Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

خطبہ کی اذان کا جواب دینا کیسا ہے

خطبہ کی اذان کا جواب دینا کیسا ہے
Reference 555 September 18, 2025 8,552 views
اصل سوالخطبہ کی اذان کا جواب دینا کیسا ہے

خطبہ کی اذان کا جواب نہ چاہئے

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته کیا فرماتے ہیں علمائے کرام جمعہ کے دن خطبہ کی اذان کا جواب کیوں نہیں دیا جاتا مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں نوازش ہو گی۔ المستفتی:قاری ذالقدر رضا اویسی نصرت پور فرخ آباد یوپی وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔ مقتدیوں کو خطبہ کی اذان کا جواب ہرگز نہیں چاہئے یہی احوط ہے اسلئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنھم امام کے خطبہ کے لئے نکلنے کے بعد نماز و کلام کو مکروہ سمجھتے تھے ۔ ردالمحتار میں ہے “ﻭﺃﺧﺮﺝ اﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺷﻴﺒﺔ ﻓﻲ ﻣﺼﻨﻔﻪ ﻋﻦ ﻋﻠﻲ ﻭاﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻭاﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻋﻨﻬﻢ ﻛﺎﻧﻮا ﻳﻜﺮﻫﻮﻥ اﻟﺼﻼﺓ ﻭاﻟﻜﻼﻡ ﺑﻌﺪ ﺧﺮﻭﺝ اﻹﻣﺎﻡ واﻟﺤﺎﺻﻞ ﺃﻥ ﻗﻮﻝ اﻟﺼﺤﺎﺑﻲ ﺣﺠﺔ ﻳﺠﺐ ﺗﻘﻠﻴﺪﻩ ﻋﻨﺪﻧﺎ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﻨﻔﻪ شیء ﺁﺧﺮ ﻣﻦ اﻟﺴﻨﺔ” (ج٣،ص٣٨) ہاں اگر اذان کا جواب اوراسی طرح دونوں خطبوں کے درمیان دعا دل میں کرے تو کوئی حرج نہیں اور اگر امام زبان سے جواب دے یا دعا کرے تو جائز ہے ۔ در مختار میں ہے”اذا خرج الامام من الھجرۃ ان کان والا فقیامہ للصعود فلا صلوۃ ولا کلام الی تمامھا”(ردالمحتار،ج٣،ص٣٨) نیز ردالمحتار میں ہے “اجابۃ الاذان حینئذ مکروہۃ” یعنی اذان کا جواب اس وقت مکروہ ہے۔ (ج٣،ص٤١) در مختار میں ہے “و ینبغی ان لا یجیب بلسانہ اتفاقا فی الاذان بین یدی الخطیب” یعنی اس بارے میں اتفاق ہے کہ خطیب کے سامنے والی اذان کا جواب(مقتدی کو) زبان سے نہیں دینا چاہئے ۔ (ردالمحتار،ج١،ص٨٧) فتاوی رضویہ میں اسی کے مثل سوال کے جواب میں ہے “ہرگز نہ چاہئے یہی احوط ہے” (ج٨، ص٣٠٠) واللہ تعالی اعلم کتبـــــــــہ : مفتی شان محمد المصباحی القادری ٣ نومبر ٢٠٢١

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.