01
The questionSawaal
اصل سوالرقصِ بسمل کا ایک منظر ہو از مولانا عبد اللہ سرور اعظمی
02
The responseAl-Jawab
رقصِ بسمل کا ایک منظر ہو
قلبِ مضطر ہو دیدۂ تر ہو رقصِ بسمل کا ایک منظر ہو سر پہ دستِ حبیبِ داور ہو اور زباں اس گھڑی ثنا گر ہو مجھ پہ اللہ کا کرم ہو جائے جاں کنی میری ان کے در پر ہو جاں بھی ان پر فدا ہو اور دل بھی ان پہ قرباں انھی کے در پر ہو میں بھی ان کے قریب ہو جائوں جب چھلکنے پہ جامِ کوثر ہو آخری وقت واں گزر جائے شہرِ طیبہ میں میرا بستر ہو بادشاہوں کو آنکھ دکھلائے شہرِ طیبہ کا جو گداگر ہو اس کی تعظیم اصفیا بھی کریں میرے آقا کا جو سگِ در ہو حشر میں اذنِ رب اکبر ہو اب ثنا خوانیٔ پیمبر ہو مدح خوانی کریں اکابر جب ساتھ ان کے فقیر سرورؔ ہو از : مولانا عبد اللہ سرور اعظمی استاد جامعہ حرا میاپولی بھیونڈی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.