Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #967
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8.2K Views
راستے میں پڑی رقم یا چیزوں کا حکم / پائے ہوئے سامان کو کیا کرنا چاہیئے
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
راستے میں پڑی رقم یا چیزوں کا حکم / پائے ہوئے سامان کو کیا کرنا چاہیئے
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
راستے میں پڑی رقم یا چیزوں کا حکم
راستے میں رقم یا کوئی اور قیمتی وغیرہ چیز مل جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ سائل : محمد انس رضا و محمد عمران رضا مبارکپور یوپی الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب راستے میں پڑی ہوئی رقم اور چیز ، ” لقطہ “ کے حکم میں ہوتی ہے ۔ اس کا تفصیلی حکم یہ ہے کہ جس شخص کو ایسی رقم / چیز ملے تو اس رقم / چیز کی حتی الوسع تشہیر کرے ۔ اگر تشہیر کے باوجود مالک کا پتا نہ لگے تو اس کو محفوظ رکھے، تاکہ مالک کے آجانے کی صورت میں مشکل پیش نہ آئے ۔ اور (حتی الوسع تشہیر کے ذرائع استعمال کرنے کے باوجود اگر مالک ملنے سے مایوسی ہوجائے تو) یہ صورت بھی جائز ہے کہ مالک ہی کی طرف سے مذکورہ رقم / چیز کسی فقیر کو صدقہ کردے ۔ اور اگر خود زکاۃ کا مستحق ہے تو خود بھی استعمال کرسکتاہے ۔ البتہ صدقہ کرنے یاخود استعمال کرنے کے بعد مالک آجاتا ہے تواسے اپنی رقم / چیز کے مطالبے کا اختیار حاصل ہوگا ۔ “وللملتقط أَن ينْتَفع باللقطة بعد التَّعْرِيف لَو فَقِيراً، وَإِن غَنِياً تصدق بهَا وَلَو على أَبَوَيْهِ أَو وَلَده أَو زَوجته لَو فُقَرَاء، وَإِن كَانَت حقيرةً كالنوى وقشور الرُّمَّان والسنبل بعد الْحَصاد ينْتَفع بهَا بِدُونِ تَعْرِيف، وللمالك أَخذهَا، وَلَايجب دفع اللّقطَة إِلَى مدعيها إلاّ بِبَيِّنَة، وَيحل إِن بَين علامتها من غير جبر” ۔ عصر حاضر میں اخبارات، ریڈیو، بڑے بڑے جلسوں میں اعلان کرایا جا سکتا ہے ۔ اور اگر سال تک مالک نہ آئے تو اسے اپنے تصرف میں لا سکتا ہے ۔ اگر مالک آ جائے تو اسے وہ چیز واپس کرنی پڑے گی اگر وہ استعمال کر چکا ہو اور اصل چیز موجود نہ ہو تو اتنی قیمت ادا کر دے ۔ اور چیز جب ملے تو اس کی علامات اور نشانیاں اچھی طرح ذہن نشین کر لے یا نوٹ کر لے ۔ (ملتقي الأبحر : ١/ ٥٢٩-٥٣١) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
Kutubahu & Verified by:
<h2>راستے میں پڑی رقم یا چیزوں کا حکم</h2> راستے میں رقم یا کوئی اور قیمتی وغیرہ چیز مل جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ سائل : محمد انس رضا و محمد عمران رضا مبارکپور یوپی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</strong></span> راستے میں پڑی ہوئی رقم اور چیز ، <span style="color: #ff0000;"><strong>" لقطہ "</strong></span> کے حکم میں ہوتی ہے ۔ اس کا تفصیلی حکم یہ ہے کہ جس شخص کو ایسی رقم / چیز ملے تو اس رقم / چیز کی حتی الوسع تشہیر کرے ۔ اگر تشہیر کے باوجود مالک کا پتا نہ لگے تو اس کو محفوظ رکھے، تاکہ مالک کے آجانے کی صورت میں مشکل پیش نہ آئے ۔ اور (حتی الوسع تشہیر کے ذرائع استعمال کرنے کے باوجود اگر مالک ملنے سے مایوسی ہوجائے تو) یہ صورت بھی جائز ہے کہ مالک ہی کی طرف سے مذکورہ رقم / چیز کسی فقیر کو صدقہ کردے ۔ اور اگر خود زکاۃ کا مستحق ہے تو خود بھی استعمال کرسکتاہے ۔ البتہ صدقہ کرنے یاخود استعمال کرنے کے بعد مالک آجاتا ہے تواسے اپنی رقم / چیز کے مطالبے کا اختیار حاصل ہوگا ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>"وللملتقط أَن ينْتَفع باللقطة بعد التَّعْرِيف لَو فَقِيراً، وَإِن غَنِياً تصدق بهَا وَلَو على أَبَوَيْهِ أَو وَلَده أَو زَوجته لَو فُقَرَاء، وَإِن كَانَت حقيرةً كالنوى وقشور الرُّمَّان والسنبل بعد الْحَصاد ينْتَفع بهَا بِدُونِ تَعْرِيف، وللمالك أَخذهَا، وَلَايجب دفع اللّقطَة إِلَى مدعيها إلاّ بِبَيِّنَة، وَيحل إِن بَين علامتها من غير جبر" ۔</strong></span> عصر حاضر میں اخبارات، ریڈیو، بڑے بڑے جلسوں میں اعلان کرایا جا سکتا ہے ۔ اور اگر سال تک مالک نہ آئے تو اسے اپنے تصرف میں لا سکتا ہے ۔ اگر مالک آ جائے تو اسے وہ چیز واپس کرنی پڑے گی اگر وہ استعمال کر چکا ہو اور اصل چیز موجود نہ ہو تو اتنی قیمت ادا کر دے ۔ اور چیز جب ملے تو اس کی علامات اور نشانیاں اچھی طرح ذہن نشین کر لے یا نوٹ کر لے ۔ (ملتقي الأبحر : ١/ ٥٢٩-٥٣١) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong> خادم التدریس والافتا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...