Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1968
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
11.9K Views
دیوبندی و وہابی کا صف میں گھسنا کیسا ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
دیوبندی و وہابی کا صف میں گھسنا کیسا ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
دیوبندی و وہابی کا صف میں گھسنا کیسا ہے؟
اگر دیوبندی صف میں کھڑا ہو تو اس سے نماز میں کوئی خلل واقع ہوگی یا نہیں جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔؟ المستفتی محمد شاہ رخ رضا قادری ضلع رامپور یوپی سوار الجوابـــــــــــــــ بعون الملک الوہاب جی ہاں بالکل خلل واقع ہوگا سنیوں کو لازم ہے کہ اپنی مساجد میں اعلان کر دیں کہ کوئی غیر مذہب ہماری صفوں میں نہ گھسے ۔ جیساکہ فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی محمد جلال الدین احمد امجدی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں وہابی دیوبندی اپنے کفریہ قطعیہ کی بنا پربمطابق حسام الحرمین مسلمان نہیں ، ان کی نماز شرعا نماز نہیں لہذا دیوبندی وہابی کھڑے ہوں گے تو یقینا صف منقطع ہوگی اور انقطاع صف ناجاٸز ہے توایسی صورت میں ضرور خلل واقع ہوگا لہذا وہاں کے سنیوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی مسجدوں میں اعلان کر دیں کہ کوئی وہابی دیوبندی ہماری صفوں میں نہ گھسےبلکہ مسجدوں میں نہ آنےدیں کہ وہ موذی ہے اور ہر موذی کو مسجد میں آنے سے روکنا لازم ہے ،درمختار میں ہے ، (یمنع منه کل موذ ولوبلسانه ملخصاً) یعنی ایذا دینے والے کو مسجد میں آنے سے روکا جائے اگرچہ وہ صرف زبان ہی سے ایذا دیتا ہو، تو اللہﷻ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والوں سے بڑھ کر موذی کون ہوگا لہذا ان کو مسجد میں آنے سے روکا جائے اور آجائیں تو باہر کر دیا جائے اور اگر باہر کرنے میں فتنہ ہوگا اور سنی فتنہ کا مقابلہ کرسکتے ہیں تو اس صورت میں بھی ان کو باہر کرنا لازم ہے ہاں اگر فتنہ کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو باہر کرنا لازم نہیں لیکن اگر فتنہ کا بہانہ ہے اور سستی و غفلت و لاپرواہی ہے تو وہابی دیوبندی سنیوں کی مسجد میں آتے ہیں اور صفوں میں گھستےہیں وہ اس محلہ کے سب سنی گناہگار ہوں گے۔ (فتاوی فیض الرسول،جلد اول صفحہ٣٤٥،مکتبہ شبیر برادرز)) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبــــــــہ :محمّـد عبیـداللہ حنفی رضوی بریلوی مؤرخہ:(۱۳) جمادی الاول ١٤٤١ھ بروز؛منگل
Kutubahu & Verified by:
<h3>دیوبندی و وہابی کا صف میں گھسنا کیسا ہے؟</h3> اگر دیوبندی صف میں کھڑا ہو تو اس سے نماز میں کوئی خلل واقع ہوگی یا نہیں جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔؟ المستفتی محمد شاہ رخ رضا قادری ضلع رامپور یوپی سوار <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــ بعون الملک الوہاب</strong></span> جی ہاں بالکل خلل واقع ہوگا سنیوں کو لازم ہے کہ اپنی مساجد میں اعلان کر دیں کہ کوئی غیر مذہب ہماری صفوں میں نہ گھسے ۔ جیساکہ فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی محمد جلال الدین احمد امجدی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں وہابی دیوبندی اپنے کفریہ قطعیہ کی بنا پربمطابق حسام الحرمین مسلمان نہیں ، ان کی نماز شرعا نماز نہیں لہذا دیوبندی وہابی کھڑے ہوں گے تو یقینا صف منقطع ہوگی اور انقطاع صف ناجاٸز ہے توایسی صورت میں ضرور خلل واقع ہوگا لہذا وہاں کے سنیوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی مسجدوں میں اعلان کر دیں کہ کوئی وہابی دیوبندی ہماری صفوں میں نہ گھسےبلکہ مسجدوں میں نہ آنےدیں کہ وہ موذی ہے اور ہر موذی کو مسجد میں آنے سے روکنا لازم ہے ،درمختار میں ہے ، (یمنع منه کل موذ ولوبلسانه ملخصاً) یعنی ایذا دینے والے کو مسجد میں آنے سے روکا جائے اگرچہ وہ صرف زبان ہی سے ایذا دیتا ہو، تو اللہﷻ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والوں سے بڑھ کر موذی کون ہوگا لہذا ان کو مسجد میں آنے سے روکا جائے اور آجائیں تو باہر کر دیا جائے اور اگر باہر کرنے میں فتنہ ہوگا اور سنی فتنہ کا مقابلہ کرسکتے ہیں تو اس صورت میں بھی ان کو باہر کرنا لازم ہے ہاں اگر فتنہ کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو باہر کرنا لازم نہیں لیکن اگر فتنہ کا بہانہ ہے اور سستی و غفلت و لاپرواہی ہے تو وہابی دیوبندی سنیوں کی مسجد میں آتے ہیں اور صفوں میں گھستےہیں وہ اس محلہ کے سب سنی گناہگار ہوں گے۔ (فتاوی فیض الرسول،جلد اول صفحہ٣٤٥،مکتبہ شبیر برادرز)) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب <strong>کتبــــــــہ :محمّـد عبیـداللہ حنفی رضوی بریلوی </strong> <strong>مؤرخہ:(۱۳) جمادی الاول ١٤٤١ھ بروز؛منگل</strong>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...