Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1301
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8K Views
سجدہ سہو واجب تھا لیکن بھول کر چھوٹ گیا تو کیا حکم ہے
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
سجدہ سہو واجب تھا لیکن بھول کر چھوٹ گیا تو کیا حکم ہے
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
سجدہ سہو واجب تھا لیکن بھول کر چھوٹ گیا تو کیا حکم ہے
السلامُ علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیافرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ امام سے نماز میں بھول سے واجبات چھوٹ گئے اب امام نے بھول سے سجدۂ سہو بھی کرنا بھول گیا اور سلام پھیر دیا تو اب کیا کرے نماز پھر سے دہرائے یا کیا کرے تسلی بخش جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں ۔ سائل : ابوالکلام قادری جھارکھنڈ کوڈرما ۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب اگر بھول کر سلام پھیر دیا اور حرمت نماز میں ہے یعنی کوئی ایسی چیز نہیں کی ہے جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔اور سلام پھیرتے ہی فورا اسے یاد آ گیا کہ سجدہ سہو نہیں کیا ہے تو سجدہ سہو کرے پھر تحیات وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے۔ اور اگر حرمت نماز میں نہیں ہے یعنی کوئی ایسا کام کر لیا ہے جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے تو اب نماز واجب الاعادہ ہوگی۔ درمختار میں ہے : ” ويسجد للسهو ولو مع سلامه ناويا للقطع لان نية تغيير المشروع لغو مالم يتحول عن القبلة او يتكلم لبطلان التحريمة ولو نسى السهو أوسجدة اصلبية اوتلاوية يلزمه ذلك مادام في المسجد۔ ( باب سجود السهو ج ۲ ص۹۱) واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب کتبــــہ :محمد اشفاق عطاری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی نیپال ۵ جمادی الآخر ۱۴۴۳ھ بروز اتوار
Kutubahu & Verified by:
<h2>سجدہ سہو واجب تھا لیکن بھول کر چھوٹ گیا تو کیا حکم ہے</h2> السلامُ علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیافرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ امام سے نماز میں بھول سے واجبات چھوٹ گئے اب امام نے بھول سے سجدۂ سہو بھی کرنا بھول گیا اور سلام پھیر دیا تو اب کیا کرے نماز پھر سے دہرائے یا کیا کرے تسلی بخش جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں ۔ سائل : ابوالکلام قادری جھارکھنڈ کوڈرما ۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> اگر بھول کر سلام پھیر دیا اور حرمت نماز میں ہے یعنی کوئی ایسی چیز نہیں کی ہے جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔اور سلام پھیرتے ہی فورا اسے یاد آ گیا کہ سجدہ سہو نہیں کیا ہے تو سجدہ سہو کرے پھر تحیات وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے۔ اور اگر حرمت نماز میں نہیں ہے یعنی کوئی ایسا کام کر لیا ہے جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے تو اب نماز واجب الاعادہ ہوگی۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>درمختار میں ہے : " ويسجد للسهو ولو مع سلامه ناويا للقطع لان نية تغيير المشروع لغو مالم يتحول عن القبلة او يتكلم لبطلان التحريمة ولو نسى السهو أوسجدة اصلبية اوتلاوية يلزمه ذلك مادام في المسجد۔</strong></span> ( باب سجود السهو ج ۲ ص۹۱) واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــہ :محمد اشفاق عطاری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی نیپال</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>۵ جمادی الآخر ۱۴۴۳ھ بروز اتوار</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...