Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1280 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.7K Views

زبردستی طلاق کے پیپر پر دستخط کرائی گئی تو طلاق ہوگی یا نہیں ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

زبردستی طلاق کے پیپر پر دستخط کرائی گئی تو طلاق ہوگی یا نہیں ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

زبردستی طلاق کے پیپر پر دستخط کرائی گئی تو طلاق ہوگی یا نہیں ؟

سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ زید شراب پیتا ہے اور اپنی بیوی کو مارتا ہے تو بیوی کے چند رشتہ داروں نے زید سے طلاق کا مطالبہ کیا اس نے کہا ہم طلاق نہیں دیں گے تو مار پیٹ کر ایک سادہ کاغذ پر دستخط کرایا۔ اور اس پر بیوی کی طرف سے طلاق دینا لکھا گیا۔ زید کا بیان ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے۔ صرف مار کے خوف سے سادہ کاغذ پر دستخط کر دیا ۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت میں زید کی بیوی کو طلاق پڑی یا نہیں ؟ بینوا توجروا الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں اگر اکراہ شرعی پایا گیا یعنی زید کو کسی عضو کے کاٹے جانے یا ضرب شدید کا صحیح اندیشہ ہو گیا تھا اور اس صورت میں اس نے سادہ کاغذ پر یہ جانتے ہوئے دستخط کر دیا اس پر ہماری طرف سے طلاق لکھی جائے گی لیکن اس نے نہ طلاق کی نیت کی اور نہ زبان سے طلاق دی تو وہ واقع نہیں ہوئی ۔ اور اگر اکراہ شرعی کے بغیر سادہ کاغذ پر دستخط کردیا یہ جانتے ہوئے کہ اس پر ہماری طرف سے ہماری بیوی کو طلاق لکھی جائے گی تو اس صورت میں طلاق پڑگئی ۔ فتاویٰ قاضی خان مع ہندیہ جلد اول صفحہ ٤٤١ میں ہے : ” رجل اكره بالضرب والحبس علي ان يكتب طلاق امراته فلانة بنت فلان فكتب امراته فلانة بنت فلان طالق لا تطلق امراته لان الكتابه مقام العبارة باعتبار الحاجة ولاحاجة ههنا.” اور کنز الدقائق میں ہے :” يقع طلاق كل زوج عاقل بالغ ولو مكرها. ” بحر الحرائق ميں ہے :” قوله ولو مكرها أي ولو كان الزوج مكرها علي انشاء الطلاق لفظا. والله تعالى اعلم. كتبہ : مفتی جلال الدين احمد الامجدي

Kutubahu & Verified by:

<h2>زبردستی طلاق کے پیپر پر دستخط کرائی گئی تو طلاق ہوگی یا نہیں ؟</h2> سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ زید شراب پیتا ہے اور اپنی بیوی کو مارتا ہے تو بیوی کے چند رشتہ داروں نے زید سے طلاق کا مطالبہ کیا اس نے کہا ہم طلاق نہیں دیں گے تو مار پیٹ کر ایک سادہ کاغذ پر دستخط کرایا۔ اور اس پر بیوی کی طرف سے طلاق دینا لکھا گیا۔ زید کا بیان ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے۔ صرف مار کے خوف سے سادہ کاغذ پر دستخط کر دیا ۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت میں زید کی بیوی کو طلاق پڑی یا نہیں ؟ بینوا توجروا <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> صورت مسئولہ میں اگر اکراہ شرعی پایا گیا یعنی زید کو کسی عضو کے کاٹے جانے یا ضرب شدید کا صحیح اندیشہ ہو گیا تھا اور اس صورت میں اس نے سادہ کاغذ پر یہ جانتے ہوئے دستخط کر دیا اس پر ہماری طرف سے طلاق لکھی جائے گی لیکن اس نے نہ طلاق کی نیت کی اور نہ زبان سے طلاق دی تو وہ واقع نہیں ہوئی ۔ اور اگر اکراہ شرعی کے بغیر سادہ کاغذ پر دستخط کردیا یہ جانتے ہوئے کہ اس پر ہماری طرف سے ہماری بیوی کو طلاق لکھی جائے گی تو اس صورت میں طلاق پڑگئی ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>فتاویٰ قاضی خان مع ہندیہ جلد اول صفحہ ٤٤١ میں ہے : " رجل اكره بالضرب والحبس علي ان يكتب طلاق امراته فلانة بنت فلان فكتب امراته فلانة بنت فلان طالق لا تطلق امراته لان الكتابه مقام العبارة باعتبار الحاجة ولاحاجة ههنا." اور کنز الدقائق میں ہے :" يقع طلاق كل زوج عاقل بالغ ولو مكرها. " بحر الحرائق ميں ہے :" قوله ولو مكرها أي ولو كان الزوج مكرها علي انشاء الطلاق لفظا.</strong> </span> والله تعالى اعلم. <span style="color: #339966;"><strong>كتبہ : مفتی جلال الدين احمد الامجدي</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...