Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

روزے کی حالت میں خون ٹیسٹ کرانایا بلڈبینک میں عطیہ دینا

روزے کی حالت میں خون ٹیسٹ کرانایا بلڈبینک میں عطیہ دینا
Reference 57 September 18, 2025 7,252 views
اصل سوالروزے کی حالت میں خون ٹیسٹ کرانایا بلڈبینک میں عطیہ دینا

روزے کی حالت میں خون ٹیسٹ کرانایا بلڈبینک میں عطیہ دینا

  کیا روزے کی حالت میں خون ٹیسٹ کرانایا بلڈبینک میں عطیہ دینا ۔ یاایمرجنسی کی صورت میں کسی کی جان بچانے کے لیے خون دینا جائز ہے یا نہیں؟۔ جواب: اس سوال کے تین اجزاہیں:(۱)روزے کی حالت میں خون ٹیسٹ کرانا۔(۲)بلڈ بینک میں خون کا عطیہ دینا ۔ (۳) ایمرجنسی کی صورت میں کسی کی جان بچانے کے لیے خون دینا ۔ ان کے جواباتترتیب وار درج ذیل ہیں: (۱)روزے کی حالت میں خون ٹیسٹ کرانا جائزہے ۔ اور اس میں کوئی کراہت بھی نہیں ہے کیوں کہ ٹیسٹ کے لیے معمولی خون لیا جاتا ہے جس سے ضعف کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا ۔ (۲) روزے کی حالت میں بلڈ بینک میں خون کا عطیہ دینا مکروہ وممنوع ہے اس لیے کہ عطیہ دینے کی صورت میں ۲۵۰ سے ۳۰۰ ملی لیٹر تک خون نکال لیا جاتا ہے ۔ جس سے روزہ دار کو کمزوری لاحق ہونے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے ۔ (۳)کسی کی جان بچانے کے لیے بحالت روزہ خون دینا جائز ہے ۔ اس لیے کہ شریعت میں جس طرح سے اپنی ضرورت کا لحاظ رکھاگیا ہے اسی طرح دوسرے مسلمان کی ضرورت کا بھی لحاظ ہے ۔ ہاں!اگر اس کے علاوہ کوئی غیر روزہ دار خون دینے کے لیے مل جائے اور اس کا خون مریض کے لیے کافی ہو،یا رات میں بھی خون دینے کی گنجائش ہو تو اس صورت میں بحالت روزہ خون دینا مکروہ ہوگا ۔ ان کے دلائل درج ذیل ہیں: فتاویٰ عالمگیری میں ہے : وَلَا بَأْسَ بِالْحِجَامَۃِ إنْ أَمِنَ علی نَفْسِہِ الضُّعْفَ أَمَّا إذَا خَافَ فإنہ یُکْرَہُ وَیَنْبَغِی لہ أَنْ یُؤَخِّرَ إلَی وَقْتِ الْغُرُوبِ، وَذَکَرَ شَیْخُ الْإِسْلَامِ: شَرْطُ الْکَرَاہَۃِ ضُعْفٌ یَحْتَاجُ فیہ إلَی الْفِطْرِ وَالْفَصْدُ نَظِیرُ الْحِجَامَۃِ. ہَکَذَا فی الْـمُحِیطِ (فتاوی عالمگیری: 1، ص220، کتاب الصوم ، الباب الثالث فیما یکرہ للصائم و ما لا یکرہ، دار الکتب العلمیۃ، بیروت) فتاویٰ رضویہ میں ہے: فصد سے روزہ نہ جائے گا، ہاں!ضعف کے خیال سے بچے تو مناسب۔( ج۴، ص۵۸۷، رضا اکیڈمی، ممبئی) رد المحتار میں ہے: ( قَوْلُہُ : وَکَذَا لَا تُکْرَہُ حِجَامَۃٌ ) أَیِ الْحِجَامَۃُ الَّتِی لَا تُضْعِفُہُ عَنْ الصَّوْمِ ، وَیَنْبَغِی لَہ أَنْ یُؤَخِّرَہَا إلَی وَقْتِ الْغُرُوبِ، وَالْفَصْدُ کَالْحِجَامَۃِ، وَذَکَرَ شَیْخُ الْإِسْلَامِ أَنَّ شَرْطَ الْکَرَاہَۃِ ضُعْفٌ یَحْتَاجُ فِیہِ إلَی الْفِطْرِ کَمَا فِی التَّتَارْخَانِیَّۃ . إمْدَادٌ ، وَقَالَ قَبْلَہُ : وَکُرِہَ لَہُ فِعْلُ مَا ظَنَّ أَنَّہُ یُضْعِفُہُ عَنْ الصَّوْمِ کَالْفَصْدِ وَالْحِجَامَۃِ وَالْعَمَلِ الشَّاقِّ لِمَا فِیہِ مِنْ تَعْرِیضِہٖ لِإِفْسَادٍ. (ج3، ص: 399، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم و ما لا یفسدہ، دار الکتب العلمیۃ، بیروت) درمختار میں ہے: فروع: لا یجوز أن یعمل عملا یصل بہ إلی الضعف، فیخبز نصف النہار ویستریح الباقی۔ (کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم) اس کے تحت رد المحتار میں ہے: وقال فی التاترخانیۃ: وفی الفتاوی: سئل علی بن أحمد عن المحترف إذا کان یعلم أنہ لو اشتغل بحرفتہ یلحقہ مرض یبیح الفطر وہو محتاج للنفقۃ، ہل یباح لہ الأکل قبل أن یمرض؟ فمنع من ذلک أشد المنع. (رد المحتار: ج3، ص400، 401، کتاب الصوم ، باب ما یفسد الصوم و ما لایفسدہ، دار الکتب العلمیۃ، بیروت) بہار شریعت میں ہے: رمضان کے دنوں میں ایسا کام کرنا جائز نہیں جس سے ایسا ضعف آجائے کہ روزہ توڑنے کا ظن غالب ہو ۔ لہٰذا نانبائی کو چاہیے کہ دوپہر تک روٹی پکائے پھر باقی دن میں آرام کرے ۔(درمختار)۔ یہی حکم معمار و مزدور اورمشقت کے کام کرنے والوں کا ہے کہ زیادہ ضعف کا اندیشہ ہو تو کام میں کمی کر دیں کہ روزے ادا کرسکیں ۔ (حصّہ پنجم، ص۹۹۸، مکتبۃ المدینہ) فتاویٰ رضویہ میں ہے : پھر اپنی ضرورت تو ضرورت ہے ہی ،دوسرے مسلم کی ضرورت کا بھی لحاظ فرمایا گیا ہے ۔ مثلا: (۱) دریا کے کنارے نماز پڑھتا ہے اور کوئی شخص ڈوبنے لگااور یہ بچا سکتا ہے لازم ہے کہ نیت توڑ ے اور اسے بچائے، حالاں کہ ابطال عمل حرام تھا ۔ قال تعالٰی:لَاتُبْطِلُوْا اَعْمَالَکُمْ۔ (۲)نماز کا وقت تنگ ہے ڈوبتے کو بچانے میں نکل جائے گا، بچائے، اور نماز قضاپڑھے اگر چہ قصد اً قضا کرنا حرام تھا۔ (۳)نماز کا وقت جاتاہے اور قابلہ اگر نماز میں مشغول ہو بچے پر ضائع ہونے کا اندیشہ ہے نماز کی تاخیر کرے ۔ (۴)نماز پڑھتاہے اور اندھا کنویں کے قریب پہنچا، اگر یہ نہ بتائے وہ کنویں میں گرجائے ، نیت تو ڑکر بتانا واجب ہے ۔ اشباہ میں ہے:تخفیفات الشرع أنواع: الخامس تخفیف تاخیر کتاخیر الصلوٰۃ عن وقتہا فی حق مشتغل بـإنقاذ غریق و نحوہ۔ ردالمحتار کتا ب الحج میں ہے:جاز قطع الصلوٰۃ أوتاخیرہا لخوفہ علی نفسہ أومالہ أو نفس غیرہ أومالہ کخوف القابلۃ علی الولد والخوف من تردّی أعمی وخوف الراعی من الذئب وأمثال ذٰلک ۔ اقول: یہ بھی حقیقۃً اپنے نفس کی طرف راجع کہ یہ شرعا ان کے بچانے پر مامور ہے ۔اگر بینم کہ نابینا وچاہ است اگر خاموش بنیشم گناہ است (ج۹، نصف آخر،کتاب الحظروالاباحۃ،ص۲۰۰،رضا اکیڈمی ،ممبئی ) و اللہ تعالیٰ اعلم ۔

مصنوعی بے ہوشی یابے حسی مفسدروزہ ہے یا نہیں ؟

مریض کے روزوں کے مسائل / کب روزہ نہ رکھنے کی اجازت یے

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.