Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1364
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
5.6K Views
رافضیوں اور شیعہ کی دعوت قبول کرنا کیسا ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
رافضیوں اور شیعہ کی دعوت قبول کرنا کیسا ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
رافضیوں اور شیعہ کی دعوت قبول کرنا کیسا ہے ؟
سوال :حضرت آپ بارگاہ میں ہے ایک مسٔلہ عرض ہے کہ رافضیوں اور شیعہ کی دعوت قبول کرنا کیسا ہے۔۔۔ اور حضرت سائل نے حوالہ بھی طلب کیا ہے۔۔۔۔ آپکی مہربانی ہوگی۔ الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب شیعہ اور اسی طرح جتنے بھی باطل فرقے ہیں مثلا قادیانی،وہابی،دیوبندی وغیرہ ان میں سے کسی فرقہ والوں کی دعوت قبول کرنا یا ان کے ساتھ نشست وبرخاست اور مودت ومحبت رکھنا قطعا جائز نہیں-سنیوں کو اس سے احتراز از حد ضروری ہے ارشاد باری تعالی ہے : “ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار( سورہ ہود آیت:۱۱۳) اس آیت کریمہ کی تفسیر میں حضرت حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی قدس سرہ العزیز رقمطراز ہیں “یہاں ظالم سے مراد کافر اور سارے گمراہ ومرتدین ہیں اور ان سے ملنے سے مراد ان سے محبت یا میل جول رکھنا”(تفسیر نور العرفان) قرآن مجید میں ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے: “واما ينسينك الشيطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمين”(سورہ انعام آیت:۶۸) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے ” قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم لا يضلونكم ولا يفتنونكم ان مرضوا فلا تعودوهم وان ماتوا فلا تشهدوهم وان لقيتموهم فلا تسلموا عليهم ولا تجالسوهم ولا تشاربوهم ولا تواكلوهم ولا تناكحوهم ولا تصلوا عليهم ولا تصلوا معهم” (سرکار اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدمذہب سے دور رہو اور انہیں اپنے قریب نہ آنے دو-کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں-کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں-اگر وہ بیمار پڑیں تو انکی عیادت نہ کرو-اگر مرجائیں تو انکے جنازے میں شریک نہ ہو،ان سے ملاقات ہو تو انہیں سلام نہ کرو-ان کے پاس نہ بیٹھو،ان کے ساتھ پانی نہ پیو،ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ،ان کے ساتھ شادی بیاہ نہ کرو،ان کے جنازے کی نماز نہ پڑھو اور نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو-) یہ حدیث مسلم،ابو داؤد،ابن ماجہ،عقیلی،اور ابن حبان کی روایات کا مجموعہ ہے۔ (انوار الحدیث ص ۱۰۳/کتب خانہ امجدیہ دہلی) فتاوی رضویہ میں ہے : “روافض کے ساتھ کھانا کھانا ان کی تقریبات سرور میں دوستانہ شریک ہونا اور جو امور ولاء ووداد ومحبت پر دلالت کریں ان سے احتراز واجتناب کی نسبت احادیث کثیرہ واقوال ائمہ وافرہ متظافرہ وارد ہیں ازاں جملہ حدیث ابن حبان وعقیلی وغیرھما کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: لا تواكلوهم ولا تشاربوهم ولا تجالسوهم، نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ نہ پانی پیو نہ ان کے ساتھ بیٹھو قرآن عظیم میں ارشاد ہوتا ہے”ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار” میل نہ کرو ظالموں کی طرف کہ تمھیں چھوئے دوزخ کی آگ اور فرماتا ہے “ولا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين” یاد آئے پر پاس نہ بیٹھو ظالموں کے- یہ بات کہ یہ نامقید فرقہ جب اہلسنت کے بعض ناواقفوں