Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1052 Verified Hanafi Fiqh 8.7K Views

زنا کے حمل والی سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟ از مفتی محمد رضا مرکزی

Font:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

زنا کے حمل والی سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟ از مفتی محمد رضا مرکزی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

زنا کے حمل والی سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگرکسی کنواری لڑکی سےمعاذاللہ کسی نے زنا کیا اور اسے حمل بھی ٹھہرگیا تو کیا اب اس لڑکی کا ،حمل کی حالت میں زانی سے یا کسی دوسرے سے نکاح کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ سائل : محمد ذھیب رضوی رتنا گری مہاراشٹر اَلْجَوَاب اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ زنا کرنا،بے حیائی کا کام ،گناہ ،ناجائزوحرام اورجہنم کا مستحق بنانے والا کام ہے ۔ زانی (زنا کرنے والا مرد)اور زانیہ(زنا کرنے والی عورت) دونوں پرسچے دل سے توبہ لازم ہے ۔ جہاں تک نکاح کا سوال ہے تو اگرچہ زنا سے حمل ٹھہرجائے تب بھی ایسی عورت کا اس حالت میں بھی نکاح ہوسکتا ہے ۔ ایسی عورت کا نکاح اگراسی مرد سے ہوا ،جس سے زنا کا حمل ہوا ہے تو وہ نکاح کے بعدبچہ پیدا ہونے سے پہلے ہمبستری بھی کرسکتا ہے ۔ اور اگرایسی عورت کا نکاح زنا کرنے والے کے علاوہ کسی دوسرے مرد سے ہوا تو اب بھی اگرچہ نکاح ہوجائے گا ۔ مگرجب تک بچہ پیدا نہ ہوجائے تب تک ہمبستری نہیں کرسکتا ۔ نہ ہی دواع جماع یعنی بوس کنار کی اجازت ہوگی ۔ زنا کے متعلق رب عزوجل ارشاد فرماتا ہے:” وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤی اِنَّہٗ کَانَ فاحِشَۃً ؕ وَسَآءَ سَبِیۡلا “ ترجمہ کنزالایمان : اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ،بے شک وہ بے حیائی ہےاور بہت ہی بری راہ۔ (پارہ15،سورۃ بنی اسرائیل،آیت 32)  صحیح بخاری شریف کی ایک طویل حدیث پاک کے ایک حصےمیں ہے:”فانطلقنا،فاتینا علی مثل التنور،قال :فاحسب انہ کان یقول:فاذا فیہ لغط واصوات،قال فاطلعنا فیہ ،فاذا فیہ رجال ونساء عراۃ،واذاھم یاتیھم لھب من اسفل منھم ،فاذا اتاھم ذلک اللھب ضوضوا۔۔۔۔۔اما الرجال والنساء العراۃ الذین فی مثل بناء التنور،فانھم الزناۃ والزوانی۔“ ترجمہ:ہم آگے چلے تو ہم تنور کی طرح ایک جگہ پرآئے،راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان یہ ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس تنور میں سے مختلف آوازیں آ رہی تھیں،فرمایا : ہم نے دیکھا کہ اس میں بے لباس مرد اورعورتیں ہیں ،ان کے نیچے آگ کے شعلے تھے ،جب وہ آگ ان کی طرف آتی تو وہ چیخ وپکارکرتے۔۔۔۔ فرشتوں نے بتایا کہ جو آپ نے بے لباس مرد وعورت تنورکی طرح جگہ میں دیکھے یہ زانی مرد اورعورتیں ہیں۔ (بخاری شریف جلد2) بہارشریعت میں ہے :جس عورت کو زنا کا حمل ہے اس سے نکاح ہوسکتا ہے پھر اگر اسی کا وہ حمل ہے تو وطی بھی کرسکتا ہے اور اگر دوسرے کا ہے تو جب تک بچہ نہ پیدا ہو لے وطی جائز نہیں۔ (بہارشریعت جلد2حصہ7صفحہ34) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم ۔ کتبـــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Kutubahu & Verified by:

