Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1633 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7.3K Views

رضاعی بہن سے نکاح نہیں ہوسکتا از مفتی صدام حسین فیضی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

رضاعی بہن سے نکاح نہیں ہوسکتا از مفتی صدام حسین فیضی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

رضاعی بہن سے نکاح نہیں ہوسکتا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں (١) زید خالد کاسالا ہے اور بکر زید کا داماد ہے خالد کی بیوی نے بکر کی بیٹی کو دودھ پلایا ہے تو کیا خالد کے بیٹے سے بکر کی بیٹی کا نکاح ہوسکتا ہے ؟ (٢) دودھ پلانے کی وجہ سے خالد اور بکر میں کیا رشتہ پایا جائے گا ۔ حضور والا سے گزارش ہے اس کا جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں عنایت فرمائیں عین کرم ہوگا ۔ المستفتی دین محمد افتخاری قادری موضع کھدولی پوسٹ شنکر پور ضلع سلطان پور یوپی انڈیا۔ الجواب-بعون الملک الوھاب (١)صورت مستفسرہ میں خالد کے بیٹے سے بکر کی بیٹی کا نکاح نہیں ہوسکتا جب کہ خالد کا وہ بیٹا اس کی اسی بیوی سے ہو جس نے بکر کی بیٹی کو دودھ پلایا ہے اور بکر کی جس لڑکی کو دودھ پلایا ہے خاص اسی سے نکاح کرے کہ اس صورت میں خالد کا بیٹا اور بکر کی بیٹی دونوں رضاعی بھائی بہن ہوگئے اور رضاعی بھائی بہن کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ قرآن پاک میں ہے : “وَ اَخَوٰتُکُمۡ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ ” الآية ( سورة النساء ٤ : ٢٣) اور تم پر تمہارے دودھ کے رشتے کی بہنیں حرام ہوئیں۔ حديث پاک میں ہے:‌ ” إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ “. اھ ( صحيح مسلم رقم الحدیث: ١٤٤٤, كِتَابٌ الرِّضَاعُ, بَابٌ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ. ) یعنی رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ۔ تبیین الحقائق میں ہے: ” یحرم علیہ جمیع من تقدم ذکرہ من الرضاع وھن امہ واختہ وبنات اخوتہ ” اھ ( ج ٢ ص ٤٦٣ کتاب النکاح ، دار الکتب العلمیۃ بیروت لبنان) یعنی جتنی عورتیں مذکورہوئیں سب دودھ کے رشتہ سے بھی حرام ہیں رضاعی ماں ، بہن اور رضاعی بہن کی بیٹیاں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ (٢) صورت مذکورہ میں خالد و بکر کے درمیان اخوت اسلامی کے سوا کوئی حقیقی رشتہ نہیں معلوم ہوتا ہے ہاں خالد بکر کی بیٹی کا رضاعی والد ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

Kutubahu & Verified by:

<h2>رضاعی بہن سے نکاح نہیں ہوسکتا</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں (١) زید خالد کاسالا ہے اور بکر زید کا داماد ہے خالد کی بیوی نے بکر کی بیٹی کو دودھ پلایا ہے تو کیا خالد کے بیٹے سے بکر کی بیٹی کا نکاح ہوسکتا ہے ؟ (٢) دودھ پلانے کی وجہ سے خالد اور بکر میں کیا رشتہ پایا جائے گا ۔ حضور والا سے گزارش ہے اس کا جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں عنایت فرمائیں عین کرم ہوگا ۔ المستفتی دین محمد افتخاری قادری موضع کھدولی پوسٹ شنکر پور ضلع سلطان پور یوپی انڈیا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب-بعون الملک الوھاب</strong></span> (١)صورت مستفسرہ میں خالد کے بیٹے سے بکر کی بیٹی کا نکاح نہیں ہوسکتا جب کہ خالد کا وہ بیٹا اس کی اسی بیوی سے ہو جس نے بکر کی بیٹی کو دودھ پلایا ہے اور بکر کی جس لڑکی کو دودھ پلایا ہے خاص اسی سے نکاح کرے کہ اس صورت میں خالد کا بیٹا اور بکر کی بیٹی دونوں رضاعی بھائی بہن ہوگئے اور رضاعی بھائی بہن کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ قرآن پاک میں ہے : "وَ اَخَوٰتُکُمۡ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ " الآية ( سورة النساء ٤ : ٢٣) اور تم پر تمہارے دودھ کے رشتے کی بہنیں حرام ہوئیں۔ حديث پاک میں ہے:‌ " إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ ". اھ ( صحيح مسلم رقم الحدیث: ١٤٤٤, كِتَابٌ الرِّضَاعُ, بَابٌ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ. ) یعنی رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ۔ تبیین الحقائق میں ہے: " یحرم علیہ جمیع من تقدم ذکرہ من الرضاع وھن امہ واختہ وبنات اخوتہ " اھ ( ج ٢ ص ٤٦٣ کتاب النکاح ، دار الکتب العلمیۃ بیروت لبنان) یعنی جتنی عورتیں مذکورہوئیں سب دودھ کے رشتہ سے بھی حرام ہیں رضاعی ماں ، بہن اور رضاعی بہن کی بیٹیاں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ (٢) صورت مذکورہ میں خالد و بکر کے درمیان اخوت اسلامی کے سوا کوئی حقیقی رشتہ نہیں معلوم ہوتا ہے ہاں خالد بکر کی بیٹی کا رضاعی والد ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...