Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #29 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.6K Views

زکوٰۃ کے لیے فقیرکومالک بناناضروری ہے ۔ زکوۃ کے مسائل

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

زکوٰۃ کے لیے فقیرکومالک بناناضروری ہے ۔ زکوۃ کے مسائل

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

زکوٰۃ کے لیے فقیرکومالک بناناضروری ہے  ۔

سوال : نوٹ بندی کے تقریباًایک سال بعد صندوق میں رکھی ہوئی قدیم کرنسی میں گیارہ ہزارروپیہ ملاجوایک لفافے میں ہےجس کے اوپرزکاۃ لکھاہواہے ۔ا ب جب کہ نوٹ بندی کوایک سال ہوچکے ہیں ۔ اگراس کوباہربنیوں کے وہاں بدلیں تو مقررہ روپے سے کم قیمت ملنے کاامکان ہے توجورقم کم ہوتی ہے اس کی بھرپائی ہمارے ذمے ہے یاشرعاًہم اس سے بری ہیں ۔ کیا ایسی صورت میں زکوٰۃ کے لیے فقیرکومالک بناناضروری ہے ۔ ظاہرہے یہ غلطی سے رہ گیاہے نہ کہ دانستہ ۔ بینک میں تبدیلی کے امکانات اور اس کی دقتوں سے حضرت خوب واقف ہیں۔ المستفتی:محمدظفرالحق ،گھوسی، ضلع مئو،یوپی جواب :  زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے فقیرکومالک بنانا ضروری ہے ۔ ساتھ ہی قبضہ دینا ضروری ہے ۔جب زکوٰۃ کی رقم آپ کے پاس رکھی رہی اگرچہ بھول سے سہی ،فقیرکومالک وقابض نہ کیاتوزکوٰہ ہرگزنہیں اداہوئی ۔رائج روپے سے یہ پوری زکوٰہ اداکی جائے ۔بھول کی وجہ سے یہ راحت ملے گی کہ ادائیگی میں تاخیرکاگناہ نہ ہوگا ۔ فرض کیجیے آپ کے ذمے کسی کاقرض ہو جسے اداکرنے کے لیے آپ نے روپے الگ کرکے رکھ لیے ۔ بھول سے ادائیگی میں دیرہوئی ، یہا ںتک کہ ان روپیوں کاچلن جاتارہا تو ظاہر سی بات ہے کہ اس کی وجہ سے قرض معاف نہ ہوگابلکہ رائج روپیوں سے ادائیگی لازم ہوگی ۔ وہی حال یہاں بھی ہے کہ زکوٰۃ بندے کے ذمے اللہ کا قرض ہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔

Written by Allama Mufti Nizamuddin

Jamia Ashrafia Mubarakpur

مزید مطالعہ کریں ۔

ذاتی زمین خریدنے کے لیے مدرسے کاپیسہ استعمال کرنا

حائضہ عورت کاقصیدہ بردہ شریف وغیرہ پڑھنا ۔

 

Kutubahu & Verified by:

<h2>زکوٰۃ کے لیے فقیرکومالک بناناضروری ہے  ۔</h2> <em>سوال : </em> نوٹ بندی کے تقریباًایک سال بعد صندوق میں رکھی ہوئی قدیم کرنسی میں گیارہ ہزارروپیہ ملاجوایک لفافے میں ہےجس کے اوپرزکاۃ لکھاہواہے ۔ا ب جب کہ نوٹ بندی کوایک سال ہوچکے ہیں ۔ اگراس کوباہربنیوں کے وہاں بدلیں تو مقررہ روپے سے کم قیمت ملنے کاامکان ہے توجورقم کم ہوتی ہے اس کی بھرپائی ہمارے ذمے ہے یاشرعاًہم اس سے بری ہیں ۔ کیا ایسی صورت میں زکوٰۃ کے لیے فقیرکومالک بناناضروری ہے ۔ ظاہرہے یہ غلطی سے رہ گیاہے نہ کہ دانستہ ۔ بینک میں تبدیلی کے امکانات اور اس کی دقتوں سے حضرت خوب واقف ہیں۔ المستفتی:محمدظفرالحق ،گھوسی، ضلع مئو،یوپی <em><strong>جواب : </strong></em> زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے فقیرکومالک بنانا ضروری ہے ۔ ساتھ ہی قبضہ دینا ضروری ہے ۔جب زکوٰۃ کی رقم آپ کے پاس رکھی رہی اگرچہ بھول سے سہی ،فقیرکومالک وقابض نہ کیاتوزکوٰہ ہرگزنہیں اداہوئی ۔رائج روپے سے یہ پوری زکوٰہ اداکی جائے ۔بھول کی وجہ سے یہ راحت ملے گی کہ ادائیگی میں تاخیرکاگناہ نہ ہوگا ۔ فرض کیجیے آپ کے ذمے کسی کاقرض ہو جسے اداکرنے کے لیے آپ نے روپے الگ کرکے رکھ لیے ۔ بھول سے ادائیگی میں دیرہوئی ، یہا ںتک کہ ان روپیوں کاچلن جاتارہا تو ظاہر سی بات ہے کہ اس کی وجہ سے قرض معاف نہ ہوگابلکہ رائج روپیوں سے ادائیگی لازم ہوگی ۔ وہی حال یہاں بھی ہے کہ زکوٰۃ بندے کے ذمے اللہ کا قرض ہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔ <p style="text-align: left;">Written by Allama Mufti Nizamuddin</p> <p style="text-align: left;">Jamia Ashrafia Mubarakpur</p> مزید مطالعہ کریں ۔ <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=138" rel="bookmark">ذاتی زمین خریدنے کے لیے مدرسے کاپیسہ استعمال کرنا</a></h2> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=178" rel="bookmark">حائضہ عورت کاقصیدہ بردہ شریف وغیرہ پڑھنا ۔</a></h2>  

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...