Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #77
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
10K Views
روزے کی حالت میں آکسیجن ماسک لگانا مفسد صوم ہے یا نہیں ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
روزے کی حالت میں آکسیجن ماسک لگانا مفسد صوم ہے یا نہیں ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
روزے کی حالت میں آکسیجن ماسک لگانا مفسد صوم ہے یا نہیں ؟
جواب: روزے کی حالت میں آکسیجن ماسک لگانا مفسد صوم ہے اس لیے کہ اس میں خارج سے جوف صائم میں ایسی مصنوعی آکسیجن کا بالقصد ادخال ہوتاہے جس سے انسان کا بچنا ممکن ہے۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے: اب ہم ان اشیاکو جو خارج سے جوف صائم میں داخل ہوں نظر کریں تو انحاے مختلفہ کے پاتے ہیں ۔ (۱)ان میں بعض وہ ہیں جن سے کسی وقت صائم کو احتراز ممکن نہیں، جیسے ہوا۔ (۲)بعض وہ جن سے احیاناًتلبس ہر شخص کو ضرور، اور ان سے تحرز کلی نا مقدور ،جیسے دخول غبار ودخان کہ کسی نہ کسی طرح انسان کو ان سے قرب کی حاجت ضروری ہے اور وہ اپنی حد ذات میں ممکن الاحترازنہیں، آدمی کو کلام سے چارہ نہیں، اور کلام نہ بھی کرے تو بے تنفس کیوں کر گزرے، اور ہو اکہ ان کی حامل ہوتی ہے تمام فضامیں بھری اور متحرک رہتی ، جابجالیے پھرتی ہے، آدمی مُنہ بند بھی رکھے تو یہ ناک کی راہ سے داخل ہوسکتے ہیں۔ (۳)اور بعض وہ جن سے ہمیشہ تحر ز کرسکتا ہے اگر چہ نادراً بعض اشخاص کو بعض حالات ایسے پیش آئیں کہ تلبس پر مجبور کریں جیسے طعام و شراب اور ان ہی دخان وغبار کا بالقصد ادخال کہ یہ تو اپنا فعل ہے انسان اس میں مجبور محض نہیں ۔ شرع مطہر نے کہ حکیم ورحیم ہے جس طرح قسم اوّل کو مفطرات سے خارج فرمایا کہ اگر اسے ملحوظ رکھیں تو صوم ممتنع اورتکلیفِ روزہ تکلیف بالمحال ٹھہرے،اسی طرح قسم ثا نی کو مطلقاً شمار مفطرات میں نہ رکھا،کہ اگر مفطر مانیں تو دو حال سے خالی نہیں یا تو حکمِ فطر ہمیشہ ثابت رکھیں تو وہی تکلیف مالایطاق ہوتی ہے یا وقتِ ضرورت باوصف حصول مفطر روزہ باقی جانیں تو بقاے شے مع انتفاے حقیقت یا اجتماعِ ذات ومنافی ذات لازم آئے اور یہ باطل ہے، ہم ابھی کہہ آئے ہیں کہ دربارہ حقائق ضرورت کارگر نہیں ہوتی ولہٰذا شرع مطہر سے ہرگز معہود نہیں کہ کسی شے کو بخصوصہ مفطر قراردے کر بعض جگہ بنظرِ ضرورت حکمِ افطار ساقط فرمایا ہو،مثلاً کتبِ فقہیہ پر نظر ڈالیے: اوّلاً:بیمار قریبِ مرگ ہو گیا مجبوراً دواپی ،ضرورت کیسی شدید تھی جس نے روزہ توڑنا جائز کردیا ،مگر روزہ ٹوٹنے کا حکم مرتفع نہ ہُوا۔ ثانیاً:ظالم تلوارسرپر لیے کھڑا ہے کہ نہیں کھاتا تو قتل کردے گا ،کیسی سخت ضرورت ہے، حکم ہوگا کھالے ،مگر یہ نہ ہوگا کہ روزہ نہ جائے۔ ثالثاً:مخمصہ والے مضطر کی ضرورت سے زیادہ کس کی ضرورت ہے، جس کے لیے مردار سے مردار، حرام سے حرام میں اثم زائل، اور بقدر حفظ رمق، تناول فرض ہوا، مگر یہ نہیں کہ یہ حالت بصورت صوم واقع ہوتو ضرورت کے لحاظ سے روزہ نہ ٹوٹے۔ رابعاً:سوتا، مرابرابر ہوتا ہے النوم أخوالموت،سوتے کے پاس بچنے کا کیا حیلہ، احتراز کا کیا چارہ، مگر یہ ناممکن الاحترازی ، بقاے صوم کا حکم نہ لائی، سوتے میں حلق میں کچھ چلاجائے گا تو روزے پر وہی فساد کاحکم آئے گا۔ غرض خادم فقہ کے نزدیک بدیہیات سے ہے کہ شرع مطہر کبھی کسی چیز کو مفطر مان کر ضرورت وعدمِ ضرورت کا فرق نہیں فرماتی، لحاظِ ضرورت صرف اس قدر ہوتا ہے کہ افطار جائز بلکہ کبھی فرض ہوجائے ،مگر مفطر مفطر نہ رہے یہ ناممکن۔تو ثابت ہُوا کہ اس اصل اجماعی عقل و نقل وقاعدہ شرعیہ آیہ لَایُکَلِّف اللہُ نَفْساً اِلّا وُسْعَھَانے واجب کیا کہ قسم ثانی بھی راساً عداد مفطرات سے مہجور، اور مفطر شرعی صرف قسم ثالث میں محصور ہو ۔ بحمد اﷲتعالیٰ اس تقریر منیر سے روشن ہُوا کہ مفطرنہ ہونے کے لیے جس طرح قسم سوم کی ضرورت نادرہ کہ اتفاقاً بعض صائمین کو بعض احوال میں لاحق ہو جیسے مطر و مکرہ ونائم و مریض کی مجبوری کافی نہیں ہوسکتی، یوںہی قسم اول کی ضرورت دائمہ لازمہ غیرمنفکہ بھی درکار نہیں ،بلکہ صرف قسم دوم کی ضرورت عامہ فعلیہ بس ہے اور جب اس کی بنا پر وہ شے شمار مفطر سے خارج رہی تواب تفصیل و تفریق اوقات و حالاتِ ضرورت، نہیں کرسکتے ورنہ وہی استحالہ لازم آئے گا جسے ہم ابھی عقلاً ونقلاً باطل کرچکے ۔ (جلدچہارم: ص۵۹۰،رضا اکیڈمی ، ممبئی) ایک اشکال اور اس کا جواب: یہاں ایک اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہوا تو گیسوں کا مجموعہ ہے جس میں فیصد نائٹروجن گیس،فیصد آکسیجن اور ایک فیصد دوسری گیس ہوتی ہے۔جب مریض کو آکسیجن کی زیادہ ضرورت پڑتی ہے تو ہوا سے اس کا کام نہیں چلتا کیوں کہ اس میں ۲۱فیصد ہی آکسیجن ہے تو اس کو سلینڈر سے مصنوعی گیس دی جاتی ہے جس میں ۶۰فیصد آکسیجن اور ۴۰فیصد نائٹروجن گیس ہوتی ہے اور دوسری گیسوں کو اس سے بالکل الگ کردیا جاتا ہے لہٰذا جب کھلی ہوا میں سانس لینا مفسد صوم نہیں ہے تو آکسیجن ماسک لگانا بھی مفسد صوم نہیں ہوگا کہ یہ بھی وہی قدرتی ہوا ہے ،بس فرق صرف اتناہے کہ اس میں آکسیجن کی مقدار بڑھادی گئی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب مشینوں کے ذریعہ قدرتی ہوا سے آکسیجن کو الگ کرکے سلینڈر میں محفوظ کیاجاتاہے تو وہ آکسیجن پانی بن جاتی ہے،اور اس طرح اس کی حقیقت بدل جاتی ہے پھر بوقت ضرورت اسے گیس بنا لیا جاتا ہے توآکسیجن ماسک کے ذریعہ جو آکسیجن اندر جاتی ہے وہ مصنوعی آکسیجن ہے، وہ نہیں جو کھلی فضا میں سانس لینے میں اندر جاتی ہے۔ قدرتی ہوا سے بچنا ممکن نہیں اس لیے اس سے روزہ فاسد نہ ہوگا اور مصنوعی گیس سے بچنا ممکن ہے کہ اسے بندہ اپنے قصد و اختیار سے جوف میں داخل کرتا ہے لہٰذا اس سے روزہ فاسد ہو جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم از : مفتی نظام الدین رضوی پرنسپل جامعہ اشرفیہ مبارکپورکرونا ٹسٹ کرانے سے روزہ ٹوٹے گا یا نہیں از مفتی محمد نظام الدین قادری
Kutubahu & Verified by:
<h2>روزے کی حالت میں آکسیجن ماسک لگانا مفسد صوم ہے یا نہیں ؟</h2> <strong>جواب:</strong> روزے کی حالت میں آکسیجن ماسک لگانا مفسد صوم ہے اس لیے کہ اس میں خارج سے جوف صائم میں ایسی مصنوعی آکسیجن کا بالقصد ادخال ہوتاہے جس سے انسان کا بچنا ممکن ہے۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے: اب ہم ان اشیاکو جو خارج سے جوف صائم میں داخل ہوں نظر کریں تو انحاے مختلفہ کے پاتے ہیں ۔ (۱)ان میں بعض وہ ہیں جن سے کسی وقت صائم کو احتراز ممکن نہیں، جیسے ہوا۔ (۲)بعض وہ جن سے احیاناًتلبس ہر شخص کو ضرور، اور ان سے تحرز کلی نا مقدور ،جیسے دخول غبار ودخان کہ کسی نہ کسی طرح انسان کو ان سے قرب کی حاجت ضروری ہے اور وہ اپنی حد ذات میں ممکن الاحترازنہیں، آدمی کو کلام سے چارہ نہیں، اور کلام نہ بھی کرے تو بے تنفس کیوں کر گزرے، اور ہو اکہ ان کی حامل ہوتی ہے تمام فضامیں بھری اور متحرک رہتی ، جابجالیے پھرتی ہے، آدمی مُنہ بند بھی رکھے تو یہ ناک کی راہ سے داخل ہوسکتے ہیں۔ (۳)اور بعض وہ جن سے ہمیشہ تحر ز کرسکتا ہے اگر چہ نادراً بعض اشخاص کو بعض حالات ایسے پیش آئیں کہ تلبس پر مجبور کریں جیسے طعام و شراب اور ان ہی دخان وغبار کا بالقصد ادخال کہ یہ تو اپنا فعل ہے انسان اس میں مجبور محض نہیں ۔ شرع مطہر نے کہ حکیم ورحیم ہے جس طرح قسم اوّل کو مفطرات سے خارج فرمایا کہ اگر اسے ملحوظ رکھیں تو صوم ممتنع اورتکلیفِ روزہ تکلیف بالمحال ٹھہرے،اسی طرح قسم ثا نی کو مطلقاً شمار مفطرات میں نہ رکھا،کہ اگر مفطر مانیں تو دو حال سے خالی نہیں یا تو حکمِ فطر ہمیشہ ثابت رکھیں تو وہی تکلیف مالایطاق ہوتی ہے یا وقتِ ضرورت باوصف حصول مفطر روزہ باقی جانیں تو بقاے شے مع انتفاے حقیقت یا اجتماعِ ذات ومنافی ذات لازم آئے اور یہ باطل ہے، ہم ابھی کہہ آئے ہیں کہ دربارہ حقائق ضرورت کارگر نہیں ہوتی ولہٰذا شرع مطہر سے ہرگز معہود نہیں کہ کسی شے کو بخصوصہ مفطر قراردے کر بعض جگہ بنظرِ ضرورت حکمِ افطار ساقط فرمایا ہو،مثلاً کتبِ فقہیہ پر نظر ڈالیے: <em><strong>اوّلاً:</strong></em>بیمار قریبِ مرگ ہو گیا مجبوراً دواپی ،ضرورت کیسی شدید تھی جس نے روزہ توڑنا جائز کردیا ،مگر روزہ ٹوٹنے کا حکم مرتفع نہ ہُوا۔ <em><strong>ثانیاً:</strong></em>ظالم تلوارسرپر لیے کھڑا ہے کہ نہیں کھاتا تو قتل کردے گا ،کیسی سخت ضرورت ہے، حکم ہوگا کھالے ،مگر یہ نہ ہوگا کہ روزہ نہ جائے۔ <em><strong>ثالثاً:</strong></em>مخمصہ والے مضطر کی ضرورت سے زیادہ کس کی ضرورت ہے، جس کے لیے مردار سے مردار، حرام سے حرام میں اثم زائل، اور بقدر حفظ رمق، تناول فرض ہوا، مگر یہ نہیں کہ یہ حالت بصورت صوم واقع ہوتو ضرورت کے لحاظ سے روزہ نہ ٹوٹے۔ <em><strong>رابعاً:</strong></em>سوتا، مرابرابر ہوتا ہے النوم أخوالموت،سوتے کے پاس بچنے کا کیا حیلہ، احتراز کا کیا چارہ، مگر یہ ناممکن الاحترازی ، بقاے صوم کا حکم نہ لائی، سوتے میں حلق میں کچھ چلاجائے گا تو روزے پر وہی فساد کاحکم آئے گا۔ غرض خادم فقہ کے نزدیک بدیہیات سے ہے کہ شرع مطہر کبھی کسی چیز کو مفطر مان کر ضرورت وعدمِ ضرورت کا فرق نہیں فرماتی، لحاظِ ضرورت صرف اس قدر ہوتا ہے کہ افطار جائز بلکہ کبھی فرض ہوجائے ،مگر مفطر مفطر نہ رہے یہ ناممکن۔تو ثابت ہُوا کہ اس اصل اجماعی عقل و نقل وقاعدہ شرعیہ آیہ لَایُکَلِّف اللہُ نَفْساً اِلّا وُسْعَھَانے واجب کیا کہ قسم ثانی بھی راساً عداد مفطرات سے مہجور، اور مفطر شرعی صرف قسم ثالث میں محصور ہو ۔ بحمد اﷲتعالیٰ اس تقریر منیر سے روشن ہُوا کہ مفطرنہ ہونے کے لیے جس طرح قسم سوم کی ضرورت نادرہ کہ اتفاقاً بعض صائمین کو بعض احوال میں لاحق ہو جیسے مطر و مکرہ ونائم و مریض کی مجبوری کافی نہیں ہوسکتی، یوںہی قسم اول کی ضرورت دائمہ لازمہ غیرمنفکہ بھی درکار نہیں ،بلکہ صرف قسم دوم کی ضرورت عامہ فعلیہ بس ہے اور جب اس کی بنا پر وہ شے شمار مفطر سے خارج رہی تواب تفصیل و تفریق اوقات و حالاتِ ضرورت، نہیں کرسکتے ورنہ وہی استحالہ لازم آئے گا جسے ہم ابھی عقلاً ونقلاً باطل کرچکے ۔ <em><strong>(جلدچہارم: ص۵۹۰،رضا اکیڈمی ، ممبئی)</strong></em> ایک اشکال اور اس کا جواب: یہاں ایک اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہوا تو گیسوں کا مجموعہ ہے جس میں فیصد نائٹروجن گیس،فیصد آکسیجن اور ایک فیصد دوسری گیس ہوتی ہے۔جب مریض کو آکسیجن کی زیادہ ضرورت پڑتی ہے تو ہوا سے اس کا کام نہیں چلتا کیوں کہ اس میں ۲۱فیصد ہی آکسیجن ہے تو اس کو سلینڈر سے مصنوعی گیس دی جاتی ہے جس میں ۶۰فیصد آکسیجن اور ۴۰فیصد نائٹروجن گیس ہوتی ہے اور دوسری گیسوں کو اس سے بالکل الگ کردیا جاتا ہے لہٰذا جب کھلی ہوا میں سانس لینا مفسد صوم نہیں ہے تو آکسیجن ماسک لگانا بھی مفسد صوم نہیں ہوگا کہ یہ بھی وہی قدرتی ہوا ہے ،بس فرق صرف اتناہے کہ اس میں آکسیجن کی مقدار بڑھادی گئی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب مشینوں کے ذریعہ قدرتی ہوا سے آکسیجن کو الگ کرکے سلینڈر میں محفوظ کیاجاتاہے تو وہ آکسیجن پانی بن جاتی ہے،اور اس طرح اس کی حقیقت بدل جاتی ہے پھر بوقت ضرورت اسے گیس بنا لیا جاتا ہے توآکسیجن ماسک کے ذریعہ جو آکسیجن اندر جاتی ہے وہ مصنوعی آکسیجن ہے، وہ نہیں جو کھلی فضا میں سانس لینے میں اندر جاتی ہے۔ قدرتی ہوا سے بچنا ممکن نہیں اس لیے اس سے روزہ فاسد نہ ہوگا اور مصنوعی گیس سے بچنا ممکن ہے کہ اسے بندہ اپنے قصد و اختیار سے جوف میں داخل کرتا ہے لہٰذا اس سے روزہ فاسد ہو جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم <em><strong>از : مفتی نظام الدین رضوی پرنسپل جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></em> <!--more--> <header class="entry-header"> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=282" rel="bookmark">کرونا ٹسٹ کرانے سے روزہ ٹوٹے گا یا نہیں از مفتی محمد نظام الدین قادری</a></h2> </header>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...