Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #599
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.5K Views
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب کے لیے لفظِ حضرت لکھنا کیسا ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب کے لیے لفظِ حضرت لکھنا کیسا ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب کے لیے لفظِ حضرت لکھنا کیسا ہے ؟ بسمہ تعالیٰ
الجواب بعون الملک الوھّاب اللھم ھدایۃ الحق و الصواب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب کی موت چونکہ کفر پر ہوئی اس لیے ابو طالب کو حضرت ابو طالب کہنے کی اجازت نہیں ہے ۔ چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : “آیاتِ قرآنیہ و احادیثِ صحیحہ متوافرہ متظافرہ سے ابوطالب کا کفر پر مرنا اور دم واپسیں ایمان لانے سے انکار کرنا اور عاقبت کار اصحابِ نار سے ہونا ایسے روشن ثبوت سے ثابت، جس سے کسی سنی کو مجالِ دم زدن نہیں۔” (فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 661 رضا فاؤنڈیشن لاہور) فقیہِ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : “ابوطالب کو حضرت ابو طالب کہنے کی اجازت نہیں، اس لیے کہ ان کی موت کفر پر ہوئی۔” (فتاوٰی فیض الرسول جلد 3 صفحہ 358 شبیر برادرز لاہور) شارحِ بخاری فقیہِ اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : “ابوطالب کے ایمان اور عدمِ ایمان میں اختلاف ہے۔ بعض روایاتِ ضعیفہ کی بنا پر کچھ لوگ ابوطالب کو مسلمان کہتے ہیں، اگرچہ صحیح یہی ہے کہ ابو طالب ایمان سے محروم رہے۔ اس لیے جو ابو طالب کو مسلمان کہتا ہے، وہ خاطی ہے۔” (فتاوٰی شارح بخاری جلد دوم صفحہ 50 مکتبہ برکات المدینہ کراچی) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی
Kutubahu & Verified by:
<h2>حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب کے لیے لفظِ حضرت لکھنا کیسا ہے ؟ بسمہ تعالیٰ</h2> <strong>الجواب بعون الملک الوھّاب</strong> <strong>اللھم ھدایۃ الحق و الصواب</strong> حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب کی موت چونکہ کفر پر ہوئی اس لیے ابو طالب کو حضرت ابو طالب کہنے کی اجازت نہیں ہے ۔ چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : "آیاتِ قرآنیہ و احادیثِ صحیحہ متوافرہ متظافرہ سے ابوطالب کا کفر پر مرنا اور دم واپسیں ایمان لانے سے انکار کرنا اور عاقبت کار اصحابِ نار سے ہونا ایسے روشن ثبوت سے ثابت، جس سے کسی سنی کو مجالِ دم زدن نہیں۔" (فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 661 رضا فاؤنڈیشن لاہور) فقیہِ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : "ابوطالب کو حضرت ابو طالب کہنے کی اجازت نہیں، اس لیے کہ ان کی موت کفر پر ہوئی۔" (فتاوٰی فیض الرسول جلد 3 صفحہ 358 شبیر برادرز لاہور) شارحِ بخاری فقیہِ اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : "ابوطالب کے ایمان اور عدمِ ایمان میں اختلاف ہے۔ بعض روایاتِ ضعیفہ کی بنا پر کچھ لوگ ابوطالب کو مسلمان کہتے ہیں، اگرچہ صحیح یہی ہے کہ ابو طالب ایمان سے محروم رہے۔ اس لیے جو ابو طالب کو مسلمان کہتا ہے، وہ خاطی ہے۔" (فتاوٰی شارح بخاری جلد دوم صفحہ 50 مکتبہ برکات المدینہ کراچی) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم <strong>کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی</strong>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...