Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1728
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
9K Views
دو معتبر گواہ طلاق کی گواہی دیں تو قٙسٙم کے ساتھ شوہر کاطلاق سے انکار غیر معتبر ہے
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
دو معتبر گواہ طلاق کی گواہی دیں تو قٙسٙم کے ساتھ شوہر کاطلاق سے انکار غیر معتبر ہے
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
دو معتبر گواہ طلاق کی گواہی دیں تو قٙسٙم کے ساتھ شوہر کاطلاق سے انکار غیر معتبر ہے
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید کہتا ہے۔ بکر نے ہندہ کو طلاق دی ہے اور طلاق دیتے ہوئے چار پانچ حضرات نے اپنے کانوں سے سنا ہے اور بکر کا کہنا ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی ہے زید کہتا ہے بکر نے طلاق دی ہے تو بکر نے مسجد میں جا کر قرآن مجید کو اپنے سر پر اٹھاکر قسم کھائی ہے میں نے طلاق نہیں دی ہے اور ہندہ کا بھی یہی کہنا ہے مجھے طلاق نہیں دی ہےتو عرض یہ ہے طلاق ہوگی یا نہیں؟ زید کا کہنا صحیح ہے یا بکر کا؟ اسکا جواب تفصیل سے عنایت فرمایئں مہربانی ہوگی ۔ سائل محمد واصف القادری پلیا کلاں کھیری لکھیم پور ۔ الجوابــــــــــــــــــــــ زید اور ان چار پانچ حضرات میں اگر دو ایسے گواہ ہوں جن کی گواہی نظرِ شرع میں قابلِ قبول ہو اور جو اس کی گواہی دیں کہ بکر نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے تو ان کی گواہی سے بکر کی بیوی کو طلاق دینا ثابت ہوجائے گا اور زید کا مسجد میں جاکر قرآن پاک سر پر اٹھا کر قسم کھاکر طلاق دینے سے انکار کرنا کچھ فائدہ مند نہ ہوگا۔ یوں ہی اس کی بیوی کا طلاق سے انکار بالکل نہ سنا جائے گا اور اگر ان لوگوں میں دو قابلِ قبول گواہ نہیں تو قسم کے ساتھ زید کا انکار معتبر ہوگا۔ حدیث شریف میں ہے: “البینة علی المدعی والیمین علی من انکر”۔ صدر الشریعہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “ان کے علاوہ دیگر معاملات میں دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی معتبر ہے جس حق کی شہادت دی گئی ہو وہ مال ہو یا غیر مال مثلاً نکاح، طلاق، عتاق، وکالت کہ یہ مال نہیں۔” (بہار شریعت ح١٢ص٩۴١) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢٣/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٢۵/اپریل ٢٠٢٢ء
Kutubahu & Verified by:
<h2>دو معتبر گواہ طلاق کی گواہی دیں تو قٙسٙم کے ساتھ شوہر کاطلاق سے انکار غیر معتبر ہے</h2> السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید کہتا ہے۔ بکر نے ہندہ کو طلاق دی ہے اور طلاق دیتے ہوئے چار پانچ حضرات نے اپنے کانوں سے سنا ہے اور بکر کا کہنا ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی ہے زید کہتا ہے بکر نے طلاق دی ہے تو بکر نے مسجد میں جا کر قرآن مجید کو اپنے سر پر اٹھاکر قسم کھائی ہے میں نے طلاق نہیں دی ہے اور ہندہ کا بھی یہی کہنا ہے مجھے طلاق نہیں دی ہےتو عرض یہ ہے طلاق ہوگی یا نہیں؟ زید کا کہنا صحیح ہے یا بکر کا؟ اسکا جواب تفصیل سے عنایت فرمایئں مہربانی ہوگی ۔ سائل محمد واصف القادری پلیا کلاں کھیری لکھیم پور ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــ</strong></span> زید اور ان چار پانچ حضرات میں اگر دو ایسے گواہ ہوں جن کی گواہی نظرِ شرع میں قابلِ قبول ہو اور جو اس کی گواہی دیں کہ بکر نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے تو ان کی گواہی سے بکر کی بیوی کو طلاق دینا ثابت ہوجائے گا اور زید کا مسجد میں جاکر قرآن پاک سر پر اٹھا کر قسم کھاکر طلاق دینے سے انکار کرنا کچھ فائدہ مند نہ ہوگا۔ یوں ہی اس کی بیوی کا طلاق سے انکار بالکل نہ سنا جائے گا اور اگر ان لوگوں میں دو قابلِ قبول گواہ نہیں تو قسم کے ساتھ زید کا انکار معتبر ہوگا۔ حدیث شریف میں ہے: "البینة علی المدعی والیمین علی من انکر"۔ صدر الشریعہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "ان کے علاوہ دیگر معاملات میں دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی معتبر ہے جس حق کی شہادت دی گئی ہو وہ مال ہو یا غیر مال مثلاً نکاح، طلاق، عتاق، وکالت کہ یہ مال نہیں۔" (بہار شریعت ح١٢ص٩۴١) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٣/رمضان المبارک</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١۴۴٣ھ// ٢۵/اپریل ٢٠٢٢ء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...