Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1243 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.7K Views

رافضی کا دیا ہوا سامان مسجد میں لگانا جائز نہیں

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

رافضی کا دیا ہوا سامان مسجد میں لگانا جائز نہیں

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

رافضی کا دیا ہوا سامان مسجد میں لگانا جائز نہیں

رافضی کا دیا ہوا جھومر اہل سنت والجماعت کی مسجد میں استعمال کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب مفصل اور مدلل دارالافتاءگروپ میں عنایت فرمائیں سائل :(مولانا) اکبر علی علیمی گجرات الجواب بعون اللہ الوھاب روافض زمانہ بالعموم کفار مرتدین ہیں،چناں چہ فقیہ اسلام، امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ ان کے تعلق سے فرماتے ہیں : ” رافضی تبرائی جو حضرات شیخین سیدنا ابوبکر صدیق و سیدناعمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما خواہ ان میں سے کسی ایک کی شان پاک میں گستاخی کرے اگر چہ صرف اسی قدر کہ امام و خلیفہ برحق نہ مانے کتب معتمدہ مع فقہ حنفی تصریحات عامہ ائمہ تصریح وفتوی کی تصحیحات پر مطلقا کافر ہے، فتح القدیر مطبع مصر جلداول میں ہے: فی الروافض من فضل علیا علی الثلاثة فمبتدع و ان انکر خلافۃ الصدیق او عمر رضی اللہ عنہما فھو کافر. یعنی رافضیوں میں جو شخص مولی علی کو خلفاۓ ثلثہ (سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمرفاروق، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہم سے افضل کہے گمراہ ہے اور اگر صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہما کی خلافت کا انکار کرے تو وہ کافر ہے (ردالرفضه:۲۷٢ )… بالجملہ ان رافضیوں تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی قطعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفارمرتدین ہیں ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زناہے…. ان کے مرد عورت عالم جاہل کسی سے میل جول سلام و کلام سخت کبیره اشد حرام (ردالرفضۃ:٢٣) معلوم ہوا کہ عصر حاضر کے روافض کافر مرتد ہیں اور مرتد سے کسی بھی طرح کا معاملہ ناجائز ہے. حدیث شریف میں ہے : ایاکم و ایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم إن مرضوا فلا تعودوھم و إن ماتوا فلا تشھدوھم و إن لقیتموھم فلا تسلموا ھم ولا تجالسوھم و لا تشاربوھم ولا تواکلوھم ولا تناکحو ھم ولا تصلوا علیھم و لا تصلوا معهم” (کنزالعمال حدیث ۳۲۵۲۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۵۴۰) فتاوی رضویہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں : ” معاملہ ہر کافر سے ہر وقت جائز ہے مگر مرتدین سے ” ( فتاوی رضویہ ١٤/ ٥٩٧) لہذا رافضی کا دیا ہوا جھومر مسجد میں لگانے سے ضرور احتراز چاہئے،اگر چہ وہ خود سے دے، چناں چہ فتاوی بحر العلوم میں ہے: ” دیوبندیوں وہابیوں سے مسجد و مدرسہ کے لئے چندہ مانگنا نہ چاہیۓ از خود دے تو مسجد میں لگانا نہ چاہیۓ, مدرسہ کے غریب طلبہ البتہ اس قسم کی امداد کے مستحق ہیں ان پر صرف کرنا چاہیۓ” (فتاویٰ بحرالعلوم جلد دوم صفحہ نمبر٢٢٦) فتاوی فقیہ ملت میں ہے: “اور دیوبندی و قادیانی وغیرہ کسی بد مذہب سے کوئی تعاون لینا جائز نہیں کہ ان سے کسی طرح کا تعلق دین وایمان کے لیے زہر قاتل ہے، اور مذہبی معاملہ میں ہندوؤں سے امداد لینا منع ہے. اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی عنہ ربہ القوی تحریر فرماتے ہیں کہ ہندوؤں سے مسلمان امر دین میں مدد نہ لیں، حدیث شریف میں ہے “انا لا نستعين بمشرك” اور اگر وہ خود شرکت چاہیں تو بطور چندہ شریک نہ کیا جائے (فتاوی رضویہ جلد نہم ص ٢٣٠نصف اول). (فتاوی فقیہ ملت جلد دوم ص ١٤٢باب فی المسجد) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٢٤ جمادی الآخرۃ ١٤٤٣ / ٢٢جنوری ٢٠٢٢ء الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ

Kutubahu & Verified by:

<h2>رافضی کا دیا ہوا سامان مسجد میں لگانا جائز نہیں</h2> رافضی کا دیا ہوا جھومر اہل سنت والجماعت کی مسجد میں استعمال کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب مفصل اور مدلل دارالافتاءگروپ میں عنایت فرمائیں سائل :(مولانا) اکبر علی علیمی گجرات <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون اللہ الوھاب</strong></span> روافض زمانہ بالعموم کفار مرتدین ہیں،چناں چہ فقیہ اسلام، امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ ان کے تعلق سے فرماتے ہیں : " رافضی تبرائی جو حضرات شیخین سیدنا ابوبکر صدیق و سیدناعمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما خواہ ان میں سے کسی ایک کی شان پاک میں گستاخی کرے اگر چہ صرف اسی قدر کہ امام و خلیفہ برحق نہ مانے کتب معتمدہ مع فقہ حنفی تصریحات عامہ ائمہ تصریح وفتوی کی تصحیحات پر مطلقا کافر ہے، فتح القدیر مطبع مصر جلداول میں ہے: فی الروافض من فضل علیا علی الثلاثة فمبتدع و ان انکر خلافۃ الصدیق او عمر رضی اللہ عنہما فھو کافر. یعنی رافضیوں میں جو شخص مولی علی کو خلفاۓ ثلثہ (سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمرفاروق، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہم سے افضل کہے گمراہ ہے اور اگر صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہما کی خلافت کا انکار کرے تو وہ کافر ہے (ردالرفضه:۲۷٢ )... بالجملہ ان رافضیوں تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی قطعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفارمرتدین ہیں ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زناہے.... ان کے مرد عورت عالم جاہل کسی سے میل جول سلام و کلام سخت کبیره اشد حرام (ردالرفضۃ:٢٣) معلوم ہوا کہ عصر حاضر کے روافض کافر مرتد ہیں اور مرتد سے کسی بھی طرح کا معاملہ ناجائز ہے. حدیث شریف میں ہے : <span style="color: #ff0000;"><strong>ایاکم و ایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم إن مرضوا فلا تعودوھم و إن ماتوا فلا تشھدوھم و إن لقیتموھم فلا تسلموا ھم ولا تجالسوھم و لا تشاربوھم ولا تواکلوھم ولا تناکحو ھم ولا تصلوا علیھم و لا تصلوا معهم" </strong></span> (کنزالعمال حدیث ۳۲۵۲۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۵۴۰) فتاوی رضویہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں : " معاملہ ہر کافر سے ہر وقت جائز ہے مگر مرتدین سے " ( فتاوی رضویہ ١٤/ ٥٩٧) لہذا رافضی کا دیا ہوا جھومر مسجد میں لگانے سے ضرور احتراز چاہئے،اگر چہ وہ خود سے دے، چناں چہ فتاوی بحر العلوم میں ہے: " دیوبندیوں وہابیوں سے مسجد و مدرسہ کے لئے چندہ مانگنا نہ چاہیۓ از خود دے تو مسجد میں لگانا نہ چاہیۓ, مدرسہ کے غریب طلبہ البتہ اس قسم کی امداد کے مستحق ہیں ان پر صرف کرنا چاہیۓ" (فتاویٰ بحرالعلوم جلد دوم صفحہ نمبر٢٢٦) فتاوی فقیہ ملت میں ہے: "اور دیوبندی و قادیانی وغیرہ کسی بد مذہب سے کوئی تعاون لینا جائز نہیں کہ ان سے کسی طرح کا تعلق دین وایمان کے لیے زہر قاتل ہے، اور مذہبی معاملہ میں ہندوؤں سے امداد لینا منع ہے. اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی عنہ ربہ القوی تحریر فرماتے ہیں کہ ہندوؤں سے مسلمان امر دین میں مدد نہ لیں، حدیث شریف میں ہے "انا لا نستعين بمشرك" اور اگر وہ خود شرکت چاہیں تو بطور چندہ شریک نہ کیا جائے (فتاوی رضویہ جلد نہم ص ٢٣٠نصف اول). (فتاوی فقیہ ملت جلد دوم ص ١٤٢باب فی المسجد) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٤ جمادی الآخرۃ ١٤٤٣ / ٢٢جنوری ٢٠٢٢ء</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...