Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #34 Verified Hanafi Fiqh 4.2K Views

زندگی کا حمایتی نظام (Life Support System)

Font:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

زندگی کا حمایتی نظام (Life Support System)

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

زندگی کا حمایتی نظام (Life Support System)

۱۹؍ ربیع النور ۱۴۴۰ھ /مطابق ۲۸؍ نومبر ۲۰۱۸ء ـــ بدھ، ـــ صبح ۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ٭ حَامِدًا و مُصَلِّـيًا و مُسَلِّمًـا ﴿خلاصۂ فیصلہ ﴾ ض•  نمونیا اور آپریشن کی صورت میں وینٹی لیٹر کا استعمال مفید ہے کہ عارضی استعمال کے بعد نظام تنفس بحال ہو جاتا ہے ۔ اس لیے اس صورت میں اس کا استعمال جائز اور اولیٰ ہے ۔ •ض ۔ اسی طرح پھیپھڑے جب کم خراب ہوں اور اندازہ ہو کہ کچھ ہی دنوں میں یہ خودکار ہو جائیں گے تو وینٹی لیٹر کا استعمال جائز اور بہتر ہے ۔ ض • اور جب درست ہونے کی صرف ہلکی سی امید ہو تو بھی آدمی تجربہ کرکے نتیجہ دیکھ سکتا ہے ۔ • ض ۔ جب یہ امید منقطع ہو جائے اور مریض کے اشاروں سے اس کے لوگوں کو کچھ فائدہ ہو اور خود مریض بھی کلمہ وغیرہ پڑھنے کا فائدہ حاصل کر سکتا ہو تو ایسی حالت میں بھی وینٹی لیٹر کا ہلکا سا فائدہ ہے ۔ • ض ]   مگر جب یہ فائدہ بھی معدوم ہو جائے تو وینٹی لیٹر کا حاصل بس یہ ہے کہ مریض کرب اور اذیت کے ساتھ سانس لیتا رہے اور سرمایہ برباد ہوتا رہے ایسی حالت میں ہونا یہ چاہیے کہ خدا پر بھروسا کرکے وینٹی لیٹر ہٹا دیا جائے تاکہ مریض کی اذیت اور مال کی بربادی کا سلسلہ بند ہو ۔ ہوگا وہی جو منظور الٰہی ہو ۔ و اللہ تعالیٰ اعلم ۔ جسم کے اندر کچھ اعضا اتنے اہم ہوتے ہیں کہ اگر یہ کام کرنا بند کردیں تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا ۔ خصوصاً’’دماغی نظام‘‘جس سے نظامِ تنفس اور نظامِ قلب وابستہ ہے ۔  اگر اس میں خلل آجائے تو انسا ن موت کے قریب ہو جاتا ہے ۔ ایسی حالت میں ایک خاص طبّی طریقے کو عمل میں لاکر نظام کو جاری رکھا جاتا ہے ۔ اسی طریقۂ عمل کو لائف سپورٹ سسٹم یعنی ’’زندگی کا حمایتی نظام‘‘ ( Life Support System ] کہا جاتا ہے ۔ بعض امراض و حالات میں اس طریقۂ علاج سے اعضا صحت مند ہوکر خود کام کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔  اور بعض حالات میں اعضا قابل عمل نہیں ہوتے مگر اس سسٹم کی وجہ سے زندگی چلتی رہتی ہے ۔ یہ علاج بہت مہنگا ہوتا ہے ۔ کبھی اس میں ہر دن پانی کی طرح روپے بہانا پڑتا ہے ۔ کبھی یہ سارا سرمایہ نگل جاتا ہے اور صحت بھی حاصل نہیں ہوتی ۔

لائف سپورٹ سسٹم کی چار صورتیں ہیں:(Life Support System]

