Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1429 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.6K Views

روزہ افطار کی دعا کا وقت کیا ہے؟ | کن دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

روزہ افطار کی دعا کا وقت کیا ہے؟ | کن دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

روزہ افطار کی دعا کا وقت کیا ہے؟ کن دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے؟

سوال:- روزہ افطار کی دعا کا وقت کیا ہے اور کن دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب روزہ افطار کی دعا کا وقت افطار کرنے کے بعد ہے ۔ جیسا کہ فتاوی رضویہ شریف میں ہے : “مقتضائے دلیل یہ ہے کہ یہ دعا روزہ افطار کرکے پڑھے”(ج ۴ ص ۶۵۳) اور عیدین اور ایام تشریق میں روزہ رکھنا منع ہے- جیساکہ مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوى میں ہے : “والثانى الذي كره تحريما صوم العيدين الفطر والنحر للاعراض عن ضيافة الله ومخالفة الأمر ومنه صوم أيام التشريق لورود النهي عن صيامها”(حاشية الطحطاوى ص ۶۴۰) اور مجمع الأنهر میں ہے ۔ “وصوم العيدين وأيام التشريق حرام لورود النهى عن الصيام في هذه الأيام”(ج ۱ ص ۳۴۳) والله تعالى أعلم کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحيح محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Kutubahu & Verified by:

<h2>روزہ افطار کی دعا کا وقت کیا ہے؟ کن دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے؟</h2> سوال:- روزہ افطار کی دعا کا وقت کیا ہے اور کن دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے؟ باسمه تعالى وتقدس <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملك الوهاب</strong></span> روزہ افطار کی دعا کا وقت افطار کرنے کے بعد ہے ۔ جیسا کہ فتاوی رضویہ شریف میں ہے : "مقتضائے دلیل یہ ہے کہ یہ دعا روزہ افطار کرکے پڑھے"(ج ۴ ص ۶۵۳) اور عیدین اور ایام تشریق میں روزہ رکھنا منع ہے- جیساکہ مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوى میں ہے : "والثانى الذي كره تحريما صوم العيدين الفطر والنحر للاعراض عن ضيافة الله ومخالفة الأمر ومنه صوم أيام التشريق لورود النهي عن صيامها"(حاشية الطحطاوى ص ۶۴۰) اور مجمع الأنهر میں ہے ۔ "وصوم العيدين وأيام التشريق حرام لورود النهى عن الصيام في هذه الأيام"(ج ۱ ص ۳۴۳) والله تعالى أعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحيح محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...