01
The questionSawaal
اصل سوالداڑھی منڈانا گناہ صغیرہ مگراس پر اصرار گناہ کبیرہ
02
The responseAl-Jawab
داڑھی منڈانا گناہ صغیرہ مگراس پر اصرار گناہ کبیرہ ہے ۔
صورت مسئولہ: داڑھی رکھنے یانہ رکھنے پربحث چل رہی تھی ۔ اس پرداڑھی کے متعلق ایک صاحب کا کہنا ہے کہ داڑھی رکھناسنت ہے ۔ لیکن یہ دین کے مسلمات میں سے نہیں ہے ۔ جس نے رکھی اسے ثواب ملے گا،جس نے نہیں رکھی اس پرگناہ نہیں ۔ اس بات پرانہیں قرآن واحادیث صحیحہ سے داڑھی کے واجب ہونے کوثابت کرکے دکھایا گیا ۔ اب صاحب کاکہناہے کہ داڑھی منڈانااگرچہ گناہ ہے لیکن یہ گناہ کبیرہ نہیں ہے ۔ اگرگناہ کبیرہ ہے تو قرآن وحدیث سے ثابت کریں ۔براے کرم رہنمائی فرمائیں ۔ المستفتی:بذریعہ واٹس ایپ حکم شرعی: داڑھی منڈانا گناہ صغیرہ مگراس پر اصرار گناہ کبیرہ داڑھی منڈاناگناہ صغیرہ ہے اوراس پر اصرارگناہ کبیرہ ۔ تین یاتین سے زیادہ بارمنڈاناگناہ پر اصرار ہے ۔ گناہ کبیرہ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی ممانعت پراجماع ہو ۔ اور یہ مسئلہ اجماعی نہیں جیساکہ کتب شافعیہ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے ۔ ہاں ہمارے مذہب حنفی میں اس کی حرمت پراتفاق ہےجیساکہ فتح القدیر کی عبارت سےعیاں ہوتاہے۔فی الحال میرے ذہن میں جوبات آئی ،اسے لکھ دیا ۔ جولوگ داڑھی منڈاتے ہیں وہ ایسا نہیں کہ ایک بار منڈا کر چھوڑ دیتے ہیں بلکہ وہ اس کی عادت بنالیتے ہیں اوریہ گناہ کبیرہ ہے ۔ لاصغیرۃ مع الاصرار ۔ داڑھی کی شرعی مقدار کم سے کم ایک مشت ہے ۔ جو داڑھی ایک مشت سے کم رکھے وہ گناہ گار ہے ۔ ایک مشت سے کم داڑھی رکھنے والا فاسق معلن ہے ۔ لہذا خصخصی داڑھی رکھنے سے بچنا چاہیے کہ بار بار اس پر اصرار کرنا گناہ کبیرہ ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ مزید مطا لعہ کریں ۔۔۔حائضہ عورت کاقصیدہ بردہ شریف وغیرہ پڑھنا ۔
ذاتی زمین خریدنے کے لیے مدرسے کاپیسہ استعمال کرنا
Written by > Allama Mufti Nizamuddin Misbahi . Principal Jamia Ashrafia Mubarakpur . Utter paradesh India.
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.