Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1488 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.4K Views

رکوع سے کھڑے ہوکر اللھم ربناولک الحمد پڑھنا افضل ہے

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

رکوع سے کھڑے ہوکر اللھم ربناولک الحمد پڑھنا افضل ہے

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

رکوع سے کھڑے ہوکر اللھم ربناولک الحمد پڑھنا افضل ہے

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض لوگ رکوع سے کھڑے ہو کر ’’ربنا لك الحمد’’ پڑھتے ہیں اور بعض لوگ ’’ربنا ولك الحمد‘‘ پڑھتے ہیں۔ تو ان دونوں میں سے کون سے الفاظ صحیح ہیں برائے کرم دلائل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔ اللہ تعالی آپ کو اجر عظیم عطافرمائے۔ سائل: عبداللہ احمد آباد گجرات انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب دونوں طرح کے الفاظ درست ہیں ، دونوں سے سنت ادا ہوجائے گی ، ہاں بہتر یہ ہے کہ ’’ اللھم ربنا ولک الحمد ‘‘ پڑھیں۔ قومہ کی حمد میں چار طرح کے الفاظ منقول ہیں: سب سے افضل (١)’’ اللھم ربنا ولک الحمد ‘‘ہے (٢) پھر ’’ اللھم ربنا لک الحمد ‘‘ (٣) پھر ’’ربنا ولک الحمد ‘‘ (٤) پھر ’’ربنا لک الحمد‘‘ علامہ ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں:’’ والمراد بالتحمید واحد من اربعۃ الفاظ، افضلھا اللھم ربنا ولک الحمد، کما فی المجتبی ، ویلیہ اللھم ربنا لک الحمد ،ویلیہ ربنا ولک الحمد ويليه ربنا لک الحمد “ ( البحر الرائق ، جلد 1 ، صفحہ 553 ، مطبوعہ کوئٹہ) یعنی قومہ میں حمد کرنے سے مراد چار طرح کے الفاظ میں سے کوئی ایک طرح کے الفاظ پڑھنا ہے : ان میں سے افضل ” اللھم ربنا ولک الحمد “ ہے جیسا کہ مجتبی میں ہے اس کے بعد” اللھم ربنا لک الحمد “ہے، اس کے بعد’’ ربنا ولک الحمد ‘‘ہے اور اس کے بعد’’ربنا لک الحمد‘‘ہے۔ علامہ عالم بن علاء اندرپتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتاوی تاتار خانیہ میں لکھتے ہیں :’’ وفی الکافی : صفۃ التحمید ربنا لک الحمد ،ربنا ولک الحمد ، اللھم ربنا لک الحمد ، اللھم ربنا ولک الحمد،وھو الاحسن ،والکل منقول عن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم‘‘ (فتاوی تاتار خانیہ ، جلد 1 ، صفحہ 539 ، مطبوعہ کراچی) یعنی کافی میں ہے کہ تحمید کی صفت اس طرح ہے:’’ربنا لک الحمد ،ربنا ولک الحمد ،اللھم ربنا لک الحمد ، اللھم ربنا ولک الحمد‘‘اور یہ آخری بہت اچھا ہے اور تمام الفاظ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہیں ۔ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں:’’ربنا لک الحمد سے بھی سنت ادا ہوجاتی ہے مگر واؤ ہونا بہتر ہے اور اللھم ہونا اس سے بہتر اور سب میں بہتر یہ ہے کہ دونوں ہوں۔ ‘‘ (بهار شریعت ، حصہ 3 ، جلد 1 صفحہ 527 ، نماز کی سنتیں، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) واللہ تعالی اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

Kutubahu & Verified by:

<h2>رکوع سے کھڑے ہوکر اللھم ربناولک الحمد پڑھنا افضل ہے</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض لوگ رکوع سے کھڑے ہو کر ’’ربنا لك الحمد’’ پڑھتے ہیں اور بعض لوگ ’’ربنا ولك الحمد‘‘ پڑھتے ہیں۔ تو ان دونوں میں سے کون سے الفاظ صحیح ہیں برائے کرم دلائل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔ اللہ تعالی آپ کو اجر عظیم عطافرمائے۔ سائل: عبداللہ احمد آباد گجرات انڈیا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> دونوں طرح کے الفاظ درست ہیں ، دونوں سے سنت ادا ہوجائے گی ، ہاں بہتر یہ ہے کہ ’’ اللھم ربنا ولک الحمد ‘‘ پڑھیں۔ قومہ کی حمد میں چار طرح کے الفاظ منقول ہیں: سب سے افضل (١)’’ اللھم ربنا ولک الحمد ‘‘ہے (٢) پھر ’’ اللھم ربنا لک الحمد ‘‘ (٣) پھر ’’ربنا ولک الحمد ‘‘ (٤) پھر ’’ربنا لک الحمد‘‘ علامہ ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں:’’ والمراد بالتحمید واحد من اربعۃ الفاظ، افضلھا اللھم ربنا ولک الحمد، کما فی المجتبی ، ویلیہ اللھم ربنا لک الحمد ،ویلیہ ربنا ولک الحمد ويليه ربنا لک الحمد “ ( البحر الرائق ، جلد 1 ، صفحہ 553 ، مطبوعہ کوئٹہ) یعنی قومہ میں حمد کرنے سے مراد چار طرح کے الفاظ میں سے کوئی ایک طرح کے الفاظ پڑھنا ہے : ان میں سے افضل ” اللھم ربنا ولک الحمد “ ہے جیسا کہ مجتبی میں ہے اس کے بعد” اللھم ربنا لک الحمد “ہے، اس کے بعد’’ ربنا ولک الحمد ‘‘ہے اور اس کے بعد’’ربنا لک الحمد‘‘ہے۔ علامہ عالم بن علاء اندرپتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتاوی تاتار خانیہ میں لکھتے ہیں :’’ وفی الکافی : صفۃ التحمید ربنا لک الحمد ،ربنا ولک الحمد ، اللھم ربنا لک الحمد ، اللھم ربنا ولک الحمد،وھو الاحسن ،والکل منقول عن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم‘‘ (فتاوی تاتار خانیہ ، جلد 1 ، صفحہ 539 ، مطبوعہ کراچی) یعنی کافی میں ہے کہ تحمید کی صفت اس طرح ہے:’’ربنا لک الحمد ،ربنا ولک الحمد ،اللھم ربنا لک الحمد ، اللھم ربنا ولک الحمد‘‘اور یہ آخری بہت اچھا ہے اور تمام الفاظ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہیں ۔ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں:’’ربنا لک الحمد سے بھی سنت ادا ہوجاتی ہے مگر واؤ ہونا بہتر ہے اور اللھم ہونا اس سے بہتر اور سب میں بہتر یہ ہے کہ دونوں ہوں۔ ‘‘ (بهار شریعت ، حصہ 3 ، جلد 1 صفحہ 527 ، نماز کی سنتیں، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) واللہ تعالی اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...