(۱)نظام تنفس کو بحال کرنا ۔ (۲)دل اور پھیپھڑوں کو مصنوعی طریقے سے بحال کرنا ۔ (۳)ڈائلیسس-خون کی تبدیلی اور صفائی ۔ (۴)مصنوعی سیّال غذا دینا ۔ پہلی صورت میںوینٹی لیٹر کا استعمال ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی مشین ہے جو مریض کو سانس لینے میں مدد دیتی ہے ۔ یہ پھیپھڑوں کے اندر ہوا پہنچا کر جسم کو آکسیجن فراہم کرتی ہے اور کاربن ڈائی آکسائڈ کو دور کرتی ہے ۔ نمونیا اور آپریشن کے لیے عارضی طور پر اس کا استعمال ہوتا ہے پھر جب نظام تنفس درست ہو جاتا ہے تو اسے ہٹا دیا جاتا ہے ۔ پھیپھڑے خراب ہونے پر زیادہ عرصے تک اس مشین کے استعمال کی ضرورت ہوتی ہے اس میں کئی صورتیں ہیں: (۱) کبھی پھیپھڑے درست ہوکر کام کرنے لگتے ہیں ۔ (۲) کبھی درست ہونے کی صرف امید ہوتی ہے ۔ (۳) کبھی یہ امید بھی نہیں ہوتی مگر مریض کے اندر باتیں سننے، سمجھنے اور اشاروں سے اپنا مدّعا ظاہر کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔  ایسی حالت میں وہ زیر لب یا دل میں ذکر کرنے اور کلمہ پڑھنے کے لائق ہوتا ہے ۔ (۴) کبھی یہ صلاحیت اور قوت بھی فنا ہو جاتی ہے، صرف سانس کی آمد و رفت جاری رہتی ہے ۔ اور مریض کو بس زندہ کہا جا سکتا ہے ۔ (عمومًا یہ دماغی بیماریوں میں ہوتا ہے ۔)

حکم شرعی:

نمونیا اور آپریشن کی صورت میں وینٹی لیٹر کا استعمال مفید ہے کہ عارضی استعال کے بعد نظام تنفس بحال ہو جاتا ہے ۔  اس لیے اس صورت میں اس کا استعمال جائز اور اولیٰ ہے ۔ اسی طرح پھیپھڑے جب کم خراب ہوں اور اندازہ ہو کہ کچھ ہی دنوں میں یہ خودکار ہو جائیں گے تو وینٹی لیٹر کا استعمال جائز اور بہتر ہے ۔ اور جب درست ہونے کی صرف ہلکی سی امید ہو تو بھی آدمی تجربہ کرکے نتیجہ دیکھ سکتا ہے ۔ جب یہ امید منقطع ہو جائے اور مریض کے اشاروں سے اس کے لوگوں کو کچھ فائدہ ہو اور خود مریض بھی کلمہ وغیرہ پڑھنے کا فائدہ حاصل کر سکتا ہو تو ایسی حالت میں بھی وینٹی لیٹر کا ہلکا سا فائدہ ہے مگر جب یہ فائدہ بھی معدوم ہو جائے تو وینٹی لیٹر کا حاصل بس یہ ہے کہ مریض کرب اور اذیت کے ساتھ سانس لیتا رہے اورسرمایہ برباد ہوتا رہے ایسی حالت میں ہونا یہ چاہیے کہ خدا پر بھروسا کرکے وینٹی لیٹر ہٹا دیا جائے تاکہ مریض کی اذیت اور مال کی بربادی کا سلسلہ بند ہو ۔ ہوگا وہی جو منظور الٰہی ہو ۔ و اللہ تعالیٰ اعلم ۔

لائف سپورٹ سسٹم کا دوسرا طریقہ:(Life Support System

دل اور پھیپھڑوں کو مصنوعی طریقے سے بحال کرنا جسے سی ، آر ، پی کہتے ہیں، اس میں سانس اور نبض کو جاری کرنے کی کوشش ہوتی ہے، یہ بھی جائز ہے ۔ تیسرا طریقہ ڈائلیسس ہے اس سے متعلق ۲۳ ویں فقہی سیمینار منعقدہ ۱۶؍ تا ۱۸؍صفر ۱۴۳۷ھ مطابق ۲۸؍ تا ۳۰؍ نومبر ۲۰۱۵ء میں گفتگو ہو چکی ہے، زیر عنوان : روزے کی حالت میں علاج کے کچھ نئے مسائل ۔ یہ طریقۂ علاج بھی جائز ہے ۔ چوتھا طریقہ مصنوعی سیّال غذا دینا، یہ بھی جائز ہے ۔ واضح رہے کہ علاج صرف وہی واجب ہے جس میں شفا قطعی اور یقینی ہو جیسے سخت پیاسے کا کچھ پی کر یا مرتے ہوئے بھوکے کا کچھ کھاکر جان بچانا ۔ باقی طبی طریقے جن میں شفا کا صرف گمان ہوتا ہے وہ واجب نہیں، محض جائز ہیں ۔ اس کے بھی کئی درجے ہیں ۔ کسی صورت میں علاج کرنا بہتر ہوتا ہے، کسی میں نہ کرنا بہتر ہوتا ہے ۔ بہر صورت ظنّی طریقوں میں اگر انسان نے علاج نہ کیا اور مر گیا تو وہ گنہ گار نہیں جب کہ پہلی قطعی و یقینی شفا والی صورت میں ترک کرنے سے اگر کوئی مر گیا تو وہ گنہ گار ہوگا ۔

فتاوی عالم گیری میں ہے:

ضالِاشْتِغَالُ بِالتَّدَاوِي لَا بَأْسَ بِہ إذَا اعْتَقَدَ أَنَّ الشَّافِيَ ہوَ اللہ تَعَالَی وَأَنَّہ جَعَلَ الدَّوَاءَ سَبَبًا. أَمَّا إذَا اعْتَقَدَ أَنَّ الشَّافِيَ ہوَ الدَّوَاءُ فَلَا .كَذَا فِي السِّرَاجِيَّۃ ۔ (الفتاوی الہنديۃ، ج: ۵، ص: ۳۵۴، الباب الثامن عشر في التداوي و المعالجات و فيہ العزل و إسقاط الولد) ضَلَوْ أَنَّ رَجُلًا ظَہرَ بِہ دَاءٌ فَقَالَ لَہ الطَّبِيبُ قَدْ غَلَبَ عَلَيْك الدَّمُ فَأَخْرِجْہ فَلَمْ يَفْعَلْ حَتَّی مَاتَ لَا يَكُونُ آثِمًا لِأَنَّہ لَمْ يَتَيَقَّنْ أَنَّ شِفَاءَہ فِيہ كَذَا فِي فَتَاوَی قَاضِي خَانْ.(الفتاوی الہنديۃ، ج: ۵، ص: ۳۵۴/۳۵۵ ، الباب الثامن عشر في التداوي و المعالجات و فيہ العزل و إسقاط الولد ۔ ) ض ۔ مَرِضَ أَوْ رَمِدَ فَلَمْ يُعَالِجْ حَتَّی مَاتَ لَا يَأْثَمُ كَذَا فِي الْمُلْتَقَطِ .وَالرَّجُلُ إذَا اسْتَطْلَقَ بَطْنُہ أَوْ رَمِدَتْ عَيْنَاہ فَلَمْ يُعَالِجْ حَتَّی أَضْعَفَہ ذَلِكَ وَأَضْنَاہ وَمَاتَ مِنْہ لَا إثْمَ عَلَيْہ. فَرْقٌ بَيْنَ ہذَا وَبَيْنَمَا إذَا جَاعَ وَلَمْ يَأْكُلْ مَعَ الْقُدْرَۃ حَتَّی مَاتَ حَيْثُ يَأْثَمُ وَالْفَرْقُ أَنَّ الْأَكْلَ مِقْدَارَ قُوتِہ مُشْبِعٌ بِيَقِينٍ فَكَانَ تَرْكُہ إہلَاكًا وَلَا كَذَلِكَ الْمُعَالَجَۃ وَالتَّدَاوِي كَذَا فِي الظَّہيرِيَّۃ .(الفتاوی الہنديۃ، ج: ۵، ص: ۳۵۵ ، الباب الثامن عشر في التداوي و المعالجات و فيہ العزل و إسقاط الولد) اس باب میں ضابطۂ کلیہ یہ ہے: ضاعْلَمْ أنَّ الْأَسْبَابَ الْمُزِيلَۃ لِلضَّرَرِ تَنْقَسِمُ إلَیمَقْطُوعٍ بِہ كَالْمَاءِ الْمُزِيلِ لِضَرَرِ الْعَطَشِ وَالْخُبْزِ الْمُزِيلِ لِضَرَرِ الْجُوعِ وَإِلَیمَظْنُونٍ كَالْفَصْدِ وَالْحِجَامَۃ وَشُرْبِ الْمُسْہلِ وَسَائِرِ أَبْوَابِ الطِّبِّ أَعْنِي مُعَالَجَۃ الْبُرُودَۃ بِالْحَرَارَۃ وَمُعَالَجَۃ الْحَرَارَۃ بِالْبُرُودَۃ وَہيَ الْأَسْبَابُ الظَّاہرَۃ فِي الطِّبِّ وَإِلَی مَوْہومٍ كَالْكَيِّ وَالرُّقْيَۃ . أَمَّا الْمَقْطُوعُ بِہ فَلَيْسَ تَرْكُہ مِنْ التَّوَكُّلِ بَلْ تَرْكُہ حَرَامٌ عِنْدَ خَوْفِ الْمَوْت . وَأَمَّا الْمَوْہومُ فَشَرْطُ التَّوَكُّلِ تَرْكُہ إذْ بِہ وَصَفَ رَسُولُ اللہ- صَلَّی اللہ عَلَيْہ وَسَلَّمَ وَآلِہِ الْمُتَوَكِّلِينَ. وَأَمَّا الدَّرَجَۃ الْمُتَوَسِّطَۃ وَہيَ الْمَظْنُونَۃ كَالْمُدَاوَاۃ بِالْأَسْبَابِ الظَّاہرَۃ عِنْدَ الْأَطِبَّاءِ فَفِعْلُہ لَيْسَ مُنَاقِضًا لِلتَّوَكُّلِ بِخِلَافِ الْمَوْہومِ وَتَرْكُہ لَيْسَ مَحْظُورًا بِخِلَافِ الْمَقْطُوعِ بِہ بَلْ قَدْ يَكُونُ أَفْضَلَ مِنْ فِعْلِہ فِي بَعْضِ الْأَحْوَالِ وَفِي حَقِّ بَعْضِ الْأَشْخَاصِ فَہوَ عَلَی دَرَجَۃ بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَذَا فِي الْفُصُولِ الْعِمَادِيَّۃ فِي الْفَصْلِ الرَّابِعِ وَالثَّلَاثِينَ. (الفتاوی الہنديۃ، کتاب الراہيۃ، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات) واللہ تعالیٰ اعلم ۔ مزید مطالعہ کریں ۔۔۔۔

