Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1689 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.1K Views

روزے کی حالت میں منجن یا ٹوتھ پیسٹ کرنا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

روزے کی حالت میں منجن یا ٹوتھ پیسٹ کرنا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

روزے کی حالت میں منجن یا ٹوتھ پیسٹ کرنا کیسا ہے ؟

سائلہ افسانہ شیخ گوپی گنج بھدوہی یوپی انڈیا۔ الجواب-بعون الملک الوھاب- صورت مستفسرہ میںبلاضرورت صحیحہ ٹوتھ پیسٹ اور منجن کرنا مکروہ ہے جب کہ مکمل اطمینان ہو کہ کوئی ذرہ حلق سے نیچے نہ اترے گا اور کوئی ذرہ حلق سے  نیچے اتر گیا تو روزہ جاتا رہا۔ علامہ علاء الدین حصکفی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں: ” كره له ذوق شئي” ( الدر المختار مع حاشیۃ الطحطاوی , ج٣, ص٤٠٠, مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان) یعنی روزہ دار کو کسی چیز کا چکھنا مکروہ ہے۔ حضور اعلی حضرت تحریر فرماتے ہیں: “منجن نا جائز  وحرام نہیں جبکہ اطمینان کافی ہو کہ اس کا کوئ جزو حلق میں نہ جائے گا مگر بے ضرورت صحیحہ  کراہت ضرور ہے ـ اھ ( فتاوی رضویہ مترجم, ج١٠, ص٥٥٨, کتاب الصوم, باب مکروہات الصوم, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) فتاوی فیض الرسول جلد١ صفحہ ٣١٤ پر ہے: ” حالت روزہ میں کسی طرح کامنجن یا کول گیٹ وغیرہ کا استعمال بلاضرورت صحیحہ مکروہ ہے… اگر اس کا کچھ حصہ حلق میں چلا گیا اور حلق میں اس کا مزہ محسوس ہوا تو روزہ جاتا رہا ” اھ ملخصاً۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ ٣ رمضان المبارک ١٤٤٣ھ مطابق ٥ اپریل ٢٠٢٢ء

Kutubahu & Verified by:

<h2>روزے کی حالت میں منجن یا ٹوتھ پیسٹ کرنا کیسا ہے ؟</h2> سائلہ افسانہ شیخ گوپی گنج بھدوہی یوپی انڈیا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب-بعون الملک الوھاب-</strong></span> صورت مستفسرہ میںبلاضرورت صحیحہ ٹوتھ پیسٹ اور منجن کرنا مکروہ ہے جب کہ مکمل اطمینان ہو کہ کوئی ذرہ حلق سے نیچے نہ اترے گا اور کوئی ذرہ حلق سے  نیچے اتر گیا تو روزہ جاتا رہا۔ علامہ علاء الدین حصکفی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں: " كره له ذوق شئي" ( الدر المختار مع حاشیۃ الطحطاوی , ج٣, ص٤٠٠, مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان) یعنی روزہ دار کو کسی چیز کا چکھنا مکروہ ہے۔ حضور اعلی حضرت تحریر فرماتے ہیں: "منجن نا جائز  وحرام نہیں جبکہ اطمینان کافی ہو کہ اس کا کوئ جزو حلق میں نہ جائے گا مگر بے ضرورت صحیحہ  کراہت ضرور ہے ـ اھ ( فتاوی رضویہ مترجم, ج١٠, ص٥٥٨, کتاب الصوم, باب مکروہات الصوم, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) فتاوی فیض الرسول جلد١ صفحہ ٣١٤ پر ہے: " حالت روزہ میں کسی طرح کامنجن یا کول گیٹ وغیرہ کا استعمال بلاضرورت صحیحہ مکروہ ہے... اگر اس کا کچھ حصہ حلق میں چلا گیا اور حلق میں اس کا مزہ محسوس ہوا تو روزہ جاتا رہا " اھ ملخصاً۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ <strong>کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔</strong> <strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong> <strong>٣ رمضان المبارک ١٤٤٣ھ مطابق ٥ اپریل ٢٠٢٢ء</strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...