<h2>زنا کے حمل والی سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگرکسی کنواری لڑکی سےمعاذاللہ کسی نے زنا کیا اور اسے حمل بھی ٹھہرگیا تو کیا اب اس لڑکی کا ،حمل کی حالت میں زانی سے یا کسی دوسرے سے نکاح کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ سائل : محمد ذھیب رضوی رتنا گری مہاراشٹر <span style="color: #ff0000;"><strong>اَلْجَوَاب اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ</strong></span> زنا کرنا،بے حیائی کا کام ،گناہ ،ناجائزوحرام اورجہنم کا مستحق بنانے والا کام ہے ۔ زانی (زنا کرنے والا مرد)اور زانیہ(زنا کرنے والی عورت) دونوں پرسچے دل سے توبہ لازم ہے ۔ جہاں تک نکاح کا سوال ہے تو اگرچہ زنا سے حمل ٹھہرجائے تب بھی ایسی عورت کا اس حالت میں بھی نکاح ہوسکتا ہے ۔ ایسی عورت کا نکاح اگراسی مرد سے ہوا ،جس سے زنا کا حمل ہوا ہے تو وہ نکاح کے بعدبچہ پیدا ہونے سے پہلے ہمبستری بھی کرسکتا ہے ۔ اور اگرایسی عورت کا نکاح زنا کرنے والے کے علاوہ کسی دوسرے مرد سے ہوا تو اب بھی اگرچہ نکاح ہوجائے گا ۔ مگرجب تک بچہ پیدا نہ ہوجائے تب تک ہمبستری نہیں کرسکتا ۔ نہ ہی دواع جماع یعنی بوس کنار کی اجازت ہوگی ۔ زنا کے متعلق رب عزوجل ارشاد فرماتا ہے:<span style="color: #ff0000;"><strong>” وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤی اِنَّہٗ کَانَ فاحِشَۃً ؕ وَسَآءَ سَبِیۡلا “</strong></span> ترجمہ کنزالایمان : اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ،بے شک وہ بے حیائی ہےاور بہت ہی بری راہ۔ (پارہ15،سورۃ بنی اسرائیل،آیت 32) <span style="color: #ff0000;"><strong> صحیح بخاری شریف کی ایک طویل حدیث پاک کے ایک حصےمیں ہے:”فانطلقنا،فاتینا علی مثل التنور،قال :فاحسب انہ کان یقول:فاذا فیہ لغط واصوات،قال فاطلعنا فیہ ،فاذا فیہ رجال ونساء عراۃ،واذاھم یاتیھم لھب من اسفل منھم ،فاذا اتاھم ذلک اللھب ضوضوا۔۔۔۔۔اما الرجال والنساء العراۃ الذین فی مثل بناء التنور،فانھم الزناۃ والزوانی۔“</strong> </span> ترجمہ:ہم آگے چلے تو ہم تنور کی طرح ایک جگہ پرآئے،راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان یہ ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس تنور میں سے مختلف آوازیں آ رہی تھیں،فرمایا : ہم نے دیکھا کہ اس میں بے لباس مرد اورعورتیں ہیں ،ان کے نیچے آگ کے شعلے تھے ،جب وہ آگ ان کی طرف آتی تو وہ چیخ وپکارکرتے۔۔۔۔ فرشتوں نے بتایا کہ جو آپ نے بے لباس مرد وعورت تنورکی طرح جگہ میں دیکھے یہ زانی مرد اورعورتیں ہیں۔ (بخاری شریف جلد2) بہارشریعت میں ہے :جس عورت کو زنا کا حمل ہے اس سے نکاح ہوسکتا ہے پھر اگر اسی کا وہ حمل ہے تو وطی بھی کرسکتا ہے اور اگر دوسرے کا ہے تو جب تک بچہ نہ پیدا ہو لے وطی جائز نہیں۔ (بہارشریعت جلد2حصہ7صفحہ34) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم التدریس والافتا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas: