01
The questionSawaal
اصل سوالروزے کی حالت میں گلوکوز یا انسولین لینے سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟
02
The responseAl-Jawab
روزے کی حالت میں گلوکوز یا انسولین لینے سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟
جواب : گلوکوزلینے یعنی اسے عام دواؤں کی طرح کھانے، پینے سے روزہ فاسدہو جائے گا اور اس کی قضا لازم ہوگی ۔ چاہے وہ گلوکوز پاوڈر ہو جسے پانی میں گھول کرپیا جاتاہے یا گلوکوز ٹبلیٹ ہو جسے منہ میں رکھ نگل لیاجاتاہے ۔ یا گلوکوز سیرپ ہو جسے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ایک یا دو چمچہ پیاجاتاہے ۔ ہاں!انجکشن سے انسولین یا گلوکوزلینے کی صورت میں روزہ فاسد نہیں ہوگا اس لیے کہ مفسد صوم وہ دوا یا غذا ہے جو منافذ اصلیہ یاغیر اصلیہ کے ذریعہ دماغ یا معدہ تک پہنچے ۔ اور اگر مسامات کے ذریعہ کوئی چیز دماغ یا معدہ تک پہنچے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا ۔ اور ظاہر ہے کہ انجکشن کے ذریعہ جسم میں جو سوراخ ہوتاہے وہ منفذ نہیں ہوتا بلکہ مصنوعی مسام ہوتا ہے اس لیے کہ مَسَام ، سَمُّ الْإِبْرَۃسے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے سوئی کا سوراخ ۔ لہٰذا انجکشن سے روزہ فاسد نہیں ہوگا ۔ چاہے گوشت میں لگایا جائے یا رگ میں لگایا جائے ۔ جمہور فقہاے اہل سنت کا یہی موقف ہے ۔ اس کے دلائل درج ذیل ہیں : ٭بدائع الصنائع میں ہے: وَمَا وَصَلَ إلَی الْجَوْفِ أَوْ إلَی الدِّمَاغِ مِنَ الْمَخَارِقِ الْأَصْلِیَّۃِ کَالْأَنْفِ وَالْأُذُنِ وَالدُّبُرِ بِأَن اسْتَعَطَ أَوِاحْتَقَنَ أَوْ أَقْطَرَ فِی أُذُنِہِ فَوَصَلَ إلَی الْجَوْفِ أَوْ إلَی الدِّمَاغِ فَسَدَ صَوْمُہُ ۔ أَمَّا إذَا وَصَلَ إلَی الْجَوْفِ فَلَا شَکَّ فِیہِ لِوُجُودِ الْأَکْلِ مِنْ حَیْثُ الصُّورَۃِ .وَکَذَا إذَا وَصَلَ إلَی الدِّمَاغِ؛ لأنّ لَہ مَنْفَذًا إلی الجَوْفِ، فَکَانَ بِمَنْزِلَۃِ زَاوِیَۃٍ مِنْ زَوَایَا الجَوْفِ ۔ روزے کی حالت میں گلوکوز یا انسولین لینے سے روزہ فاسد ہو گا ۔ وَأَمَّا مَا وَصَلَ إلَی الْجَوْفِ أَوْ إلَی الدِّمَاغِ مِنْ غَیْرِ الْمَخَارِقِ الْأَصْلِیَّۃِ بِأَنْ دَاوَی الْجَائِفَۃَ وَالْآمَۃَ ، فَإِنْ دَاوَاہَا بِدَوَاء ٍ یَابِسٍ لَا یُفْسِدُ؛ لِأَنَّہُ لَمْ یَصِلْ إلَی الْجَوْفِ وَلَا إلَی الدِّمَاغِ. وَلَوْ عَلِمَ أَنَّہُ وَصَلَ یُفْسِدُ فِی قَوْلِ أَبِی حَنِیفَۃَ ، وَإِنْ دَاوَاہَا بِدَوَاء ٍ رَطْبٍ یُفْسِدُ عِنْدَ أَبِی حَنِیفَۃَ وَعِنْدَہُمَا لَا یُفْسِدُ ۔ ہُمَا اعْتَبَرَا الْمَخَارِقَ الْأَصْلِیَّۃَ؛ لِأَنَّ الْوُصُولَ إلَی الْجَوْفِ مِنَ الْمَخَارِقِ الْأَصْلِیَّۃِ مُتَیَقَّنٌ بِہٖ وَمِنْ غَیْرِہَا مَشْکُوکٌ فِیہِ ، فَلَا نَحْکُمُ بِالْفَسَادِ مَعَ الشَّکِّ . وَلِأَبِی حَنِیفَۃَ: أنَّ الدَّوَاء َ إذَا کَانَ رَطْبًا فَالظَّاہِرُ ہُوَ الْوُصُولُ لِوُجُودِ الْمَنْفَذِ إلَی الْجَوْفِ فَیُبْنَی الْحُکْمُ عَلَی الظَّاہِرِ.(کتاب الصوم، فصل و أمّا رکنہ، ج۲، ص۱۴۰، برکات رضا، پوربندر، گجرات) فتح القدیر میں ہے: (قَوْلُہُ: وَلَو اکْتَحَلَ لَمْ یُفْطِرْ) سَوَاء ٌ وَجَدَ طَعْمَہ فِی حَلْقِہٖ أَوْ لَا؛لِأَنَّ الْمَوْجُودَ فِی حَلْقِہٖ أَثَرُہُ دَاخِلًا مِنَ الْمَسَامِّ وَالْمُفْطِرُ الدَّاخِلُ مِنَ الْمَنَافِذِ کَالْمدْخَلِ وَالْمخْرَجِ لَا مِنَ الْمَسَامِّ الَّذِی ہُوَ خَلَلُ الْبَدَنِ لِلِاتِّفَاقِ فِیمَنْ شَرَعَ فِی الْمَاء ِ یَجِدُ بَرْدَہ فِی بَطْنِہِ وَلَا یُفْطِرُ ۔ (فتح القدیر: ج۲ ، ص۳۳۵، کتاب الصوم ، باب ما یوجب القضاء والکفارۃ، برکات رضا، پوربندر) حاشیہ شلبی علی تبیین الحقائق میں ہے: (قولہ:الدَّاخِلُ مِنَ الْمَسَامّ) المَسَامُّ الْمَنَافِذُ ۔ مأخُوذٌ مِنْ سَمّ الْإِبْرَۃ ِوَ إِنْ لَمْ یُسْمَع إِلَّا مِنَ الْأَطِبَّاء ۔ (حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق: ج:2، ص:169، باب ما یفسد الصوم و ما لا یفسد، برکات رضا ، پوربندر، گجرات) ٭مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ انجکشن کے بارے میں فرماتے ہیں ۔ فی الواقع انجکشن سے روزہ فاسد نہیں ہوتا کیوں کہ انجکشن سے دواجوف میں نہیں جاتی ۔ (فتاویٰ مفتی اعظم: ج۳، ص۳۰۲ ، امام احمد رضا اکیڈمی ، بریلی شریف) مزید مطالعہ کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوال (۱)روزے کی حالت میں گلوکوز یا انسولین لیناجائز ہے یا نہیں ؟
دنیاوی تعلیم کے مد میں زکوٰۃ کی رقم صَرف کرنا کیسا ہے
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.