کو کھانا دیتا ہے خراب کرکے دیتا ہے اس پر کسی دلیل وبرہان عقل کے قیام کے کیا معنی یہ امور متعلق بشہادت ہیں مشہور اسی طرح ہے والعلم عند اللہ تعالی اور اس کا پتا ان کی ان حرکات سے چلتا ہے جو خاص حرم محترم مکہ معظمہ میں انکی بیباکیوں سے صادر ہوتی ہوئی سنی ہیں اور بعد اطلاع سزائیں دی جاتی ہیں فقیر جس زمانہ میں حاضر الحج تھا خدام کرام کعبہ معظمہ کی زبانی معلوم ہوا کہ ایک رافضی نے حرم مبارک میں پیشاب کیا کہ اہلسنت کے کپڑے خراب ہوں اسی زمانے میں مسموع ہوا کہ کوئی خدا ناترس معاذ اللہ حجر اسود شریف پر کوئی گندی چیز لگاگیا کہ مسلمان ایذا پائیں”(ج ۹ ص ۱۷۶/نصف اول) اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمه الله تعالى سے سوال ہوا کہ “کیا حکم ہے اہل شریعت کا اس مسئلہ میں کہ رافضیوں کی مجلس میں مسلمانوں کا جانا اور مرثیہ سننا،ان کی نیاز کی چیز لینا،خصوصا آٹھویں محرم کو جب کہ ان کے یہاں حاضری ہوتی ہے کھانا جائز ہے یا نہیں؟محرم میں بعض مسلمان ہرے رنگ کے کپڑے پہنتے ہیں اور سیاہ کپڑوں کی بابت کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا- الجواب: جانا اور مرثیہ سننا حرام ہے-ان کی نیاز کی چیز نہ لی جائے-ان کی نیاز نیاز نہیں اور وہ غالبا نجاست سے خالی نہیں ہوتی-کم ازکم ان کے ناپاک قلتین کا پانی ضرور ہوتا ہے اور وہ حاضری سخت ملعون ہے اور اس میں شرکت موجب لعنت ہے-محرم میں سیاہ اور سبز کپڑے علامت سوگ ہیں-اور سوگ حرام ہے-خصوصا سیاہ کہ شعار رافضیان لئام ہے”(احکام شریعت ص ۱۲۵/ناشر:امام احمد رضا اکیڈمی صالح نگر بریلی شریف) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر ۶/ رجب المرجب ۱۴۴۳ھ مطابق ۸/فروری ۲۰۲۲ء الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
Kutubahu & Verified by:
<h2>رافضیوں اور شیعہ کی دعوت قبول کرنا کیسا ہے ؟</h2> سوال :حضرت آپ بارگاہ میں ہے ایک مسٔلہ عرض ہے کہ رافضیوں اور شیعہ کی دعوت قبول کرنا کیسا ہے۔۔۔ اور حضرت سائل نے حوالہ بھی طلب کیا ہے۔۔۔۔ آپکی مہربانی ہوگی۔ <span style="color: #ff0000;"><strong> الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب</strong></span> شیعہ اور اسی طرح جتنے بھی باطل فرقے ہیں مثلا قادیانی،وہابی،دیوبندی وغیرہ ان میں سے کسی فرقہ والوں کی دعوت قبول کرنا یا ان کے ساتھ نشست وبرخاست اور مودت ومحبت رکھنا قطعا جائز نہیں-سنیوں کو اس سے احتراز از حد ضروری ہے ارشاد باری تعالی ہے : <span style="color: #ff0000;"><strong>"ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار( سورہ ہود آیت:۱۱۳)</strong></span> اس آیت کریمہ کی تفسیر میں حضرت حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی قدس سرہ العزیز رقمطراز ہیں "یہاں ظالم سے مراد کافر اور سارے گمراہ ومرتدین ہیں اور ان سے ملنے سے مراد ان سے محبت یا میل جول رکھنا"(تفسیر نور العرفان) قرآن مجید میں ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"واما ينسينك الشيطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمين"(سورہ انعام آیت:۶۸)</strong></span> حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>" قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم لا يضلونكم ولا يفتنونكم ان مرضوا فلا تعودوهم وان ماتوا فلا تشهدوهم وان لقيتموهم فلا تسلموا عليهم ولا تجالسوهم ولا تشاربوهم ولا تواكلوهم ولا تناكحوهم ولا تصلوا عليهم ولا تصلوا معهم"</strong></span> (سرکار اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدمذہب سے دور رہو اور انہیں اپنے قریب نہ آنے دو-کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں-کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں-اگر وہ بیمار پڑیں تو انکی عیادت نہ کرو-اگر مرجائیں تو انکے جنازے میں شریک نہ ہو،ان سے ملاقات ہو تو انہیں سلام نہ کرو-ان کے پاس نہ بیٹھو،ان کے ساتھ پانی نہ پیو،ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ،ان کے ساتھ شادی بیاہ نہ کرو،ان کے جنازے کی نماز نہ پڑھو اور نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو-) یہ حدیث مسلم،ابو داؤد،ابن ماجہ،عقیلی،اور ابن حبان کی روایات کا مجموعہ ہے۔ (انوار الحدیث ص ۱۰۳/کتب خانہ امجدیہ دہلی) فتاوی رضویہ میں ہے : "روافض کے ساتھ کھانا کھانا ان کی تقریبات سرور میں دوستانہ شریک ہونا اور جو امور ولاء ووداد ومحبت پر دلالت کریں ان سے احتراز واجتناب کی نسبت احادیث کثیرہ واقوال ائمہ وافرہ متظافرہ وارد ہیں ازاں جملہ حدیث ابن حبان وعقیلی وغیرھما کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: <span style="color: #ff0000;"><strong>لا تواكلوهم ولا تشاربوهم ولا تجالسوهم</strong></span>، نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ نہ پانی پیو نہ ان کے ساتھ بیٹھو قرآن عظیم میں ارشاد ہوتا ہے"ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار" میل نہ کرو ظالموں کی طرف کہ تمھیں چھوئے دوزخ کی آگ اور فرماتا ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>"ولا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين"</strong></span> یاد آئے پر پاس نہ بیٹھو ظالموں کے- یہ بات کہ یہ نامقید فرقہ جب اہلسنت کے بعض ناواقفوں کو کھانا دیتا ہے خراب کرکے دیتا ہے اس پر کسی دلیل وبرہان عقل کے قیام کے کیا معنی یہ امور متعلق بشہادت ہیں مشہور اسی طرح ہے والعلم عند اللہ تعالی اور اس کا پتا ان کی ان حرکات سے چلتا ہے جو خاص حرم محترم مکہ معظمہ میں انکی بیباکیوں سے صادر ہوتی ہوئی سنی ہیں اور بعد اطلاع سزائیں دی جاتی ہیں فقیر جس زمانہ میں حاضر الحج تھا خدام کرام کعبہ معظمہ کی زبانی معلوم ہوا کہ ایک رافضی نے حرم مبارک میں پیشاب کیا کہ اہلسنت کے کپڑے خراب ہوں اسی زمانے میں مسموع ہوا کہ کوئی خدا ناترس معاذ اللہ حجر اسود شریف پر کوئی گندی چیز لگاگیا کہ مسلمان ایذا پائیں"(ج ۹ ص ۱۷۶/نصف اول) اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمه الله تعالى سے سوال ہوا کہ "کیا حکم ہے اہل شریعت کا اس مسئلہ میں کہ رافضیوں کی مجلس میں مسلمانوں کا جانا اور مرثیہ سننا،ان کی نیاز کی چیز لینا،خصوصا آٹھویں محرم کو جب کہ ان کے یہاں حاضری ہوتی ہے کھانا جائز ہے یا نہیں؟محرم میں بعض مسلمان ہرے رنگ کے کپڑے پہنتے ہیں اور سیاہ کپڑوں کی بابت کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا- الجواب: جانا اور مرثیہ سننا حرام ہے-ان کی نیاز کی چیز نہ لی جائے-ان کی نیاز نیاز نہیں اور وہ غالبا نجاست سے خالی نہیں ہوتی-کم ازکم ان کے ناپاک قلتین کا پانی ضرور ہوتا ہے اور وہ حاضری سخت ملعون ہے اور اس میں شرکت موجب لعنت ہے-محرم میں سیاہ اور سبز کپڑے علامت سوگ ہیں-اور سوگ حرام ہے-خصوصا سیاہ کہ شعار رافضیان لئام ہے"(احکام شریعت ص ۱۲۵/ناشر:امام احمد رضا اکیڈمی صالح نگر بریلی شریف) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>۶/ رجب المرجب ۱۴۴۳ھ مطابق ۸/فروری ۲۰۲۲ء</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...