Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1914 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.1K Views

رضاعی پھوپھی سے نکاح حرام ہے۔ مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

رضاعی پھوپھی سے نکاح حرام ہے۔ مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

رضاعی پھوپھی سے نکاح حرام ہے۔مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی

زید اپنی بہن ہندہ کا دودھ دوسال کی عمر میں پی چکا ہے اب اپنے بیٹے کی شادی ہندہ کی بیٹی سے کرنا چاہتا ہے کیا شرعاً ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟ المستفتی: حافظ عبد القیوم ملدہ بلرام پور یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں زید کے بیٹے کا خالدہ کی بیٹی سے نکاح حرام ہے وجہ یہ کہ ہندہ کی بیٹی زید کی رضاعی بہن اور اس کے بیٹے کی رضاعی پھوپھی ہوئی اور جس طرح حقیقی پھوپھی سے نکاح حرام ہے ایسے ہی رضاعی پھوپھی سے بھی نکاح حرام ہے۔ حضور سيد المرسلين ﷺ نے ارشاد فرمایا: “يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ” اھ (صحيح البخاري، كِتَابٌ الشَّهَادَاتُ، بَابُ الشَّهَادَةِ عَلَى الْأَنْسَابِ وَالرَّضَاعِ، رقم الحدیث ٢٦٤٥) جو نسب سے حرام ہے وہ دودھ سے بھی حرام ہے۔ قرآن کریم میں ہے:” حُرِّمَتۡ عَلَیۡکُمۡ اُمَّہٰتُکُمۡ وَ بَنٰتُکُمۡ وَ اَخَوٰتُکُمۡ وَ عَمّٰتُکُمۡ ” (سورة النساء: ٢٣) ترجمہ: حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں (کنز الایمان) اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: “فتح القدیر، بحرالرائق ، طحطاوی، مرقاۃ شرح مشکوۃ وغیرہا میں ہے: انہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم احال مایحرم من الرضاع علی مایحرم من النسب ومایحرم من النسب مایتعلق خطاب تحریمہ بہ و قدتعلق بما قد عبرعنہ بلفظ الامھات والبنات واخواتکم وعماتکم وخالاتکم وبنات الاخ وبنات الاخت فما کان من مسمی ھذہ الالفاظ متحققا من الرضاع حرم فیہ”اھ(بحرالرائق، ج٣، ص٣٩٣، کتاب الرضاع، دار الکتب العلمیۃ بیروت لبنان) یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دودھ کی حرمتوں کو نسب کی حرمتوں پر حوالہ فرمایا کہ جو نسب سے حرام ہیں وہ دودھ سے بھی حرام ہیں، اور نسب سے وہ حرام ہیں جن سے خطاب الہی تحریم کے ساتھ متعلق ہوا، اور وہ ان سے متعلق ہوا ہے، جن پر ماں اور بیٹی اور بہن اور پھوپھی اور خالہ یا بھائی کی بیٹی یا بہن کی بیٹی کا لفظ صادق آئے تو دودھ کے رشتوں میں جن جن پر یہ الفاظ صادق آئیں وہ بھی حرام ہیں” اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج١١، ص٤٩٦، کتاب الطلاق، رسالہ الجلی الحسن فی حرمۃ ولد اخی اللبن، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ ١٢ جمادی الاول ٤٤٤١؁ھ مطابق ٧ دسمبر ٢٢٠٢؁ء

Kutubahu & Verified by:

<h3>رضاعی پھوپھی سے نکاح حرام ہے۔مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی</h3> زید اپنی بہن ہندہ کا دودھ دوسال کی عمر میں پی چکا ہے اب اپنے بیٹے کی شادی ہندہ کی بیٹی سے کرنا چاہتا ہے کیا شرعاً ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟ المستفتی: حافظ عبد القیوم ملدہ بلرام پور یوپی انڈیا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> صورت مسئولہ میں زید کے بیٹے کا خالدہ کی بیٹی سے نکاح حرام ہے وجہ یہ کہ ہندہ کی بیٹی زید کی رضاعی بہن اور اس کے بیٹے کی رضاعی پھوپھی ہوئی اور جس طرح حقیقی پھوپھی سے نکاح حرام ہے ایسے ہی رضاعی پھوپھی سے بھی نکاح حرام ہے۔ حضور سيد المرسلين ﷺ نے ارشاد فرمایا: "يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ" اھ (صحيح البخاري، كِتَابٌ الشَّهَادَاتُ، بَابُ الشَّهَادَةِ عَلَى الْأَنْسَابِ وَالرَّضَاعِ، رقم الحدیث ٢٦٤٥) جو نسب سے حرام ہے وہ دودھ سے بھی حرام ہے۔ قرآن کریم میں ہے:" حُرِّمَتۡ عَلَیۡکُمۡ اُمَّہٰتُکُمۡ وَ بَنٰتُکُمۡ وَ اَخَوٰتُکُمۡ وَ عَمّٰتُکُمۡ " (سورة النساء: ٢٣) ترجمہ: حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں (کنز الایمان) اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: "فتح القدیر، بحرالرائق ، طحطاوی، مرقاۃ شرح مشکوۃ وغیرہا میں ہے: انہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم احال مایحرم من الرضاع علی مایحرم من النسب ومایحرم من النسب مایتعلق خطاب تحریمہ بہ و قدتعلق بما قد عبرعنہ بلفظ الامھات والبنات واخواتکم وعماتکم وخالاتکم وبنات الاخ وبنات الاخت فما کان من مسمی ھذہ الالفاظ متحققا من الرضاع حرم فیہ"اھ(بحرالرائق، ج٣، ص٣٩٣، کتاب الرضاع، دار الکتب العلمیۃ بیروت لبنان) یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دودھ کی حرمتوں کو نسب کی حرمتوں پر حوالہ فرمایا کہ جو نسب سے حرام ہیں وہ دودھ سے بھی حرام ہیں، اور نسب سے وہ حرام ہیں جن سے خطاب الہی تحریم کے ساتھ متعلق ہوا، اور وہ ان سے متعلق ہوا ہے، جن پر ماں اور بیٹی اور بہن اور پھوپھی اور خالہ یا بھائی کی بیٹی یا بہن کی بیٹی کا لفظ صادق آئے تو دودھ کے رشتوں میں جن جن پر یہ الفاظ صادق آئیں وہ بھی حرام ہیں" اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج١١، ص٤٩٦، کتاب الطلاق، رسالہ الجلی الحسن فی حرمۃ ولد اخی اللبن، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ <strong>کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔</strong> <strong>صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ ١٢ جمادی الاول ٤٤٤١؁ھ مطابق ٧ دسمبر ٢٢٠٢؁ء</strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...