فاریکس ٹریڈنگ کی شرعی حیثیت Forex traiding ki sharai hasiyat

مٹیریل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے ساتھ تعمیر کا ٹھیکہ لینا کیسا ہے 

 

Written By Allama Mufti Nzamuddin Misbahi . Principal Jamia Ashrafia Mubarakpur

Kutubahu & Verified by:

<h2>زندگی کا حمایتی نظام (Life Support System)</h2> ۱۹؍ ربیع النور ۱۴۴۰ھ /مطابق ۲۸؍ نومبر ۲۰۱۸ء ـــ بدھ، ـــ صبح ۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ٭ حَامِدًا و مُصَلِّـيًا و مُسَلِّمًـا ﴿خلاصۂ فیصلہ ﴾ ض•  نمونیا اور آپریشن کی صورت میں وینٹی لیٹر کا استعمال مفید ہے کہ عارضی استعمال کے بعد نظام تنفس بحال ہو جاتا ہے ۔ اس لیے اس صورت میں اس کا استعمال جائز اور اولیٰ ہے ۔ •ض ۔ اسی طرح پھیپھڑے جب کم خراب ہوں اور اندازہ ہو کہ کچھ ہی دنوں میں یہ خودکار ہو جائیں گے تو وینٹی لیٹر کا استعمال جائز اور بہتر ہے ۔ ض • اور جب درست ہونے کی صرف ہلکی سی امید ہو تو بھی آدمی تجربہ کرکے نتیجہ دیکھ سکتا ہے ۔ • ض ۔ جب یہ امید منقطع ہو جائے اور مریض کے اشاروں سے اس کے لوگوں کو کچھ فائدہ ہو اور خود مریض بھی کلمہ وغیرہ پڑھنے کا فائدہ حاصل کر سکتا ہو تو ایسی حالت میں بھی وینٹی لیٹر کا ہلکا سا فائدہ ہے ۔ • ض ]   مگر جب یہ فائدہ بھی معدوم ہو جائے تو وینٹی لیٹر کا حاصل بس یہ ہے کہ مریض کرب اور اذیت کے ساتھ سانس لیتا رہے اور سرمایہ برباد ہوتا رہے ایسی حالت میں ہونا یہ چاہیے کہ خدا پر بھروسا کرکے وینٹی لیٹر ہٹا دیا جائے تاکہ مریض کی اذیت اور مال کی بربادی کا سلسلہ بند ہو ۔ ہوگا وہی جو منظور الٰہی ہو ۔ و اللہ تعالیٰ اعلم ۔ جسم کے اندر کچھ اعضا اتنے اہم ہوتے ہیں کہ اگر یہ کام کرنا بند کردیں تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا ۔ خصوصاً’’دماغی نظام‘‘جس سے نظامِ تنفس اور نظامِ قلب وابستہ ہے ۔  اگر اس میں خلل آجائے تو انسا ن موت کے قریب ہو جاتا ہے ۔ ایسی حالت میں ایک خاص طبّی طریقے کو عمل میں لاکر نظام کو جاری رکھا جاتا ہے ۔ اسی طریقۂ عمل کو لائف سپورٹ سسٹم یعنی ’’زندگی کا حمایتی نظام‘‘ ( Life Support System ] کہا جاتا ہے ۔ بعض امراض و حالات میں اس طریقۂ علاج سے اعضا صحت مند ہوکر خود کام کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔  اور بعض حالات میں اعضا قابل عمل نہیں ہوتے مگر اس سسٹم کی وجہ سے زندگی چلتی رہتی ہے ۔ یہ علاج بہت مہنگا ہوتا ہے ۔ کبھی اس میں ہر دن پانی کی طرح روپے بہانا پڑتا ہے ۔ کبھی یہ سارا سرمایہ نگل جاتا ہے اور صحت بھی حاصل نہیں ہوتی ۔ <h3>لائف سپورٹ سسٹم کی چار صورتیں ہیں:(Life Support System]</h3> (۱)نظام تنفس کو بحال کرنا ۔ (۲)دل اور پھیپھڑوں کو مصنوعی طریقے سے بحال کرنا ۔ (۳)ڈائلیسس-خون کی تبدیلی اور صفائی ۔ (۴)مصنوعی سیّال غذا دینا ۔ پہلی صورت میںوینٹی لیٹر کا استعمال ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی مشین ہے جو مریض کو سانس لینے میں مدد دیتی ہے ۔ یہ پھیپھڑوں کے اندر ہوا پہنچا کر جسم کو آکسیجن فراہم کرتی ہے اور کاربن ڈائی آکسائڈ کو دور کرتی ہے ۔ نمونیا اور آپریشن کے لیے عارضی طور پر اس کا استعمال ہوتا ہے پھر جب نظام تنفس درست ہو جاتا ہے تو اسے ہٹا دیا جاتا ہے ۔ پھیپھڑے خراب ہونے پر زیادہ عرصے تک اس مشین کے استعمال کی ضرورت ہوتی ہے اس میں کئی صورتیں ہیں: (۱) کبھی پھیپھڑے درست ہوکر کام کرنے لگتے ہیں ۔ (۲) کبھی درست ہونے کی صرف امید ہوتی ہے ۔ (۳) کبھی یہ امید بھی نہیں ہوتی مگر مریض کے اندر باتیں سننے، سمجھنے اور اشاروں سے اپنا مدّعا ظاہر کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔  ایسی حالت میں وہ زیر لب یا دل میں ذکر کرنے اور کلمہ پڑھنے کے لائق ہوتا ہے ۔ (۴) کبھی یہ صلاحیت اور قوت بھی فنا ہو جاتی ہے، صرف سانس کی آمد و رفت جاری رہتی ہے ۔ اور مریض کو بس زندہ کہا جا سکتا ہے ۔ (عمومًا یہ دماغی بیماریوں میں ہوتا ہے ۔) <h4><em>حکم شرعی:</em></h4> نمونیا اور آپریشن کی صورت میں وینٹی لیٹر کا استعمال مفید ہے کہ عارضی استعال کے بعد نظام تنفس بحال ہو جاتا ہے ۔  اس لیے اس صورت میں اس کا استعمال جائز اور اولیٰ ہے ۔ اسی طرح پھیپھڑے جب کم خراب ہوں اور اندازہ ہو کہ کچھ ہی دنوں میں یہ خودکار ہو جائیں گے تو وینٹی لیٹر کا استعمال جائز اور بہتر ہے ۔ اور جب درست ہونے کی صرف ہلکی سی امید ہو تو بھی آدمی تجربہ کرکے نتیجہ دیکھ سکتا ہے ۔ جب یہ امید منقطع ہو جائے اور مریض کے اشاروں سے اس کے لوگوں کو کچھ فائدہ ہو اور خود مریض بھی کلمہ وغیرہ پڑھنے کا فائدہ حاصل کر سکتا ہو تو ایسی حالت میں بھی وینٹی لیٹر کا ہلکا سا فائدہ ہے مگر جب یہ فائدہ بھی معدوم ہو جائے تو وینٹی لیٹر کا حاصل بس یہ ہے کہ مریض کرب اور اذیت کے ساتھ سانس لیتا رہے اورسرمایہ برباد ہوتا رہے ایسی حالت میں ہونا یہ چاہیے کہ خدا پر بھروسا کرکے وینٹی لیٹر ہٹا دیا جائے تاکہ مریض کی اذیت اور مال کی بربادی کا سلسلہ بند ہو ۔ ہوگا وہی جو منظور الٰہی ہو ۔ و اللہ تعالیٰ اعلم ۔ <h2>لائف سپورٹ سسٹم کا دوسرا طریقہ:(Life Support System</h2> دل اور پھیپھڑوں کو مصنوعی طریقے سے بحال کرنا جسے سی ، آر ، پی کہتے ہیں، اس میں سانس اور نبض کو جاری کرنے کی کوشش ہوتی ہے، یہ بھی جائز ہے ۔ تیسرا طریقہ ڈائلیسس ہے اس سے متعلق ۲۳ ویں فقہی سیمینار منعقدہ ۱۶؍ تا ۱۸؍صفر ۱۴۳۷ھ مطابق ۲۸؍ تا ۳۰؍ نومبر ۲۰۱۵ء میں گفتگو ہو چکی ہے، زیر عنوان : روزے کی حالت میں علاج کے کچھ نئے مسائل ۔ یہ طریقۂ علاج بھی جائز ہے ۔ چوتھا طریقہ مصنوعی سیّال غذا دینا، یہ بھی جائز ہے ۔ واضح رہے کہ علاج صرف وہی واجب ہے جس میں شفا قطعی اور یقینی ہو جیسے سخت پیاسے کا کچھ پی کر یا مرتے ہوئے بھوکے کا کچھ کھاکر جان بچانا ۔ باقی طبی طریقے جن میں شفا کا صرف گمان ہوتا ہے وہ واجب نہیں، محض جائز ہیں ۔ اس کے بھی کئی درجے ہیں ۔ کسی صورت میں علاج کرنا بہتر ہوتا ہے، کسی میں نہ کرنا بہتر ہوتا ہے ۔ بہر صورت ظنّی طریقوں میں اگر انسان نے علاج نہ کیا اور مر گیا تو وہ گنہ گار نہیں جب کہ پہلی قطعی و یقینی شفا والی صورت میں ترک کرنے سے اگر کوئی مر گیا تو وہ گنہ گار ہوگا ۔ <h4><em>فتاوی عالم گیری میں ہے:</em></h4> ضالِاشْتِغَالُ بِالتَّدَاوِي لَا بَأْسَ بِہ إذَا اعْتَقَدَ أَنَّ الشَّافِيَ ہوَ اللہ تَعَالَی وَأَنَّہ جَعَلَ الدَّوَاءَ سَبَبًا. أَمَّا إذَا اعْتَقَدَ أَنَّ الشَّافِيَ ہوَ الدَّوَاءُ فَلَا .كَذَا فِي السِّرَاجِيَّۃ ۔ (الفتاوی الہنديۃ، ج: ۵، ص: ۳۵۴، الباب الثامن عشر في التداوي و المعالجات و فيہ العزل و إسقاط الولد) ضَلَوْ أَنَّ رَجُلًا ظَہرَ بِہ دَاءٌ فَقَالَ لَہ الطَّبِيبُ قَدْ غَلَبَ عَلَيْك الدَّمُ فَأَخْرِجْہ فَلَمْ يَفْعَلْ حَتَّی مَاتَ لَا يَكُونُ آثِمًا لِأَنَّہ لَمْ يَتَيَقَّنْ أَنَّ شِفَاءَہ فِيہ كَذَا فِي فَتَاوَی قَاضِي خَانْ.(الفتاوی الہنديۃ، ج: ۵، ص: ۳۵۴/۳۵۵ ، الباب الثامن عشر في التداوي و المعالجات و فيہ العزل و إسقاط الولد ۔ ) ض ۔ مَرِضَ أَوْ رَمِدَ فَلَمْ يُعَالِجْ حَتَّی مَاتَ لَا يَأْثَمُ كَذَا فِي الْمُلْتَقَطِ .وَالرَّجُلُ إذَا اسْتَطْلَقَ بَطْنُہ أَوْ رَمِدَتْ عَيْنَاہ فَلَمْ يُعَالِجْ حَتَّی أَضْعَفَہ ذَلِكَ وَأَضْنَاہ وَمَاتَ مِنْہ لَا إثْمَ عَلَيْہ. فَرْقٌ بَيْنَ ہذَا وَبَيْنَمَا إذَا جَاعَ وَلَمْ يَأْكُلْ مَعَ الْقُدْرَۃ حَتَّی مَاتَ حَيْثُ يَأْثَمُ وَالْفَرْقُ أَنَّ الْأَكْلَ مِقْدَارَ قُوتِہ مُشْبِعٌ بِيَقِينٍ فَكَانَ تَرْكُہ إہلَاكًا وَلَا كَذَلِكَ الْمُعَالَجَۃ وَالتَّدَاوِي كَذَا فِي الظَّہيرِيَّۃ .