Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1711
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
6.7K Views
زکوٰۃ کا نصاب اور زکوٰۃ فرض ہونے کی شرائط
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
زکوٰۃ کا نصاب اور زکوٰۃ فرض ہونے کی شرائط
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
زکوٰۃ کا نصاب اور زکوٰۃ فرض ہونے کی شرائط
سوال :: زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟ اور زکوٰۃ فرض ہونے کی شرائط کیا ہیں؟ تفصیل سے بتائیں کرم ہو گا؟؟ اللہ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے گا ان شاء اللہ سائل : سید سلمان نوری، ہبلی کرناٹک الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب زکوٰۃ کے نصاب کی کم از کم مقدار ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت کے برابر ہے جو سال کے جمع شدہ مال پر اڑھائی فیصد کی شرح سے مقرر کی گئی ہے۔ یہ مال کی کم سے کم مقدار ہے جس پر زکوٰۃ کی فرضیت عائد ہوتی ہے۔ اس سے انکار انسان کو دائرہ اسلام سے ہی خارج کر دیتا ہے اور اس سے پہلو تہی مسلمان کے ایمان و اسلام کو خطرہ میں ڈال دیتی ہے۔ (شرنبلالی، نور الإيضاح، 1: 147) (زحيلی، الفقه الاسلامی و ادلته، 2: 733) (جزيری، کتاب الفقه علی المذاهب الأربعة، 1: 958) مزید آسانی سے اس طرح سمجھیں کہ… جس عاقل بالغ مسلمان کے پاس صرف سونا ہو (یعنی اس کے علاوہ نقدی وغیرہ کچھ نہ ہو) تو اس کا نصاب ساڑھے سات تولہ سونا ہے اور اگر چاندی ہے تو نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی ہے، اگر سونا اور چاندی دونوں کچھ کچھ ہوں، یا ان کے ساتھ مالِ تجارت یا نقدی ہو، یا صرف نقدی یا مالِ تجارت ہو تو ان سب صورتوں میں چاندی کے نصاب کو معیار بنایا جائے گا، یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی جو موجودہ قیمت بنتی ہے اس کے برابر یااس سے زائد نقد رقم یا مال تجارت ہوتو اسے صاحب نصاب کہا جائے گا اور اس نصاب پر سال گزرنے پر زکاۃ لازم ہوگی۔ زکوٰۃ فرض ہونے کی شرائط درج ذیل ہیں 1۔ مسلمان ہونا : زکوٰۃ مسلمان پر فرض ہے، کافر اور مرتد پر نہیں۔ 2۔ بالغ ہونا : زکوٰۃ بالغ مسلمان پر فرض ہے، نابالغ زکوٰۃ کی فرضیت کے حکم سے مستثنیٰ الگ ہے۔ 3۔ عاقل ہونا : زکوٰۃ عاقل مسلمان پر فرض ہے، دیوانے پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔ 4۔ آزاد ہونا : زکوٰۃ آزاد و خود مختار پر فرض ہے، غلام پر نہیں۔ 5۔ مالک نصاب ہونا : شریعت کے مقرر کردہ نصاب سے کم مال کے مالک پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔ 6۔ مال کا صاحبِ نصاب کے تصرف میں ہونا : مال صاحبِ نصاب کے تصرف میں ہو تو تب ہی اس پر زکوٰۃ فرض ہے مثلاً کسی نے اپنا مال زمین میں دفن کر دیا اور جگہ بھول گیا اور پھر برسوں بعد وہ جگہ یاد آئی اور مال مل گیا، تو جب تک مال نہ ملا تھا اس زمانہ کی زکوٰۃ واجب نہیں کیونکہ وہ اس عرصہ میں نصاب کا مالک تو تھا مگر قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے پورے طور پر مالک نہ تھا۔ 7۔ صاحبِ نصاب کا قرض سے فارغ ہونا : مثلاً کسی کے پاس مقررہ نصاب کے برابر مال تو ہے مگر وہ اتنے مال کا مقروض بھی ہے تو اس کا مال قرض سے فارغ نہیں ہے لہٰذا اس پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ 8۔ نصاب کا حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہونا : حاجتِ اصلیہ سے مراد یہ ہے کہ آدمی کو زندگی بسر کرنے میں بعض بنیادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جیسے رہنے کیلئے مکان، پہننے کیلئے بلحاظ موسم کپڑے اور دیگر گھریلو اشیائے ضرورت جیسے برتن، وغیرہ۔ اگرچہ یہ سب سامان زکوٰۃ کے مقررہ نصاب سے زائد مالیت کا ہی ہو مگر اس پر زکوٰۃ نہیں ہوگی کیونکہ یہ سب مال و سامان حاجتِ اصلیہ میں آتا ہے۔ 9۔ مالِ نامی ہونا : یعنی مال بڑھنے والا ہو خواہ حقیقتاً بڑھنے والا مال ہو جیسے مال تجارت اور چرائی پر چھوڑے ہوئے جانور یا حکماً بڑھنے والا مال ہو جیسے سونا چاندی۔ یہ ایسا مال ہے جس کی قیمت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور اس کے بدلے دیگر اشیاء خریدی جاسکتی ہیں۔ لہٰذا سونا چاندی جس حال میں بھی ہو خواہ زیورات اور برتنوں کی شکل میں ہو یا زمین میں دفن ہو ہر حال میں یہ مالِ نامی یعنی بڑھنے والا مال ہے اور ان پر زکوٰۃ واجب ہے۔ 10۔ مالِ نصاب کی مدت : نصاب کا مال پورا ہوتے ہی زکوٰۃ فرض نہیں ہو گی بلکہ ایک سال تک وہ نصاب مِلک میں باقی رہے تو سال پورا ہونے کے بعد اس پرزکوٰۃ نکالی جائے گی۔ (شرنبلالی، نورالايضاح، 146) ( سرخسی، المبسوط، 2 : 172) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
Kutubahu & Verified by:
<h2>زکوٰۃ کا نصاب اور زکوٰۃ فرض ہونے کی شرائط</h2> سوال :: زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟ اور زکوٰۃ فرض ہونے کی شرائط کیا ہیں؟ تفصیل سے بتائیں کرم ہو گا؟؟ اللہ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے گا ان شاء اللہ سائل : سید سلمان نوری، ہبلی کرناٹک <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</strong></span> زکوٰۃ کے نصاب کی کم از کم مقدار ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت کے برابر ہے جو سال کے جمع شدہ مال پر اڑھائی فیصد کی شرح سے مقرر کی گئی ہے۔ یہ مال کی کم سے کم مقدار ہے جس پر زکوٰۃ کی فرضیت عائد ہوتی ہے۔ اس سے انکار انسان کو دائرہ اسلام سے ہی خارج کر دیتا ہے اور اس سے پہلو تہی مسلمان کے ایمان و اسلام کو خطرہ میں ڈال دیتی ہے۔ (شرنبلالی، نور الإيضاح، 1: 147) (زحيلی، الفقه الاسلامی و ادلته، 2: 733) (جزيری، کتاب الفقه علی المذاهب الأربعة، 1: 958) مزید آسانی سے اس طرح سمجھیں کہ... جس عاقل بالغ مسلمان کے پاس صرف سونا ہو (یعنی اس کے علاوہ نقدی وغیرہ کچھ نہ ہو) تو اس کا نصاب ساڑھے سات تولہ سونا ہے اور اگر چاندی ہے تو نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی ہے، اگر سونا اور چاندی دونوں کچھ کچھ ہوں، یا ان کے ساتھ مالِ تجارت یا نقدی ہو، یا صرف نقدی یا مالِ تجارت ہو تو ان سب صورتوں میں چاندی کے نصاب کو معیار بنایا جائے گا، یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی جو موجودہ قیمت بنتی ہے اس کے برابر یااس سے زائد نقد رقم یا مال تجارت ہوتو اسے صاحب نصاب کہا جائے گا اور اس نصاب پر سال گزرنے پر زکاۃ لازم ہوگی۔ زکوٰۃ فرض ہونے کی شرائط درج ذیل ہیں 1۔ مسلمان ہونا : زکوٰۃ مسلمان پر فرض ہے، کافر اور مرتد پر نہیں۔ 2۔ بالغ ہونا : زکوٰۃ بالغ مسلمان پر فرض ہے، نابالغ زکوٰۃ کی فرضیت کے حکم سے مستثنیٰ الگ ہے۔ 3۔ عاقل ہونا : زکوٰۃ عاقل مسلمان پر فرض ہے، دیوانے پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔ 4۔ آزاد ہونا : زکوٰۃ آزاد و خود مختار پر فرض ہے، غلام پر نہیں۔ 5۔ مالک نصاب ہونا : شریعت کے مقرر کردہ نصاب سے کم مال کے مالک پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔ 6۔ مال کا صاحبِ نصاب کے تصرف میں ہونا : مال صاحبِ نصاب کے تصرف میں ہو تو تب ہی اس پر زکوٰۃ فرض ہے مثلاً کسی نے اپنا مال زمین میں دفن کر دیا اور جگہ بھول گیا اور پھر برسوں بعد وہ جگہ یاد آئی اور مال مل گیا، تو جب تک مال نہ ملا تھا اس زمانہ کی زکوٰۃ واجب نہیں کیونکہ وہ اس عرصہ میں نصاب کا مالک تو تھا مگر قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے پورے طور پر مالک نہ تھا۔ 7۔ صاحبِ نصاب کا قرض سے فارغ ہونا : مثلاً کسی کے پاس مقررہ نصاب کے برابر مال تو ہے مگر وہ اتنے مال کا مقروض بھی ہے تو اس کا مال قرض سے فارغ نہیں ہے لہٰذا اس پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ 8۔ نصاب کا حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہونا : حاجتِ اصلیہ سے مراد یہ ہے کہ آدمی کو زندگی بسر کرنے میں بعض بنیادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جیسے رہنے کیلئے مکان، پہننے کیلئے بلحاظ موسم کپڑے اور دیگر گھریلو اشیائے ضرورت جیسے برتن، وغیرہ۔ اگرچہ یہ سب سامان زکوٰۃ کے مقررہ نصاب سے زائد مالیت کا ہی ہو مگر اس پر زکوٰۃ نہیں ہوگی کیونکہ یہ سب مال و سامان حاجتِ اصلیہ میں آتا ہے۔ 9۔ مالِ نامی ہونا : یعنی مال بڑھنے والا ہو خواہ حقیقتاً بڑھنے والا مال ہو جیسے مال تجارت اور چرائی پر چھوڑے ہوئے جانور یا حکماً بڑھنے والا مال ہو جیسے سونا چاندی۔ یہ ایسا مال ہے جس کی قیمت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور اس کے بدلے دیگر اشیاء خریدی جاسکتی ہیں۔ لہٰذا سونا چاندی جس حال میں بھی ہو خواہ زیورات اور برتنوں کی شکل میں ہو یا زمین میں دفن ہو ہر حال میں یہ مالِ نامی یعنی بڑھنے والا مال ہے اور ان پر زکوٰۃ واجب ہے۔ 10۔ مالِ نصاب کی مدت : نصاب کا مال پورا ہوتے ہی زکوٰۃ فرض نہیں ہو گی بلکہ ایک سال تک وہ نصاب مِلک میں باقی رہے تو سال پورا ہونے کے بعد اس پرزکوٰۃ نکالی جائے گی۔ (شرنبلالی، نورالايضاح، 146) ( سرخسی، المبسوط، 2 : 172) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم التدریس والافتا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...