3>امام اہلسنت اعلیٰحضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی نظر میں</h3> امام اہل سنت اعلی حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ آپ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ "آپ یہاں کے موجودین میں تفقہ جس کا نام ہے وہ مولوی امجد علی صاحب میں زیادہ پائیے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ استفتاء سنایا کرتے ہیں اور جو جواب دیتا ہوں لکھتے ہیں طبیعت اخاذ ہے طرز سے واقفیت ہو چلی ہے۔(الملفوظ کامل) اس میں کچھ شائبۂ تحریر بھی تھا۔ اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ نے متعدد بار یہ فرمایا کہ دو شخص جب میرے پاس کچھ لکھنے بیٹھتے ہیں تو مجھے غور و خوض اور سوچنے کی ضرورت پیش نہیں آتی، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلسل میرے قلب پر مضمون کا القاء ہوتا ہے ایک حضرت مولانا وصی احمد صاحب سورتی دوسرے مولانا امجد علی اعظمی۔ (حیات صدر الشریعہ، ص:٤٩) میرے دل کو امجد علی بھاگئے ہیں مولانا نور الحسن مولانا ظہورالحق (غالبا یہی نام ہیں )یہ دونوں حضرات علم معقولات میں اپنے کو منفرد سمجھتے تھے اعلی حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا آپ ہمارا اور صدر الشریعہ کا امتحان لے لیں جو کامیاب ہو اس کو منظر اسلام کا صدرالمدرسین بنا دیں. صدرالشریعہ اس وقت منظر اسلام کے صدر المدرسین تھے اس پر اعلی حضرت نے مسکرا کر ارشاد فرمایا میں نے سب کا امتحان لے لیا ہے مگر میرے دل کو امجد علی بھاگئے ہیں اس کا کیا کروں ۔ ع: پیا جس کو چاہے سہاگن وہی ہے (صدر الشریعہ حیات و خدمات صفحہ 110) علمی استحکام،استعداد میں جامعیت،دین میں تصلب،رد و مناظرہ میں دستگاہ سے متاثر ہوکر امام اہل سنت اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: بلکہ رضا کے شاگردوں کا نام لیے گھبراتے یہ ہیں میرا امجد مجد کا پکا اس سے بہت کچیاتے یہ ہیں (الاستمداد،ص:٦٧) شریعت کے ساتھ ساتھ طریقت و روحانیت میں بھی امام اہلسنت کے حضور آپ کا یہ مقام تھا کہ آپ خود فرماتے ہیں: 18 ذی الحجہ 1333ھ کو بموقع عرس سراپا قدس حضرت سیدنا آل رسول صاحب قدس سرہ العزیز و رضی اللہ عنہ بغیر کسی تحریر وطلب کے اعلی حضرت نے جملہ سلاسل قادریہ قدیمہ وجدیدہ، چشتیہ اور سہروردیہ کی اجازت تامہ وعامہ عطا فرمائی،اور اپناخلیفہ مطلق کیا اپنا عمامہ سر اقدس سے اتار کر میرے سر پر باندھا اور اپنی زبان پاک سے یہ الفاظ ادا فرمائے کہ"جملہ وظائف واذکار واعمال اور اپنی تمام مرویات حدیث اور جملہ علوم کی اور اپنی تمام تصنیفات کی بلا استثناء میں اجازت تامہ وعامہ دیتا ہوں."(حیات صدر الشریعہ :48،49) <h3>استاذ الاساتذہ علامہ ہدایت اللّہ خاں رامپوری قدس سرہ العزیز کی نظر میں</h3> صدر الشریعہ نے جس چشمۂ علم وآگہی سے سیرابی حاصل کی۔ اشرف المحققین پروفیسر علامہ سیّد سلیمان اشرف بہاری سابق صدر شعبئہ دینیات علی گڈھ (متوفی ١٣٥٨ه‍) اس کے بارے میں اس طرح فرمایا کرتے۔ "استاذ گرامی حضرت علامہ ہدایت اللہ خاں صاحب قدس سرہٗ یوں تو تمام طلباء پر عنایت فرمایا کرتے تھے لیکن تین اشخاص مولانا محمد صدیق (برادر بزرگ صدر الشریعہ) مولانا محمد امجد علی اور سلیمان اشرف پر حضرت کی خاص الخاص نظرکرم تھی چاہتے تھے کہ جو کچھ میرے سینے میں ہے نکال کر ان سب کو بخش دوں۔"(صدر الشریعہ حیات و خدمات،ص:46) اس واقعہ سے استاذ الاساتذہ حضرت علامہ ہدایت اللہ رامپوری رحمۃ اللہ علیہ کی حضور صدر الشریعہ سے غایت درجہ محبت کا ثبوت ملتا ہے کیونکہ جو جس سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اس کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ میرے پاس ہے سب میں اپنے محبوب کو عطا کر دوں۔ اسی طرح کی محبت حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ آپ کے شہزاۂ گرامی سے فرمایا کرتے تھے۔ خودحضور محدث کبیر فرماتے ہیں کہ حضور حافظ ملت مجھ سے اکثر فرمایا کرتے تھے سنو! اگر علم شربت کی طرح پلانے کا ہوتا تو اس گلاس میں سب سے پہلے تم کو دیتا۔ استاذ الاساتذہ نے اپنے چہیتے شاگرد حضور صدر الشریعہ کی دل جمعی، محبت ولگن،خدا داد استعداد کی داد دیتے ہوئے فرمایا"شاگرد ایک ہی ملا وہ بھی بڑھاپے میں". <h3>حضورمحدث سورتی کی نظر میں</h3> اعلی حضرت کو ایک باصلاحیت عالم دین کی ضرورت تھی محدث سورتی نے لکھا "میں آپ کی خدمت میں میں ایک درنایاب کو بھیج رہا ہوں جب صدر الشریعہ اعلی حضرت کے پاس خط لے کر گئے تو اعلی حضرت نے ایک عربی عبارت لکھوائی اور اردو میں اس کا ترجمہ کرنے کو کہا صدرالشریعہ نے بیٹھے ہی بیٹھے اس عبارت کا ترجمہ کر دیا اعلی حضرت کبھی ترجمہ پر نظر فرماتے کبھی صدرالشریعہ کے چہرہ کی طرف دیکھتے کچھ دیر بعد صدر الشریعہ بریلی شریف سے واپس ہوگئے تو اعلی حضرت نے محدث سورتی کے نام خط میں لکھا کہ آپ کا در نایاب کہاں چلا گیا؟پھر حضرت صدر الشریعہ بریلی شریف گئے. چند مہینے کے اندر اندر مجدد دین و ملت نے آپ کے لئے مستقل قیام کا انتظام فرمایا۔(مختصر سوانح صدر الشریعہ) مذکورہ بالا واقعہ سے اندازہ ہوا کہ حضور صدر الشریعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور محدث سورتی رضی اللہ تعالی عنہ کی بارگاہ میں درّ نایاب کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کو یقیناًامام اہلسنت رضی اللہ تعالی عنہ نے درّنایاب پایا اور اپنی بارگاہ بافیض میں مستقل طور پر رکھ لیا۔یہ جہاں ان بزرگوں کی کرم نوازی کا علم ہوتاہے وہیں حضور صدر الشریعہ رضی اللہ تعالی عنہ کی عظیم الشان قابلیت ولیاقت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ صدر الشریعہ کی علمی استعداد اور تعلیمی شغف دیکھ کر محدث سورتی فرماتے ہیں: مجھ کو ساری عمر میں ایک ہی طالب علم ملا ہے جو محنتی بھی ہے اور سمجھدار بھی، علم سے شوق اور دلچسپی رکھتا ہے۔(صدر الشریعہ نمبر صفحہ7تھی اور کبھی فرماتے:"مجھ سے اگر کسی نے پڑھا تو مولوی امجد علی نے"۔ (صدرالشریعہ نمبر صفحہ 150) مجدد اعظم امام احمد رضا کی بارگاہ فیض نے آپ کو اپنا ثانی بنایا ۔حضرت محدث سورتی نے آپ کو اپنا مظہر بنایا۔ علامہ ہدایت اللہ رامپوری نے آپ کو اپنا آئینہ بنایا اور ان ساری عبقری شخصیتوں کے علم و عمل کا جب سنگم بنا تو اس نے صدرالشریعہ کا روپ دھار لیا یہی وجہ ہے کہ سید احمد اشرف بن اشرفی میاں علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ "یہ علم کی لائبریری ہیں"۔ (صدر الشریعہ حیات وخدمات ص:23) اکابرین علماء، فقہاء و مشائخ کے نزدیک صرف آپ ہی نہیں مقبول تھے بلکہ آپ کی تحریر کو بھی کافی مقبولیت حاصل تھی خود مجدد اعظم فقیہ فقید المثال اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ بہار شریعت کی تقریظ میں لکھتے ہیں: "فقیر غفرلہ المولی القدیر نے مسائل طہارت میں یہ مبارک رسالہ بھارشریعت تصنیف لطیف اخی فی ﷲ ذی المجد و الجاہ و الطبع السلیم و الفکر القویم و الفضل و العلٰی مولٰنا ابو العلٰی مولوی حکیم محمد امجد علی قادری برکاتی اعظمی بالمذہب و المشرب و السکنیٰ رزقہﷲ تعالیٰ فی الدارین الحسنیٰ مطالعہ کیا الحمد للّٰہ مسائل صحیحہ رجیحہ محققہ منقحہ پر مشتمل پایا آج کل ایسی کتاب کی ضرورت تھی کہ عوام بھائی سلیس اردو میں صحیح مسئلے پائیں اور گمراہی و اغلاط کے مصنوع و ملمع زیوروں کی طرف آنکھ نہ اٹھائیں مولیٰ عزوجل مصنف کی عمر و عمل و فیض میں برکت دے۔" صدر الشریعہ رضی اللّٰہ عنہ کی آب قلیان کی طہارت وطہوریت کے مسئلہ کی تحقیق پر تصدیق کرتے ہوئے مفتئ درگاہ معلی بہرائچ شریف قاضی احسان الحق نعیمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:"الحق ان الحق فی ہذہ الصورۃ مع العلامۃ المجیب الفاضل اللبیب الحضرۃ مولٰـنا امجد علی صاحب القادری الرضوی سلمہ اللہ تعالٰی والحق احق ان یتبع. کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ العبد المغتصم بذیل النبی محمد احسان الحق نعیمی قاضی بلدہ ومفتی درگاہ معلی بہرائچ شریف۔ سفیر اسلام مبلغ اعظم خلیفۂ اعلیٰ حضرت علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ قلمطراز ہیں: حضرت مولانا امجد علی صاحب دامت برکاتہم نے مسائل طہارت میں ’’بہارِ شریعت‘‘ جیسی جامع کتاب تالیف فرماکر مسلمانان ہند پر احسان عظیم فرمایا ہے جس کے شکریہ سے عہدہ برا ہونا دشوار۔ دعا ہے کہ رب العزت جل مجدہ مولانا موصوف کو اجر جزیل مرحمت فرمائے۔ خلافت کمیٹی کے خلاف حضور صدر الشریعہ نے ستر سوالات مرتب فرمائے تھے ان سوالات کو دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ دینی بصیرت تامہ رکھنے کے ساتھ ساتھ سیاسی معلومات بھی کم نہیں تھیں ان سوالات کو پڑھ کر بے شمار اکابرین علماء نے آپ کو داد و تحسین سے نوازا۔ یہ نمونہ کے طور پر چند شواہد ہوئے اس سے آپ نے حضرت صدر شریعت، بدرطریقت،مصنف بہار شریعت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی شانِ رفیع اور ذات عالی کا اندازہ لگا لیا ہوگا کیونکہ مثل مشہور ہے "مشتے نمونہ از خروارے" رب قدیر کی بارگاہِ اقدس میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت صدر شریعت علیہ الرحمہ کے فیضانِ کرم سے مالا مال فرمائے اور ان کے تفقہ فی الدین کا صدقہ نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین ﷺ

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...