Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1784 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.5K Views

دم بریدہ اور گلٹی والے جانور کی قربانی کا حکم

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

دم بریدہ اور گلٹی والے جانور کی قربانی کا حکم

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

دم بریدہ اور گلٹی والے جانور کی قربانی کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ بخیر ہیں حضور ایک بھینس ہے جسکی پونچھ کٹی ہوئی ہے پوری نہیں بلکہ جہاں سے بال اگا ہوا ہے ایک بکرا ہے جسکے اگلے پاؤں کے پاس گلٹی کی طرح ہے جو قریب سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے دونوں کے قربانی کیسی ہے الجواب بعون الملک الوھاب ١ -ایسا جانور جس کی دم ایک تہائی یا اس سے زیادہ کٹی ہو اس کی قربانی جائز نہیں، اس سے کم کٹی ہے تو جائز ہے. ہدایہ میں ہے : ولا یجزیٔ مقطوعۃ الا ذن والذنب، اما الاذن فلقولہ علیہ السلام۔استشرفوا العین والا ذن ای اطلبواسلامتھما، واما الذنب فلا نہ‘عضوکامل مقصود فصار کالاذن۔(ہدایہ ص ۴۳۱ ج۴ کتاب الا ضحیۃ) اسی میں ہے : وما الذنب فلانہ عضو کامل مقصود فصارکالاذن۔(ص۴۳۱ج۴ ایضاً) بہار شریعت میں قربانی کے لیے نااہل جانوروں کو شمار کراتے ہوئے حضور صدرالشریعہ فرماتے ہیں : کان،دُم یاچَکّی ایک تہائی سے زیادہ کٹے ہوئے ہوں ناک کٹی ہوئی ہو (بہارِ شریعت ج۳ص٣٤٣ ) واللہ اعلم بالصواب ٢ -ایسی چھوٹی گلٹی جس کی وجہ سے عرف میں جانور کو عیب دار نہ مانا جائے اس کی قربانی جائز ہے. فتاوی ہندیہ میں ہے : یجوز العاجزة عن الولادة لکبر سنہا والتي بہا کيّ، والتی لاینزل لہا لبن من غیر علة. (الفتاوى الهندية زکریا قدیم ٥/ ٢٩٧) اسی میں ہے : کل عیب یزیل المنفعة علی الکمال أو الجمال علی الکمال یمنع الأضحیة وما لا یکون بہذہ الصفة لایمنع.(الفتاوى الهندية، کتاب الأضحیة، الباب الخامس، زکریا قدیم ٥/ ٢٩٩) بہار شریعت میں ہے : قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہوناچاہیے اور تھوڑا سا عیب ہوتو قربانی ہو جائےگی ،مگر مکروہ ہوگی ۔“ ( بھار شریعت٣/ ٣٤٠،مکتبۃ المدینہ، کراچی) واللہ اعلم بالصواب کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی ٢٦ ذوالقعدہ ١٤٤٣ / ٢٥ جون ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

Kutubahu & Verified by:

<h2>دم بریدہ اور گلٹی والے جانور کی قربانی کا حکم</h2> السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ بخیر ہیں حضور ایک بھینس ہے جسکی پونچھ کٹی ہوئی ہے پوری نہیں بلکہ جہاں سے بال اگا ہوا ہے ایک بکرا ہے جسکے اگلے پاؤں کے پاس گلٹی کی طرح ہے جو قریب سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے دونوں کے قربانی کیسی ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> ١ -ایسا جانور جس کی دم ایک تہائی یا اس سے زیادہ کٹی ہو اس کی قربانی جائز نہیں، اس سے کم کٹی ہے تو جائز ہے. ہدایہ میں ہے : ولا یجزیٔ مقطوعۃ الا ذن والذنب، اما الاذن فلقولہ علیہ السلام۔استشرفوا العین والا ذن ای اطلبواسلامتھما، واما الذنب فلا نہ‘عضوکامل مقصود فصار کالاذن۔(ہدایہ ص ۴۳۱ ج۴ کتاب الا ضحیۃ) اسی میں ہے : وما الذنب فلانہ عضو کامل مقصود فصارکالاذن۔(ص۴۳۱ج۴ ایضاً) بہار شریعت میں قربانی کے لیے نااہل جانوروں کو شمار کراتے ہوئے حضور صدرالشریعہ فرماتے ہیں : کان،دُم یاچَکّی ایک تہائی سے زیادہ کٹے ہوئے ہوں ناک کٹی ہوئی ہو (بہارِ شریعت ج۳ص٣٤٣ ) واللہ اعلم بالصواب ٢ -ایسی چھوٹی گلٹی جس کی وجہ سے عرف میں جانور کو عیب دار نہ مانا جائے اس کی قربانی جائز ہے. فتاوی ہندیہ میں ہے : یجوز العاجزة عن الولادة لکبر سنہا والتي بہا کيّ، والتی لاینزل لہا لبن من غیر علة. (الفتاوى الهندية زکریا قدیم ٥/ ٢٩٧) اسی میں ہے : کل عیب یزیل المنفعة علی الکمال أو الجمال علی الکمال یمنع الأضحیة وما لا یکون بہذہ الصفة لایمنع.(الفتاوى الهندية، کتاب الأضحیة، الباب الخامس، زکریا قدیم ٥/ ٢٩٩) بہار شریعت میں ہے : قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہوناچاہیے اور تھوڑا سا عیب ہوتو قربانی ہو جائےگی ،مگر مکروہ ہوگی ۔“ ( بھار شریعت٣/ ٣٤٠،مکتبۃ المدینہ، کراچی) واللہ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٦ ذوالقعدہ ١٤٤٣ / ٢٥ جون ٢٠٢٢</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...