Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #21
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
10.5K Views
خطبہ جمعہ میں امام صاحب کاہاتھ میں عصا لینا
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
خطبہ جمعہ میں امام صاحب کاہاتھ میں عصا لینا
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
خطبہ جمعہ میں امام صاحب کاہاتھ میں عصا لینا
صورت مسئولہ: زید کہتا ہے کہ خطبۂ جمعہ بغیر عصا کے پڑھنا صحیح نہیں۔ (۱) کیا زید کا قول درست ہے؟ (۲) کیا بغیر عصا کے جمعہ کا خطبہ پڑھنا صحیح نہیں ہے؟ (۳) کیا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بغیر عصا کے جمعہ کا خطبہ نہیں پڑھا؟ بینوا توجروا۔ المستفتی: عابد حسین ، چہونٹیا، دیوگھر، جھارکھنڈ۔ حکم شرعی: (۱،۲) زید کا یہ قول غلط ہے۔ بغیر عصا کے خطبۂ جمعہ پڑھنا جائز اور خطبہ صحیح ودرست ہے ۔ خطبہ نام ہے ’’ذکرِ الٰہی‘‘ کا جس میں ذکرِ رسول بھی شامل ہے اور ذکر زبان سے ہوتا ہے نہ کہ عصا سے ۔ عصا سے مقصود ہوتا ہے ٹیک لگانا، سہارا لینا جو خطیب کی راحت وآرام کا ذریعہ ہے اور ذکر وعبادت کے وقت اپنی راحت وآرام کا لحاظ مناسب نہیں ۔ پھر عصا ہاتھ میں لینا اور اس پر ٹیک لگانا ذکر وعبادت کے سوا ایک دوسرے کام میں شغل بھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ فقہائے حنفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عصا لے کر خطبہ دینے کو مکروہ لکھا ہے جیسا کہ درمختار، ہندیہ، خلاصہ، محیط اور بحر وغیرہ میں اس کی صراحت ہے۔ بعض عبارات یہ ہیں ۔ ٭ وفی الخلاصۃ: ویکرہ ان یتکی علی قوسٍ أو عصا۔ اھ (باب الجمعۃ) امام صاحب کاہاتھ میں عصا ٭واذا اخطب متکئاً علی القوس أو علی العصا جاز الا أنہ یکرہ لانہ خلاف السنۃ ۔ اھ (الفتاویٰ، التتار خانیۃ ص ۶۱، ج۲) ٭ ویکرہ أن یخطب متکئاً علیٰ قوسٍ أو عصا کذا فی الخلاصۃ وہکذا فی المحیط۔ اھ (ص ۱۴۸،ج۱) ان عبارات میں واضح طور پر خطبے میں عصا پر ٹیک لگانے کو مکروہ لکھا ہے جس کی وجہ سے فتاویٰ تتار خانیہ میں یہ بتایا کہ یہ خلافِ سنت ہے اور عقلاً اس کی وجہ ظاہر ہے کہ ذکر وعبادت کی حالت میںغیر ذکر وغیر عبادت میں ایک طرح کا اشتغال ہے ۔ ہاں یہ کراہت تحریمی نہیں جس کا مفاد عدمِ جواز وگناہ ہوتا ہے بلکہ کراہتِ تنزیہی ہے جس کا مفاد یہ ہے کہ ایسا کرنا مناسب نہیں اس سے بچنا چاہیے ۔ مگر اس کے برخلاف یہ کہنا کہ ’’بغیر عصا کے خطبہ صحیح نہیں‘‘ شریعت طاہرہ پر سخت جرأت اور اپنی طرف سے بے جا فتویٰ جاری کرنا ہے جو گناہ ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ (۳) حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے زیادہ تر بغیر عصا کے ہی خطبہ پڑھا ہے۔ ایک حدیث حضرت حکم بن حزن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے جس میں عصا یا قوس پر ٹیک لگا کر خطبہ دینے کا ذکر ہے مگر یہ ایک بار کا واقعہ ہے جو مفید عموم نہیں ۔ اور ہوسکتا ہے کہ یہ عذر کی وجہ سے ہو یا بیانِ جواز کے لیے آپ نے ایسا کیا ہو ۔ محیط میں ایک مقام پر عصا لینے کو سنت اور دوسرے مقام پر مکروہ لکھا ہے اور اس میں اس بے مایہ راقم الحروف کے نزدیک تو فیق یوں ممکن ہے کہ عذر ہوتو جائز جس کا ثبوت سنتِ مذکورہ سے ہے اورعذر نہ ہو تو مکروہ تنزیہی ، غیر مناسب ۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے:خطبے میں عصا ہاتھ میں لینا بعض علما نے سنت لکھا اور بعض نے مکروہ ۔ اور ظاہر ہے کہ اگر سنت بھی ہوتو کوئی سنت مؤکدہ نہیں تو بنظر اختلاف اس سے بچنا ہی بہتر ہے مگر جب کوئی عذر ہو۔ وذلک لان الفعل اذا تردد بین السنۃ والکراہۃ کان ترکہ اولیٰ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ وہ اس لیے کہ سنت اور مکروہ ہونے میں شک ہوتو اس کا ترک بہتر ہوتا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ (ت) (فتاویٰ رضویہ ج۸، کتاب الصلوٰۃ مترجم) درمختار میںہے: وفی الحاوی القدسی:اذا فرغ الموذن قام الامام والسیف فی یسارہ وہو متکی علیہ وفی الخلاصۃ: ویکرہ أن یتکی علی قوس او عصا اھ ( ص ۴۱، ج۳، باب الجمعۃ) ۔ رد المحتار میں ہے: قولہ: (وفی الخلاصۃ الخ) استشکلہ فی الحلیۃ بأنہ فی روایۃ ابٔی داؤد ’’انہ صلی اللہ علیہ وسلم قام: أی فی الخطبۃ متوکئا علی عصا أو قوس ‘‘ اھ۔ ونقل القہستانی عن عید المحیط أن اخذ العصا سنۃ کالقیام اھ (ص ۴۱،ج۳، باب الجمعۃ) ۔ ان عبارات پر فقیہ عبقری اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمۃ والرضوان نے جوتنقیحی نوٹ لگایا ہے اس سے اس مسئلے کی حقیقت واشگاف ہوکر سامنے آجاتی ہے ۔ آپ تعلیقات رد المحتار میں رقم طراز ہیں:(قولہ) استشکلہ فی الحلیۃ الخ ۔ ذکر کلام الخلاصۃ ثم قال قلت وہو مشکل بما اخرج ابوداؤد عن الحکم بن حزن الکلفی فذکر الحدیث ثم قال وعن البراء بن عدان أن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تناول قوسا فخطب علیہ وصحھہ ابن السکن ۔ ۲ا (قولہ) أنہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قام الخ (اقول) لفظ الحدیث عن الحکم بن حزن الکلفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال أقتنابہا (ای بالمدینۃ الطیبۃ) أیاما شہدنا فیہا الجمعۃ مع رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقام متوکئا علی عصا أوقوس اھ۔ ۔ فلا دلالۃ فیہ الاعلی وقوعہ مرۃ وواقعۃ عین لاتعم۔ فکربما تکون لعذر أو لبیان الجواز۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔۱۲ (قولہ) ونقل القہستانی بعد أن نقل عن جمعتہ کراہۃ فقد اضطرب کلام المحیط ۱۲۔ (جد الممتار ص۳۷۸، ج۱، کتاب الصلوٰۃ) ان عبارات سے یہ امر عیاں ہوگیا کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عام حالات میں برابر بغیر عصا کے خطبہ دیا ہے لہٰذا یہی مسنون ہے اور اسی پر عمل وفتویٰ۔ زید اپنے قول سے رجوع وتوبہ کرے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم کتبہ : محقق مسائل جدیدہ حضرت علامہ مفتی نظام الدین صدر شعبہ افتا جامعہ اشرفیہ مبارک پورسماجی کام کرنے والے غیرمسلم ادارے میں کام کرنا کیسا
دوران حج وعمرہ تلبیہ نہ پڑھنے والے کا حکم
Kutubahu & Verified by:
<h2>خطبہ جمعہ میں امام صاحب کاہاتھ میں عصا لینا</h2> <strong>صورت مسئولہ</strong>: زید کہتا ہے کہ خطبۂ جمعہ بغیر عصا کے پڑھنا صحیح نہیں۔ (۱) کیا زید کا قول درست ہے؟ (۲) کیا بغیر عصا کے جمعہ کا خطبہ پڑھنا صحیح نہیں ہے؟ (۳) کیا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بغیر عصا کے جمعہ کا خطبہ نہیں پڑھا؟ بینوا توجروا۔ المستفتی: عابد حسین ، چہونٹیا، دیوگھر، جھارکھنڈ۔ <strong>حکم شرعی:</strong> (۱،۲) زید کا یہ قول غلط ہے۔ بغیر عصا کے خطبۂ جمعہ پڑھنا جائز اور خطبہ صحیح ودرست ہے ۔ خطبہ نام ہے ’’ذکرِ الٰہی‘‘ کا جس میں ذکرِ رسول بھی شامل ہے اور ذکر زبان سے ہوتا ہے نہ کہ عصا سے ۔ عصا سے مقصود ہوتا ہے ٹیک لگانا، سہارا لینا جو خطیب کی راحت وآرام کا ذریعہ ہے اور ذکر وعبادت کے وقت اپنی راحت وآرام کا لحاظ مناسب نہیں ۔ پھر عصا ہاتھ میں لینا اور اس پر ٹیک لگانا ذکر وعبادت کے سوا ایک دوسرے کام میں شغل بھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ فقہائے حنفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عصا لے کر خطبہ دینے کو مکروہ لکھا ہے جیسا کہ درمختار، ہندیہ، خلاصہ، محیط اور بحر وغیرہ میں اس کی صراحت ہے۔ بعض عبارات یہ ہیں ۔ ٭ وفی الخلاصۃ: ویکرہ ان یتکی علی قوسٍ أو عصا۔ اھ (باب الجمعۃ) امام صاحب کاہاتھ میں عصا ٭واذا اخطب متکئاً علی القوس أو علی العصا جاز الا أنہ یکرہ لانہ خلاف السنۃ ۔ اھ (الفتاویٰ، التتار خانیۃ ص ۶۱، ج۲) ٭ ویکرہ أن یخطب متکئاً علیٰ قوسٍ أو عصا کذا فی الخلاصۃ وہکذا فی المحیط۔ اھ (ص ۱۴۸،ج۱) ان عبارات میں واضح طور پر خطبے میں عصا پر ٹیک لگانے کو مکروہ لکھا ہے جس کی وجہ سے فتاویٰ تتار خانیہ میں یہ بتایا کہ یہ خلافِ سنت ہے اور عقلاً اس کی وجہ ظاہر ہے کہ ذکر وعبادت کی حالت میںغیر ذکر وغیر عبادت میں ایک طرح کا اشتغال ہے ۔ ہاں یہ کراہت تحریمی نہیں جس کا مفاد عدمِ جواز وگناہ ہوتا ہے بلکہ کراہتِ تنزیہی ہے جس کا مفاد یہ ہے کہ ایسا کرنا مناسب نہیں اس سے بچنا چاہیے ۔ مگر اس کے برخلاف یہ کہنا کہ ’’بغیر عصا کے خطبہ صحیح نہیں‘‘ شریعت طاہرہ پر سخت جرأت اور اپنی طرف سے بے جا فتویٰ جاری کرنا ہے جو گناہ ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ (۳) حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے زیادہ تر بغیر عصا کے ہی خطبہ پڑھا ہے۔ ایک حدیث حضرت حکم بن حزن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے جس میں عصا یا قوس پر ٹیک لگا کر خطبہ دینے کا ذکر ہے مگر یہ ایک بار کا واقعہ ہے جو مفید عموم نہیں ۔ اور ہوسکتا ہے کہ یہ عذر کی وجہ سے ہو یا بیانِ جواز کے لیے آپ نے ایسا کیا ہو ۔ محیط میں ایک مقام پر عصا لینے کو سنت اور دوسرے مقام پر مکروہ لکھا ہے اور اس میں اس بے مایہ راقم الحروف کے نزدیک تو فیق یوں ممکن ہے کہ عذر ہوتو جائز جس کا ثبوت سنتِ مذکورہ سے ہے اورعذر نہ ہو تو مکروہ تنزیہی ، غیر مناسب ۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے:خطبے میں عصا ہاتھ میں لینا بعض علما نے سنت لکھا اور بعض نے مکروہ ۔ اور ظاہر ہے کہ اگر سنت بھی ہوتو کوئی سنت مؤکدہ نہیں تو بنظر اختلاف اس سے بچنا ہی بہتر ہے مگر جب کوئی عذر ہو۔ وذلک لان الفعل اذا تردد بین السنۃ والکراہۃ کان ترکہ اولیٰ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ وہ اس لیے کہ سنت اور مکروہ ہونے میں شک ہوتو اس کا ترک بہتر ہوتا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ (ت) (فتاویٰ رضویہ ج۸، کتاب الصلوٰۃ مترجم) درمختار میںہے: وفی الحاوی القدسی:اذا فرغ الموذن قام الامام والسیف فی یسارہ وہو متکی علیہ وفی الخلاصۃ: ویکرہ أن یتکی علی قوس او عصا اھ ( ص ۴۱، ج۳، باب الجمعۃ) ۔ رد المحتار میں ہے: قولہ: (وفی الخلاصۃ الخ) استشکلہ فی الحلیۃ بأنہ فی روایۃ ابٔی داؤد ’’انہ صلی اللہ علیہ وسلم قام: أی فی الخطبۃ متوکئا علی عصا أو قوس ‘‘ اھ۔ ونقل القہستانی عن عید المحیط أن اخذ العصا سنۃ کالقیام اھ (ص ۴۱،ج۳، باب الجمعۃ) ۔ ان عبارات پر فقیہ عبقری اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمۃ والرضوان نے جوتنقیحی نوٹ لگایا ہے اس سے اس مسئلے کی حقیقت واشگاف ہوکر سامنے آجاتی ہے ۔ آپ تعلیقات رد المحتار میں رقم طراز ہیں:(قولہ) استشکلہ فی الحلیۃ الخ ۔ ذکر کلام الخلاصۃ ثم قال قلت وہو مشکل بما اخرج ابوداؤد عن الحکم بن حزن الکلفی فذکر الحدیث ثم قال وعن البراء بن عدان أن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تناول قوسا فخطب علیہ وصحھہ ابن السکن ۔ ۲ا (قولہ) أنہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قام الخ (اقول) لفظ الحدیث عن الحکم بن حزن الکلفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال أقتنابہا (ای بالمدینۃ الطیبۃ) أیاما شہدنا فیہا الجمعۃ مع رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقام متوکئا علی عصا أوقوس اھ۔ ۔ فلا دلالۃ فیہ الاعلی وقوعہ مرۃ وواقعۃ عین لاتعم۔ فکربما تکون لعذر أو لبیان الجواز۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔۱۲ (قولہ) ونقل القہستانی بعد أن نقل عن جمعتہ کراہۃ فقد اضطرب کلام المحیط ۱۲۔ (جد الممتار ص۳۷۸، ج۱، کتاب الصلوٰۃ) ان عبارات سے یہ امر عیاں ہوگیا کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عام حالات میں برابر بغیر عصا کے خطبہ دیا ہے لہٰذا یہی مسنون ہے اور اسی پر عمل وفتویٰ۔ زید اپنے قول سے رجوع وتوبہ کرے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم کتبہ : محقق مسائل جدیدہ حضرت علامہ مفتی نظام الدین صدر شعبہ افتا جامعہ اشرفیہ مبارک پور <h4><a href="https://urdu.masailworld.com/%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d8%ba%db%8c%d8%b1%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9/" rel="bookmark">سماجی کام کرنے والے غیرمسلم ادارے میں کام کرنا کیسا</a></h4> <h4><a href="https://urdu.masailworld.com/%d8%af%d9%88%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%ad%d8%ac-%d9%88%d8%b9%d9%85%d8%b1%db%81-%d8%aa%d9%84%d8%a8%db%8c%db%81-%d9%86%db%81-%d9%be%da%91%da%be%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%da%a9/" rel="bookmark">دوران حج وعمرہ تلبیہ نہ پڑھنے والے کا حکم</a></h4>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...