(الفتاوی الہنديۃ، ج: ۵، ص: ۳۵۵ ، الباب الثامن عشر في التداوي و المعالجات و فيہ العزل و إسقاط الولد) اس باب میں ضابطۂ کلیہ یہ ہے: ضاعْلَمْ أنَّ الْأَسْبَابَ الْمُزِيلَۃ لِلضَّرَرِ تَنْقَسِمُ إلَیمَقْطُوعٍ بِہ كَالْمَاءِ الْمُزِيلِ لِضَرَرِ الْعَطَشِ وَالْخُبْزِ الْمُزِيلِ لِضَرَرِ الْجُوعِ وَإِلَیمَظْنُونٍ كَالْفَصْدِ وَالْحِجَامَۃ وَشُرْبِ الْمُسْہلِ وَسَائِرِ أَبْوَابِ الطِّبِّ أَعْنِي مُعَالَجَۃ الْبُرُودَۃ بِالْحَرَارَۃ وَمُعَالَجَۃ الْحَرَارَۃ بِالْبُرُودَۃ وَہيَ الْأَسْبَابُ الظَّاہرَۃ فِي الطِّبِّ وَإِلَی مَوْہومٍ كَالْكَيِّ وَالرُّقْيَۃ . أَمَّا الْمَقْطُوعُ بِہ فَلَيْسَ تَرْكُہ مِنْ التَّوَكُّلِ بَلْ تَرْكُہ حَرَامٌ عِنْدَ خَوْفِ الْمَوْت . وَأَمَّا الْمَوْہومُ فَشَرْطُ التَّوَكُّلِ تَرْكُہ إذْ بِہ وَصَفَ رَسُولُ اللہ- صَلَّی اللہ عَلَيْہ وَسَلَّمَ وَآلِہِ الْمُتَوَكِّلِينَ. وَأَمَّا الدَّرَجَۃ الْمُتَوَسِّطَۃ وَہيَ الْمَظْنُونَۃ كَالْمُدَاوَاۃ بِالْأَسْبَابِ الظَّاہرَۃ عِنْدَ الْأَطِبَّاءِ فَفِعْلُہ لَيْسَ مُنَاقِضًا لِلتَّوَكُّلِ بِخِلَافِ الْمَوْہومِ وَتَرْكُہ لَيْسَ مَحْظُورًا بِخِلَافِ الْمَقْطُوعِ بِہ بَلْ قَدْ يَكُونُ أَفْضَلَ مِنْ فِعْلِہ فِي بَعْضِ الْأَحْوَالِ وَفِي حَقِّ بَعْضِ الْأَشْخَاصِ فَہوَ عَلَی دَرَجَۃ بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَذَا فِي الْفُصُولِ الْعِمَادِيَّۃ فِي الْفَصْلِ الرَّابِعِ وَالثَّلَاثِينَ. (الفتاوی الہنديۃ، کتاب الراہيۃ، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات) واللہ تعالیٰ اعلم ۔ مزید مطالعہ کریں ۔۔۔۔ <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=189" rel="bookmark">فاریکس ٹریڈنگ کی شرعی حیثیت Forex traiding ki sharai hasiyat</a></h2> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=191" rel="bookmark">مٹیریل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے ساتھ تعمیر کا ٹھیکہ لینا کیسا ہے </a></h2>   <p style="text-align: left;"><strong>Written By Allama Mufti Nzamuddin Misbahi . Principal Jamia Ashrafia Mubarakpur</strong></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas: